

کاشف عباسی ,june 23,2026
سرگودھا (کرائم رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء
سرگودھا کے گنجان آباد علاقے کارخانہ بازار میں سات سالہ معصوم بچی کے بہیمانہ اور لرزہ خیز قتل کے واقعے میں ملوث مرکزی ملزم کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ کاؤنٹر ٹیررازم یا کرائم انویسٹی گیشن سے وابستہ ایک سینیئر سیکیورٹی اہلکار نے مقتدر میڈیا رپورٹس میں تصدیق کی ہے کہ ابتدائی ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج مرکزی ملزم سے سو فیصد میچ کر گئے ہیں، جس کے بعد ملزم نے دورانِ تفتیش معصوم لڑکی کے جنسی استحصال اور اسے بیدردی سے قتل کرنے کا باقاعدہ اعتراف بھی کر لیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق، مقتولہ بچی کے سوگوار والد کی مدعیت میں متعلقہ تھانے میں چار افراد کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم ارسلان کو دھر لیا ہے جبکہ مقدمے میں نامزد دیگر افراد کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا گیا ہے۔ درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق، اس لرزہ خیز واردات میں ایک مقامی کریانہ اسٹور کے مالک سمیت تین افراد کو مبینہ طور پر قتل کی مجرمانہ سازش تیار کرنے اور اس میں معاونت فراہم کرنے کے سنگین الزام کے تحت نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مقتدر مندرجات کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ دکان کے مالک محمد عباس کے ساتھ مقتولہ کے خاندان کی کسی بات پر ہونے والی تلخ کلامی کے بعد پیش آیا۔ الزام ہے کہ مرکزی ملزم ارسلان نے، جو گزشتہ دو سال سے اسی کریانہ اسٹور پر ملازمت کر رہا تھا، دیگر نامزد ملزمان کے ایما اور شہ پر بچی کو اغوا کیا اور قتل سے قبل اسے مبینہ طور پر شدید زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ارسلان کی گرفتاری کے بعد سازش میں ملوث باقی ملزمان سے کڑی تفتیش جاری ہے، اور تفصیلی پوسٹ مارٹم و حتمی فرانزک لیب رپورٹس موصول ہونے کے بعد کیس کو مقتدر عدالت میں چالان کی صورت پیش کیا جائے گا تاکہ معصوم بچی کے خون سے ہولی کھیلنے والے درندوں کو عبرتناک سزا دلائی جا سکے۔