

منصور احمد ,May 22,2026
پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا، سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا
اسلام آباد: نیوز اینڈ نیوز
: ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس حوالے سے کسی قسم کا باضابطہ یا غیر رسمی مطالبہ نہیں کیا گیا۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور تمام معاملات سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے پاکستان مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم فضائی حدود سے متعلق زیر گردش اطلاعات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
ترجمان نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں کسی بھی فریق کے لیے یکطرفہ طور پر معاہدہ ختم کرنے کی کوئی شق موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کے لیے واضح قانونی طریقہ کار موجود ہے اور پاکستان نے انہی اصولوں کے تحت عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا۔ ترجمان کے مطابق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے نے بھارت کے مغربی دریاؤں پر آبی کنٹرول کی حدود کو واضح کر دیا ہے اور پاکستان اس فیصلے کو حتمی اور دونوں ممالک کے لیے لازمی قرار دیتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت سندھ طاس معاہدے کے تحت پیدا ہونے والے تنازعات کے حل کے لیے قائم کی گئی ہے اور پاکستان بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے مؤقف کا دفاع جاری رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “رن آف دی ریور” منصوبوں کو بھارت کے یکطرفہ مؤقف کے مطابق نہیں دیکھا جا سکتا اور پاکستان عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کو اطمینان بخش سمجھتا ہے۔
بریفنگ کے دوران ترجمان نے وزیراعظم شہباز شریف کے آئندہ دورۂ چین کی بھی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم 23 سے 26 مئی تک چین کا دورہ کریں گے جہاں وہ چینی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی صورتحال اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہریوں کی مبینہ بے دخلی سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اس حوالے سے گردش کرنے والے اعداد و شمار مبالغہ آمیز اور گمراہ کن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے اور چند ہزار افراد کی واپسی کو مجموعی صورتحال کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط اور دوستانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔
بھارت میں پاکستانی پنکھے کی مبینہ دریافت سے متعلق سوال پر ترجمان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ دعویٰ بھی “پاکستانی کبوتر” جیسے پرانے اور بے بنیاد الزامات کی ایک نئی شکل ہے، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔