لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ؛ والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی بیٹی کی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد

Spread the love

کاشف عباسی , JULY 06,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

لاہور ہائیکورٹ نے والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی ایک بیٹی کی درخواست کو قانونی طور پر ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مستقل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ کے معزز جج جسٹس جواد ظفر نے درخواست گزار ایمان فاطمہ کی جانب سے دائر کردہ اپیل پر تفصیلی سماعت کی، جس میں تحفظِ امن کے عہدیدار (جسٹس آف پیس) کی جانب سے والدین پر مقدمے کے اندراج کی درخواست مسترد کیے جانے کے پرانے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

مقتدر عدالتی کارروائی کے دوران درخواست گزار ایمان فاطمہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ اپنے خاوند سے شدید ناچاقی اور لڑائی جھگڑے کے بعد وہ عارضی طور پر اپنے والدین کے گھر منتقل ہو گئی تھی اور اس کٹھن دورانئے میں اس نے اپنے شوہر سے جہیز اور قیمتی زیورات کی واپسی کے لیے فیملی کورٹ میں ایک مقدمہ بھی دائر کیا تھا۔ تاہم، بعد ازاں دونوں فریقین اور میاں بیوی میں باقاعدہ صلح ہو گئی، جس کے بعد وہ دوبارہ اپنے خاوند کے گھر جا کر ہنسی خوشی رہنے لگی۔ درخواست گزار کے مطابق اس صلح کے بعد جب وہ اپنے والدین کے گھر سے اپنے زیورات واپس لینے گئی تو انہوں نے زیورات لوٹانے سے صاف انکار کر دیا۔ اسی تنازع پر تحفظِ امن کے عہدیدار نے دس جون دو ہزار چھبیس کو والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی بیٹی کی پہلی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔ ہائیکورٹ میں دائر اس نئی درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ نچلی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر والدین کے خلاف چوری یا امانت میں خیانت کا مقدمہ درج کرنے کا مقتدر حکم جاری کیا جائے۔

لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج نے وکلاء کے تفصیلی دلائل سننے اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد درخواست گزار ایمان فاطمہ کی اپنے ہی والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی اس استدعا کو قانون کے مقتدر اصولوں کے منافی اور ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا اور نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔