

منصور احمد ,May 19,2026
رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز
اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ، معاشی اہداف اور میکرو اکنامک فریم ورک پر مذاکرات جاری ہیں، تاہم دونوں فریقین کے درمیان کئی اہم امور پر اختلافات برقرار ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے وفاقی اور صوبائی سطح پر مزید ٹیکس وصولی کے اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے صوبوں کو آئندہ مالی سال کے دوران ریونیو میں تقریباً 40 فیصد اضافے کی ہدایت کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومتوں کے لیے زراعت، پراپرٹی، سروسز اور دیگر شعبوں سے تقریباً 400 ارب روپے اضافی ٹیکس جمع کرنے کا ہدف زیر غور ہے۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 4.1 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ آئی ایم ایف کا تخمینہ ہے کہ معاشی شرح نمو 3.5 فیصد تک محدود رہ سکتی ہے۔ رواں مالی سال حکومت نے 4.2 فیصد گروتھ ہدف مقرر کیا تھا، تاہم معاشی کارکردگی 3.7 فیصد رہی۔
حکومتی تخمینوں کے مطابق آئندہ مالی سال میں اوسط مہنگائی 8.6 فیصد رہنے کا امکان ہے، تاہم حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں پرائمری سرپلس کا ہدف جی ڈی پی کے 2 فیصد کے مساوی رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
اقتصادی حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے ایک فیصد، یعنی تقریباً 4 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ درآمدات کا حجم 70 ارب ڈالر تک جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو تجارتی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت آئندہ مالی سال میں بھی معیشت کو سہارا دینے کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر پر انحصار جاری رکھے گی، جن کے 42 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔