

منصور احمد june 22,2026
اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء
وفاقی حکومت نے ملک بھر میں جاری فیول سبسڈی پروگرام کو یکسر ختم کرنے کا ایک بڑا تزویراتی فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت اب موٹر سائیکل سواروں، چھوٹے کسانوں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو رعایتی نرخوں پر پٹرول اور ڈیزل فراہم نہیں کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق، ایندھن کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے تناظر اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی حتمی منظوری کے بعد، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت قومی اسٹیئرنگ کمیٹی کے ساتویں مقتدر اجلاس میں اس فیصلے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے دوران تمام صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں فیول سبسڈی کے خاتمے کی توثیق کی گئی۔
دوسری جانب، پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع نے پٹرول اور ڈیزل پر عائد مروجہ ٹیکسز کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں مجموعی طور پر 29 فیصد ٹیکس شامل ہے، جو کہ رقم کی صورت میں 88 روپے 7 پیسے بنتا ہے۔ اس میں 19 روپے 32 پیسے کسٹم ڈیوٹی، 66 روپے 25 پیسے پیٹرولیم لیوی اور 2 روپے 50 پیسے کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 29 فیصد ٹیکسز شامل ہیں جن کا حجم 91 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہے، جس میں 15 روپے 68 پیسے کسٹم ڈیوٹی، 72 روپے 97 پیسے لیوی اور 2 روپے 50 پیسے کلائمٹ سپورٹ لیوی نافذ کی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی نئی شرح کا مقتدر نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جو 20 جون 2026ء سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، عام صارفین کو ریلیف دینے کے لیے پٹرول پر ڈیولپمنٹ لیوی 40.49 روپے کم کر کے 106.74 روپے سے سیدھی 66.25 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ تاہم، دوسری جانب حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی میں 19.71 روپے فی لیٹر کا بھاری اضافہ کر دیا ہے، جس سے ڈیزل پر لیوی 53.26 روپے سے بڑھ کر 72.97 روپے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ علاوہ ازیں، ہائی آکٹین پر پیٹرولیم لیوی میں 214.49 روپے کی ریکارڈ کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس پر عائد لیوی 305.74 روپے سے کم ہو کر 91.25 روپے فی لیٹر رہ گئی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، ڈیزل پر لیوی بڑھنے سے ملکی مال برداری اور زراعت پر براہِ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔