عرب ممالک کی مداخلت پر امریکا نے ایران پر ممکنہ فوجی حملہ مؤخر کردیا

Spread the love

محمود احمد May19,2026

رپورٹ:نیوز اینڈ نیوز

سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی سفارتی کوششیں کامیاب، صدر ٹرمپ نے ایران سے سنجیدہ مذاکرات جاری رہنے کی تصدیق کردی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران پر ممکنہ فوجی حملہ عرب ممالک کی درخواست پر مؤخر کر دیا ہے، جبکہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے خطے میں جنگ روکنے اور سفارتی حل کو موقع دینے پر زور دیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی منگل کے روز کی منصوبہ بندی کا حصہ تھی، تاہم سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کی درخواست کے احترام میں حملہ روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔

صدر ٹرمپ کے مطابق خلیجی رہنماؤں نے یقین دہانی کرائی کہ ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ ممکن ہے جو خطے کے استحکام اور عالمی امن کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر جاری سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں اور کوئی قابل قبول معاہدہ طے نہ پا سکا تو امریکی افواج ایران کے خلاف جامع فوجی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے اسرائیل کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے اور ایران کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان مسلسل رابطہ برقرار ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور خلیجی ممالک کو یقین ہے کہ ایک معاہدہ ممکن ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایرانی قیادت پر دباؤ بڑھا چکا ہے اور اب فیصلہ کن مرحلہ قریب آ رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے امریکا کو ایک نظرثانی شدہ دستاویز پیش کی ہے، جس میں جنگ بندی، اعتماد سازی اور ممکنہ معاہدے سے متعلق نئی تجاویز شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے بین الاقوامی ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے جبکہ افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کوششوں کے بعد سعودی عرب، قطر اور دیگر خلیجی ممالک نے بھی سرگرم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں کشیدگی میں وقتی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جنگ کی صورت میں صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک اور تباہ کن ہو سکتی ہے۔

ادھر ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا ہے جبکہ امریکا بھی خلیج میں اپنی بحری اور فضائی موجودگی مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ اس وقت انتہائی حساس مرحلے سے گزر رہا ہے اور آنے والے دن خطے کی صورتحال کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔