

کاشف عباسی ,june 28,026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک اہم تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کسی بھی ملزم کی بریت کا فیصلہ دوہرے قرینہ بے گناہی کا حامل ہوتا ہے، اس لیے اپیل کے دوران ایسے فیصلے کو صرف اسی صورت میں کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے جب قانون یا دستیاب شواہد کی کوئی واضح اور سنگین غلطی ثابت ہو۔ عدالت عظمیٰ نے اسی بنیادی اصول کی بنیاد پر جعلی پاسپورٹ اور سفری دستاویزات کے کیس میں نامزد ملزم الطاف یوسف کی بریت کو مستقل طور پر بحال کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا پرانا فیصلہ یکسر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے دو رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ فوجداری نظامِ انصاف کا بنیادی ترین اصول یہی ہے کہ جرم ثابت ہونے تک ہر شخص بے گناہ تصور کیا جاتا ہے، جبکہ استغاثہ پر یہ بھاری ذمہ داری لازم ہے کہ وہ ملزم کے خلاف عائد تمام الزامات کو ہر قسم کے شک و شبہے سے بالاتر ہو کر ثابت کرے۔
عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اس مخصوص مقدمے میں استغاثہ یہ ثابت کرنے میں مکمل ناکام رہا کہ ملزم کو ان جعلی سفری دستاویزات کے بارے میں پہلے سے کوئی علم تھا یا اس نے دھوکہ دہی اور اس جعل سازی کے عمل میں جان بوجھ کر کوئی معاونت فراہم کی تھی۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ملزم کی جانب سے بطور ٹریول ایجنٹ صرف فضائی ٹکٹ جاری کرنا کسی بھی صورت کسی مجرمانہ سازش یا فراڈ میں ملوث ہونے کا حتمی ثبوت نہیں بنتا۔ سپریم کورٹ نے قانونِ شہادت کی تشریح کرتے ہوئے مزید کہا کہ شریک ملزم کا پولیس کے سامنے دیا گیا کوئی بھی بیان قانون کی نظر میں قابلِ قبول نہیں ہوتا، جبکہ اس شریک ملزم کا بیان ضابطۂ فوجداری کی دفعہ ایک سو چونسٹھ کے تحت کسی مجسٹریٹ کے سامنے بھی ریکارڈ نہیں کرایا گیا تھا، اس لیے ایسے کسی بیان کو ملزم کے خلاف ثبوت کے طور پر ہرگز استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اپنی آبزرویشن میں واضح کیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے بریت کے فیصلے کو کالعدم کرتے وقت کوئی بھی مضبوط قانونی یا حقائق پر مبنی وجہ بیان نہیں کی تھی اور نہ ہی دستیاب شواہد کا کوئی آزادانہ جائزہ لیا تھا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے ریکارڈ کا بالکل درست تجزیہ کرتے ہوئے ملزم کو بری کیا تھا، اس لیے اس مقتدر فیصلے میں مداخلت کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔ عدالت نے اپنے مختصر حکم کی وجوہات بیان کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا سترہ اکتوبر دو ہزار بائیز کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کراچی کی جانب سے اکیس جون دو ہزار چھ کو دیا گیا ملزم الطاف یوسف کی بریت کا اصل فیصلہ بحال کر دیا ہے۔