

محمود احمد May19,2026
حکومتی اصلاحات اور نئے منصوبوں کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے، قومی ہاکی میں نئی روح پھونک دی گئی
نیوز اینڈ نیوز : رپورٹ
لاہور: حکومتِ پاکستان اور وزیرِ اعظم کی خصوصی ہدایات کے تحت پاکستان ہاکی فیڈریشن میں کی گئی اصلاحات اور تنظیمِ نو کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے بعد قومی کھیل ہاکی ایک بار پھر بحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مطابق حالیہ مہینوں میں کئی اہم کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں، جنہوں نے شائقینِ ہاکی میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔ اسلام آباد میں طویل عرصے بعد قومی انڈر اٹھارہ ہاکی ٹورنامنٹ کا کامیاب انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے پندرہ ٹیموں نے شرکت کی۔
فیڈریشن کے اعلامیے کے مطابق قومی ہاکی ٹیم نے قاہرہ میں منعقدہ عالمی کپ کوالیفائنگ مقابلوں کے فائنل تک رسائی حاصل کر کے برسوں بعد عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کیا، جسے قومی ہاکی کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
قومی ہاکی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ملک کے نامور اولمپئنز اور سابق ہاکی ستاروں کو اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ ان میں اصلاح الدین صدیقی، سمیع اللہ خان، حسن سردار، منظور سینئر، خواجہ جنید، ایاز محمود، قمر ابراہیم، ریحان بٹ، شکیل عباسی، کاشف جواد، ڈاکٹر عاطف بشیر، ناصر علی اور نعیم اختر شامل ہیں، جو سینئر، جونیئر اور انڈر اٹھارہ ٹیموں کی کوچنگ اور سلیکشن کے امور انجام دے رہے ہیں۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مطابق قاہرہ کوالیفائرز، جاپان میں جونیئر ایشیا کپ، انگلینڈ اور بیلجیئم میں پرو لیگ جبکہ نیدرلینڈز میں ہونے والے عالمی کپ کی تیاریوں کے لیے خصوصی فنڈز اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ پہلی مرتبہ بین الاقوامی دوروں کے دوران کھلاڑیوں اور آفیشلز کا یومیہ الاؤنس بڑھا کر ایک سو دس ڈالر کر دیا گیا ہے تاکہ کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود اور عزتِ نفس کو یقینی بنایا جا سکے۔
ہاکی کے فروغ کے لیے ملک گیر اسکول ہاکی پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت آئندہ تین ماہ میں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے پانچ سو اسکولوں کو ہاکی کٹس فراہم کی جائیں گی تاکہ نوجوان کھلاڑی دستیاب سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔
فیڈریشن کے مطابق قومی کیمپس میں جدید فٹنس ٹریننگ، بہتر غذا، نظم و ضبط اور ویڈیو تجزیاتی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان ہاکی ٹیم عالمی سطح پر دوبارہ مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکے۔
ترجمان پاکستان ہاکی فیڈریشن کا کہنا ہے کہ اگرچہ چند ماہ میں معجزے ممکن نہیں، تاہم اگلے دو برسوں کا منصوبہ قومی ہاکی کو درست سمت میں لے جا رہا ہے اور مستقبل میں مزید مثبت نتائج سامنے آئیں گے