شمالی علاقوں، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے ندی نالوں میں پانی کی سطح تیز رفتاری سے بڑھنے کا خدشہ؛ سیاحوں اور مقامی آبادی کو دریاؤں اور پہاڑی راستوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی سخت تاکید، پی ڈی ایم ایز ہائی الرٹ.

Spread the love

کاشف عباسی ,june 28,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ملک بھر میں موسمِ سرما اور گرمی کے بعد پری مون سون بارشوں کے باقاعدہ آغاز کے پیشِ نظر ایک مقتدر اور ہائی پروفائل ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں اور سیاحوں کو انتہائی محتاط رہنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ این ڈی ایم اے کے مقتدر حکام کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، ملک بھر میں 28 جون سے 3 جولائی تک وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ پری مون سون بارشیں متوقع ہیں، جس کے باعث شمالی و پہاڑی علاقوں میں گلیشیئر پگھلنے کی رفتار تیز ہونے، اچانک سیلاب اور خطرناک لینڈ سلائیڈنگ کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے حکام نے میڈیا چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ حالیہ شدید گرمی اور متوقع مقتدر بارشوں کے خطرناک امتزاج کی وجہ سے گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر کے دریاؤں، ندی نالوں اور مقامی آبشاروں میں پانی کے بہاؤ میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر متنبہ کیا کہ پہاڑی خطوں کے غیر مستحکم اور تیزی سے بدلتے ہوئے موسم کی وجہ سے برفانی جھیلیں پھٹنے کے واقعات اور تودے گرنے کے مقتدر خطرات لاحق ہیں۔ اتھارٹی نے ہنزہ، نگر، غذر، اسکردو، شگر، گھانچے، کھرمنگ، استور، دیامر، بالائی و زیریں چترال اور سوات سمیت ہائی رسک والے اضلاع کے مکینوں، مسافروں اور بالخصوص عید و موسمِ گرما کی تعطیلات کے سیاحوں کو انتہائی احتیاط کا مشورہ دیا ہے، کیونکہ موسم کی یہ اچانک تبدیلی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

ایڈوائزری میں عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں اور خطرناک پہاڑی راستوں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے مکمل طور پر گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی یا غیر معمولی صورتحال کی صورت میں مقامی انتظامیہ کو فوراً مقتدر اطلاع دیں۔ کسی بھی ممکنہ آفت یا نقصان سے نمٹنے کے لیے تمام صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز ) کو سخت ترین ہدایات کے ساتھ ہائی الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے تاکہ ہر سطح پر ہنگامی تیاریوں، تیز رفتار ردِعمل کی صلاحیت اور مربوط مقتدر کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ این ڈی ایم اے نے اصرار کیا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ اور املاک کے نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے بروقت احتیاط اور سرکاری حفاظتی مشوروں پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔