

منصور احمد, JULY 30,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک کے فوجداری نظامِ عدل، تعزیراتِ پاکستان کی تشریح اور قتلِ عمد کے مقدمات کی درجہ بندی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم، دور رس اور جامع قانونی اصول قائم کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے سنگِ میل فیصلے میں صراحت کے ساتھ قرار دیا ہے کہ اگر کسی بھی قتل کا ناخوشگوار واقعہ فریقین کے درمیان کسی دیرینہ و طویل دشمنی، سابقہ منصوبہ بندی یا ثابت شدہ قانونی و حتمی محرک کے بغیر محض موقع پر اچانک پیدا ہونے والی شدید اشتعال انگیزی یا کشیدگی کی کیفیت میں پیش آئے، تو ایسے مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی سخت ترین دفعہ 302(بی) کے تحت سزا دینے کے بجائے نسبتاً معتدل اور حالات کی مطابقت رکھنے والی دفعہ 302(سی) کا قانونی اطلاق کیا جانا بالکل جائز اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس اہم طے شدہ قانونی اصول کا اطلاق کرتے ہوئے ایک نوعمر ملزم محمد ناصر حسین کی جانب سے دائر کردہ جیل پٹیشن کو باقاعدہ اپیل میں تبدیل کیا اور اسے جزوی طور پر منظور کر لیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزم کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کو باضابطہ طور پر منسوخ اور ختم کرتے ہوئے اسے 14 سال قید با مشقت کی سزا میں تبدیل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی جانب سے تحریر کردہ اس اہم اور تفصیلی فیصلے میں کیس کے تمام شواہد، قانونی پہلوؤں اور استغاثہ کے دلائل کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔
مقدمے کے باقاعدہ ریکارڈ اور استغاثہ کے مطابق یہ ناخوشگوار واقعہ سال 2018ء میں خانیوال کی تحصیل میان چنوں کی حدود میں پیش آیا تھا، جہاں ایک شدید گھریلو تنازع اور تکرار کے دوران اس وقت کے نوعمر و نابالغ ملزم نے چاقو کے دو پے در پے وار کر کے مقتول ظہور احمد کو شدید زخمی کر دیا تھا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا تھا۔ واقعے کے بعد مقامی ٹرائل کورٹ نے تمام تر سماعت کے بعد ملزم محمد ناصر حسین کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(بی) کے تحت قصوروار ٹھہراتے ہوئے عمر قید اور دو لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں اپیل دائر کیے جانے پر لاہور ہائیکورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو بالکل درست قرار دیتے ہوئے عمر قید کی اس سزا کو برقرار رکھا تھا، جس کے خلاف ملزم نے جیل کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگرچہ عینی شاہدین کی گواہی اور طبی معائنے کی رپورٹس سے ملزم کی جانب سے چاقو کے مہلک وار کا ارتکاب ثابت ہوتا ہے، تاہم کیس کے مجموعی عدالتی ریکارڈ کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں اور واضح ہے کہ فریقین کے مابین کوئی پرانی یا دیرینہ دشمنی سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ استغاثہ اپنے پیش کردہ مبینہ محرک کو بھی معقول اور ٹھوس شواہد کے ذریعے ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے اور یہ واضح ہوتا ہے کہ پورا واقعہ اچانک پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے نتیجے میں رونما ہوا۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلہ کن مشاہدے میں لکھا کہ ملزم، جو کہ جرم کے ارتکاب کے وقت قانونی طور پر نابالغ اور کم عمر تھا، اپنی والدہ کو مقتول کے ساتھ تلخ کلامی اور جھگڑتے ہوئے دیکھ کر شدید جذباتی و نفسیاتی صدمے اور اچانک اشتعال کا شکار ہو گیا۔ ملزم نے اس لمحے اپنا آپے سے باہر ہو کر ذہنی توازن کھو دیا اور کسی سابقہ سوچ یا منصوبہ بندی کے بغیر فوراً چاقو سے حملہ کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ محض ایک اچانک حادثاتی کشیدگی کا نتیجہ ہے، لہٰذا یہ ‘قتلِ عمد’ کی وہ سخت ترین قانونی صورت نہیں بنتی جس پر دفعہ 302(بی) کا اطلاق کیا جا سکے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ یہ مقدمہ قانوناً دفعہ 302(سی) کی تمام تر چاروں حدود و قیود میں پورا اترتا ہے، اسی بنا پر ملزم کی عمر قید کی سزا ختم کر کے 14 سال قید بامشقت تجویز کی جاتی ہے، جبکہ دو لاکھ روپے ہرجانہ، عدم ادائیگی پر اضافی قید اور ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 382-بی (جس کے تحت جیل میں گزاری گئی سابقہ مدت سزا میں شمار ہوتی ہے) کا فائد بحال رکھا گیا ہے۔