پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان سخت معاشی پالیسیوں پر اتفاق

Spread the love

کاشف عباسی ,May 22 ,2026

اسلام آباد: نیوز اینڈ نیوز

نئے مالی سال میں دو فیصد بنیادی بجٹ سرپلس ہدف برقرار رکھنے کا فیصلہ، مزید ٹیکس اقدامات متوقع

اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ اور معاشی حکمتِ عملی پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں فریقین نے سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور عالمی مالیاتی ادارہ معیشت کو مستحکم بنانے، مالی خسارہ کم کرنے اور ٹیکس نظام کو مزید وسعت دینے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر کام کر رہے ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے کے وفد نے 13 مئی سے 20 مئی تک اسلام آباد کا دورہ کیا، جس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی قومی پیداوار کے دو فیصد کے برابر بنیادی بجٹ سرپلس برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق یہ ہدف مالیاتی استحکام اور معیشت کی مضبوطی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان بتدریج مالیاتی نظم و ضبط کو مزید سخت کرے گا، جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع بنانے، ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر کرنے، غیر ضروری اخراجات کم کرنے اور وفاقی و صوبائی سطح پر مالیاتی نظم و نسق کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مجموعی طور پر 860 ارب روپے سے زائد اضافی ریونیو اکٹھا کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے لیے تقریباً 15 ہزار 264 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بجٹ مذاکرات کے دوران ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے کی بہتری، سرکاری اخراجات میں کمی اور معاشی اصلاحاتی پروگرام پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ دونوں فریقین نے حالیہ معاشی اشاریوں اور اصلاحات پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم آئندہ مالی سال کے مکمل بجٹ خدوخال پر ابھی حتمی اتفاق نہیں ہو سکا۔

ذرائع کے مطابق بجٹ سے متعلق مزید مذاکرات آئندہ چند روز میں آن لائن ذرائع کے ذریعے جاری رہیں گے تاکہ تمام مالیاتی اہداف اور پالیسی معاملات کو حتمی شکل دی جا سکے۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ سخت مالیاتی پالیسی اور ٹیکس اصلاحات کے باعث حکومت کو مہنگائی، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم معاشی استحکام اور بیرونی مالیاتی اعتماد کے لیے یہ اقدامات ضروری تصور کیے جا رہے ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے محصولات میں اضافے، مالیاتی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی اصلاحات پر مسلسل توجہ دینا ہوگی تاکہ طویل المدتی اقتصادی بہتری ممکن بنائی جا سکے۔