

کاشف عباسی ,May 11 ,2026
:واشنگٹن / اسلام آباد نیوز اینڈ نیوز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی تنازع کے خاتمے کے لیے ایران کی جانب سے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بھیجے گئے جواب کو “مکمل طور پر ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جس کے بعد خطے میں سفارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے ایران کے نام نہاد نمائندوں کا جواب پڑھ لیا ہے، لیکن یہ انہیں بالکل پسند نہیں آیا۔ انہوں نے اسے “TOTALLY UNACCEPTABLE” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ ایران کی شرائط قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے اپنے جواب میں لبنان میں جاری جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ اور خطے میں دشمنی کم کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ پابندیوں میں نرمی اور ایٹمی تنازع جیسے حساس معاملات کو بعد کے مرحلے کے لیے مؤخر رکھنے کی تجویز دی گئی۔
اسلام آباد میں معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ “ایران کا جواب موصول ہو چکا ہے”۔ وزیراعظم نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی واضح کیا کہ مذاکرات کا مطلب “ہتھیار ڈالنا یا پسپائی اختیار کرنا نہیں” بلکہ برابری اور احترام کی بنیاد پر مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے عسکری قیادت سے اہم ملاقات کی، جبکہ امریکی اتحادیوں کو مختلف مقامات پر ڈرون حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ تہران کا “صبر ختم ہو چکا ہے” اور مسلسل جنگ بندی خلاف ورزیوں کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
ادھر قطر کے وزیراعظم نے واشنگٹن میں اہم ملاقاتوں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے خطے میں جاری سفارتی کوششوں اور امن کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔