پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے کوئی مخصوص ٹائم لائن نہیں دی جا سکتی، میرٹ اور کارکردگی پر مبنی طویل مدتی اصلاحات کے نتائج وقت کے ساتھ آئیں گے، ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید کی پریس کانفرنس

Spread the love

منصور احمد june 19,2026

لاہور (خصوصی اسپورٹس رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے قومی کرکٹ کے ڈھانچے اور کارکردگی کے حوالے سے میڈیا کو مطلع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ کی مجموعی بہتری اور بحالی کے لیے کوئی بھی مخصوص یا جادوئی ٹائم لائن نہیں دی جا سکتی، قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق مقتدر فاسٹ بولر عاقب جاوید نے سچائی پر مبنی دوٹوک گفتگو کی اور کہا کہ یہ کہنا سراسر غیر حقیقت پسندانہ اور ناانصافی ہوگا کہ چند ماہ کی مختصر محنت کے بعد قومی ٹیم آٹھ کھڑی ہوگی اور دنیا کی کوئی ٹیم اسے کبھی شکست نہیں دے سکے گی، ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کے نظام میں بہتری لانا ایک طویل مدتی اور مسلسل عمل ہے جس کے سٹرٹیجک نتائج بتدریج وقت کے ساتھ ہی سب کے سامنے آئیں گے۔

عاقب جاوید نے پی سی بی کی نئی حکمتِ عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی سی بی کی خصوصی ہدایت پر کھلاڑیوں کی سلیکشن کے پورے نظام میں انقلابی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، اب سلیکشن کے عمل کو 100 فیصد شفاف اور صرف میرٹ پر مبنی بنانا کرکٹ بورڈ کی اولین ترجیح ہے تاکہ ماضی کی خامیوں کو دور کیا جا سکے، انہوں نے واضح کیا کہ اب قومی ٹیم میں سفارش یا نام کے بجائے صرف وہی کھلاڑی گرین شرٹ پہننے کا حقدار ٹھہرے گا جو ڈومیسٹک اور بین الاقوامی سطح پر مستقل بنیادوں پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا، عاقب جاوید کے مطابق ڈومیسٹک کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے (اسٹرکچر) میں بھی 3 بڑے فارمیٹس کے لحاظ سے تبدیلیاں کی گئی ہیں اور قومی سطح پر ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لیے مختلف نئی کیٹیگریز بنا دی گئی ہیں۔

ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس نے پریس کانفرنس میں مزید صراحت کی کہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی 20 فارمیٹس کی جدید سفارتی و عسکری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اب ہر فارمیٹ کے لیے بالکل الگ الگ فٹنس اور تکنیکی معیار (کرائٹیریا) مقرر کر دیے گئے ہیں تاکہ ہمارے کھلاڑی اپنی منفرد صلاحیتوں کے مطابق خود کو بین الاقوامی چیلنجز کے لیے تیار کر سکیں، عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ اس نئے اور کڑے نظام کی بدولت اب ہر ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی کو پہلے دن سے ہی یہ واضح اندازہ ہوگا کہ قومی الیون میں مستقل جگہ بنانے کے لیے اسے اپنے کھیل کے کن مخصوص شعبوں میں مزید سخت محنت اور تکنیکی بہتری لانے کی ضرورت ہے، انہوں نے کرکٹ فینز سے صبر کی اپیل کرتے ہوئے قوی امید ظاہر کی کہ میرٹ، شفافیت اور مخلصانہ پالیسیوں کے یہ مثبت عسکری اثرات مستقبل قریب میں پاکستان کرکٹ کی مجموعی اور پائیدار بحالی کی صورت میں لازمی نظر آئیں گے۔