مالی سال کے اختتام پر پاکستان کی معیشت نے گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح نمو حاصل کر لی، ملکی معیشت کا حجم چار سو باون اعشاریہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ گیا، وزارتِ خزانہ

Spread the love

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وزارتِ خزانہ نے ملکی معیشت کے حوالے سے مقتدر اور انتہائی مثبت اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے اختتام پر پاکستان کی معیشت نے گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح نمو حاصل کرتے ہوئے تین اعشاریہ سات فیصد کی رفتار سے ترقی کی ہے، جبکہ ملکی معیشت کا مجموعی حجم بڑھ کر چار سو باون اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ جون 2026ء کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق، سال کے آغاز میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور عالمی مارکیٹ میں اجناس کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باوجود حکومت نے بہترین تزویراتی حکمتِ عملی سے معاشی استحکام برقرار رکھا، جس کی بدولت زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں مجموعی طور پر شاندار ترقی کا رجحان دیکھنے میں آیا اور ملک کی اوسط مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں رہتے ہوئے مقررہ ہدف کے اندر برقرار رہی۔

رپورٹ کے مطابق جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران سخت مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں ریکارڈ اضافے اور صوبائی سرپلس کی بدولت مالیاتی خسارے میں واضح کمی آئی، جبکہ بنیادی مالیاتی سرپلس جی ڈی پی کے تین اعشاریہ پانچ فیصد تک پہنچ گیا۔ وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ بیرونی شعبے کی کارکردگی بھی انتہائی مستحکم رہی جس میں سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر، آئی ٹی برآمدات، مستحکم شرح مبادلہ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کے باعث جولائی تا مئی مالی سال 2025-26 کے دوران ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ دو سو پچپن ملین ڈالر سرپلس میں رہا۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کے عالمی مالیاتی ادارے کے پروگراموں پر کامیاب عمل درآمد، اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں فچ اور موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں مقتدر بہتری کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں پاکستان نے چار سال بعد کامیاب یورو بانڈ جاری کیا، پانڈا بانڈ متعارف کرایا جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای-100 انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو کر ایشیا کی تیز ترین ترقی کرتی ہوئی مارکیٹوں میں شامل ہو گیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ زرعی شعبے نے سیلاب کے شدید نقصانات کے باوجود مالی سال 2025-26 میں دو اعشاریہ نو فیصد ترقی کی جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے اس شعبے کی شرح نمو کا تزویراتی ہدف تین اعشاریہ چھ فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب بڑے پیمانے کی صنعت نے جولائی تا اپریل کے دوران چھ اعشاریہ چار فیصد کی شاندار ترقی ریکارڈ کی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں اس شعبے میں ایک اعشاریہ پانچ فیصد کی منفی کمی ہوئی تھی۔ مہنگائی کے حوالے سے بتایا گیا کہ مئی 2026ء میں مہنگائی کی سالانہ شرح گیارہ اعشاریہ سات فیصد رہی جبکہ جولائی تا مئی کے دوران اوسط مہنگائی محض چھ اعشاریہ سات فیصد ریکارڈ کی گئی۔ وفاقی محصولات جولائی تا اپریل کے دوران پانچ اعشاریہ اٹھ فیصد اضافے کے ساتھ آٹھ ہزار چھ سو ایک ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں جولائی تا مئی کے دوران نو اعشاریہ سات فیصد اضافے سے گیارہ ہزار دو سو اٹھائیس اعشاریہ اٹھ ارب روپے رہیں۔ اسی عرصے میں مجموعی حکومتی اخراجات میں نو اعشاریہ نو فیصد کی نمایاں کمی آئی جس کی بڑی وجہ سود کی ادائیگیوں میں اکیس اعشاریہ نو فیصد کی ریکارڈ کمی تھی۔

وزارتِ خزانہ کے مقتدر تجزیے کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں جاری امن کوششوں کے باعث جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نرمی سے درآمدی مہنگائی اور تیل کے درآمدی بل میں واضح کمی آئے گی، جبکہ جون 2026ء کے دوران مہنگائی گیارہ سے بارہ فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ وزارتِ خزانہ نے پرامید انداز میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کی معیشت آئندہ بھی ترقی کی یہ شاندار رفتار برقرار رکھنے کی بھرپور تزویراتی صلاحیت رکھتی ہے؛ بڑے پیمانے کی صنعت، زرعی شعبے کی جاندار کارکردگی، مضبوط بیرونی کھاتوں، سخت مالیاتی نظم و ضبط اور بہتر معاشی اشاریوں کے باعث ملک کا معاشی استحکام مستقبل میں مزید مضبوط اور پائیدار ہوگا۔