سندھ طاس معاہدے کو سہ فریقی بنا کر چین کو شامل کیا جائے، پانی روکنے کی دھمکی انسانیت کے خلاف جرم ہے، چینی ماہر پروفیسر وکٹر گائو

Spread the love

کاشف عباسی ,june 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

بیجنگ کے مقتدر تھنک ٹینک “سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن” (سی سی جی) کے صدر اور عالمی امور کے نامور ماہر پروفیسر وکٹر گائو نے سندھ طاس معاہدے پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے ایک اہم تزویراتی تجویز پیش کی ہے کہ چین کو بھی اس تاریخی معاہدے کا حصہ بنایا جائے تاکہ اسے ایک مضبوط سہ فریقی فریم ورک کی شکل دی جا سکے۔ منگل کے روز اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سرحد پار دریاؤں کے پائیدار انتظام و انصرام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کی سرپرستی میں ایک جامع بین الاقوامی ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

پروفیسر وکٹر گائو نے اپنے خطاب میں یاد دلایا کہ گزشتہ سال جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کا پانی روکنے کی تزویراتی دھمکی دی تھی، تو انہوں نے خود بھارتی ٹیلی وژن چینلز کو دیے گئے اپنے خصوصی انٹرویوز میں اس جارحانہ موقف کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ امن کے زمانے میں کروڑوں معصوم انسانوں کو پانی جیسی بنیادی نعمت سے محروم کرنے کی دھمکی دینا سراسر ’’انسانیت کے خلاف جرم‘‘ ہے، جبکہ جنگ کے دوران ایسا کوئی بھی اقدام اٹھانا باقاعدہ ’’جنگی جرمکے زمرے میں آتا ہے؛ اسی لیے انہوں نے نئی دہلی کو سختی سے مشورہ دیا تھا کہ وہ اس خطرناک راستے پر چلنے سے باز رہے۔

چینی ماہر نے بھارت کو خطے کے جغرافیائی حقائق کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پاکستان دریائے سندھ کے بہاؤ کے اعتبار سے زیریں (ڈاؤن اسٹریم) ملک ہے، تاہم بھارت بھی اس نظام میں آخری بالائی (اپ اسٹریم) ریاست نہیں ہے کیونکہ دریائے سندھ کا اصل منبع ہمالیائی خطہ (تبت) ہے۔ انہوں نے عظیم چینی فلسفی کنفیوشس کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کو ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے جسے وہ خود اپنے خلاف برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ جب ایک بھارتی ٹی وی اینکر نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ بھارت کو دھمکی دے رہے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ “دوسروں کے ساتھ وہ سلوک نہ کرو جو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے”۔ انہوں نے مقتدر انداز میں واضح کیا کہ چین اور پاکستان کے باہمی احترام پر مبنی اسٹریٹجک تعلقات کا تقاضا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تقدس کو ہر صورت برقرار رکھا جائے اور چین-پاکستان قریبی تعاون کے ذریعے دریائے سندھ کے نظام میں پانی کے بلا تعطل بہاؤ کو یقینی بنایا جائے۔

پروفیسر وکٹر گائو نے اپنے تزویراتی جائزے میں بتایا کہ دنیا کے کم از کم 8 ممالک ایسے ہیں جو سطح مرتفع تبت سے نکلنے والے دریاؤں کے پانی پر انحصار کرتے ہیں، لہٰذا ان تمام ممالک کو مشترکہ طور پر سرحد پار آبی وسائل کے انتظام کے لیے ایک بین الاقوامی ضابطہ اخلاق تشکیل دینا چاہیے۔ خطے کی بدلتی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز حالیہ عرصے میں شدید کشیدگی کا مرکز رہی، تاہم امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی سفارتی معاہدے کے بعد اب یہ اہم بحری گزرگاہ دوبارہ مکمل طور پر کھل چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر پاکستان کے وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل خطے میں امن، استحکام اور سفارتی توازن کے لیے اسی مثبت سمت میں پیش رفت جاری رکھتے ہیں، تو وہ مستقبل میں نوبل امن انعام کے مضبوط ترین امیدوار بن سکتے ہیں۔