خیبرپختونخوا کے 23 اضلاع میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا آغاز، 46 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے

Spread the love

رپورٹ : ( نیوز اینڈ نیوز) پشاور: خیبرپختونخوا میں پولیو کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر خصوصی انسدادِ پولیو مہم شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ایمرجنسی آپریشنز سنٹر خیبرپختونخوا کے مطابق صوبے کے 23 مخصوص اضلاع میں یہ مہم چلائی جائے گی، جس کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے 46 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

حکام کے مطابق مہم کا مقصد صوبے کے حساس اور زیادہ خطرات والے علاقوں میں بچوں کو پولیو وائرس سے محفوظ بنانا اور بیماری کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان مکمل رابطہ اور تعاون جاری ہے۔

ایمرجنسی آپریشنز سنٹر کے مطابق یہ خصوصی مہم بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے تمام اضلاع میں چلائی جائے گی، جبکہ ضلع ایبٹ آباد، تورغر، اپر کوہستان، لوئر کوہستان، کولائی پالس، باجوڑ، دیر لوئر، مہمند، مردان، نوشہرہ، پشاور، خیبر، کوہاٹ، ہنگو، کرم اور کرک بھی اس مہم میں شامل ہیں۔

حکام نے بتایا کہ ضلع پشاور اور ضلع خیبر میں انسدادِ پولیو مہم سات روز تک جاری رہے گی، جبکہ دیگر اضلاع میں یہ مہم چار دن تک جاری رکھی جائے گی تاکہ ہر بچے تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

انسدادِ پولیو مہم کو مؤثر اور کامیاب بنانے کے لیے 22 ہزار 450 تربیت یافتہ پولیو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی۔ اس کے علاوہ مہم کے دوران پولیو ورکرز کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے تقریباً 35 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

صوبائی حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولیو ایک خطرناک مگر قابلِ تدارک بیماری ہے اور مشترکہ کوششوں سے ہی اس کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔