پام وسٹا ہاؤسنگ اسکینڈل کا مرکزی ملزم متحدہ عرب امارات سے گرفتار، پاکستان حوالگی کی تیاری شروع

Spread the love

کاشف عباسی ,May 23 ,2026

لاہور/ نیوز اینڈ نیوز

: اربوں روپے کے پام وسٹا ہاؤسنگ اسکینڈل میں مطلوب مرکزی ملزم محمد قاسم خان کو متحدہ عرب امارات میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتاری انٹرپول، پاکستانی حکام اور متحدہ عرب امارات کی متعلقہ ایجنسیوں کے باہمی تعاون سے عمل میں آئی، جبکہ ملزم کو ابوظہبی میں حراست میں لے کر مقامی حکام کے سامنے پیش کیا گیا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کے مطابق محمد قاسم خان ایک بڑے مالیاتی اور ہاؤسنگ فراڈ کیس میں مطلوب تھا، جس میں شہریوں کو جعلی ہاؤسنگ منصوبے، منافع کے جھوٹے وعدوں اور غیرقانونی پلاٹوں کی فروخت کے ذریعے اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد اس کی بیرونِ ملک نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی تھی۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے ملزم کی حوالگی کے لیے باضابطہ قانونی دستاویزات طلب کر لی ہیں تاکہ اسے پاکستانی حکام کے حوالے کیا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور قانونی رابطے تیز کر دیے گئے ہیں اور جلد حوالگی کا عمل مکمل ہونے کا امکان ہے۔

نیب حکام کے مطابق پام وسٹا ہاؤسنگ اسکینڈل میں کم از کم 295 متاثرین سامنے آئے، جنہیں مجموعی طور پر ایک ارب 40 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔ متاثرین کا مؤقف ہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے پاس محدود اراضی ہونے کے باوجود سینکڑوں اضافی پلاٹ فروخت کیے گئے، جبکہ سرمایہ کاری پر غیرمعمولی منافع کے لالچ دے کر شہریوں سے بھاری رقوم وصول کی گئیں۔

متاثرین نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے ایک منظم پونزی اسکیم کے تحت لوگوں کو سرمایہ کاری پر منافع کی ادائیگی کے وعدے کیے، تاہم بعد ازاں منصوبہ بند طریقے سے رقم لے کر غائب ہو گئے۔ متعدد متاثرہ شہری گزشتہ دو برس سے نیب لاہور کے باہر احتجاج اور انصاف کے مطالبات کرتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پام وسٹا ہاؤسنگ اسکیم کے دو دیگر ڈائریکٹرز محمود طارق اور عامر عظیم کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ محمد قاسم خان بیرونِ ملک سے مبینہ طور پر اپنے نیٹ ورک کو چلا رہا تھا۔

نیب لاہور کے ایک سینئر پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے قانونی تعاون اور انٹرپول کے مؤثر کردار کے باعث مالیاتی جرائم میں ملوث افراد کے لیے بیرونِ ملک پناہ لینا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق پنجاب بھر میں جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور سرمایہ کاری فراڈ کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جا رہا ہے۔