ایشیا پیسیفک خطے میں سائبر حملوں میں خطرناک اضافہ، اداروں کے لیے بڑا خطرہ پیدا ہوگیا

Spread the love

منصور احمد ,May 22,2026

تاوان کی غرض سے کیے جانے والے سائبر حملوں میں ایشیا پیسیفک دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ خطہ قرار

اسلام آباد: نیوز اینڈ نیوز

عالمی سائبر سکیورٹی کمپنی کیسپرسکی کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2025 کے دوران ایشیا پیسیفک خطہ تاوان کی غرض سے کیے جانے والے سائبر حملوں کا بڑا مرکز بن کر سامنے آیا، جہاں ہزاروں ادارے جدید رینسم ویئر حملوں سے متاثر ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق لاطینی امریکہ کے بعد ایشیا پیسیفک دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ خطہ رہا۔

کیسپرسکی سکیورٹی نیٹ ورک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں لاطینی امریکہ کے 8 اعشاریہ 13 فیصد ادارے رینسم ویئر حملوں کا شکار بنے، جبکہ ایشیا پیسیفک خطے میں یہ شرح 7 اعشاریہ 89 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ افریقہ 7 اعشاریہ 62 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ، سی آئی ایس ممالک اور یورپ میں بھی سائبر حملوں کی نمایاں شرح دیکھی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں برس سائبر جرائم پیشہ گروہوں نے حملوں کے نئے اور زیادہ خطرناک طریقے اختیار کیے۔ ماہرین کے مطابق اب حملہ آور صرف کمپیوٹر سسٹمز لاک کرنے تک محدود نہیں رہے بلکہ حساس معلومات چرا کر انہیں لیک کرنے کی دھمکیاں دے کر اداروں کو بلیک میل کر رہے ہیں۔

کیسپرسکی کے سائبر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ رینسم ویئر گروپس مصنوعی ذہانت اور جدید خودکار ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے اپنے حملوں کو مزید پیچیدہ اور مؤثر بنا رہے ہیں، جس کے باعث مستقبل میں سائبر سکیورٹی اداروں کے لیے ان خطرات سے نمٹنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ “کلرز ای ڈی آر” نامی خطرناک ٹولز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو سکیورٹی سسٹمز کو غیر فعال کرکے رینسم ویئر حملوں کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے ٹولز اداروں کے دفاعی نظام کو خاموشی سے ناکارہ بنا دیتے ہیں، جس کے بعد حملہ آور حساس ڈیٹا تک آسانی سے رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔

کیسپرسکی نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ ٹیلیگرام چینلز اور ڈارک ویب فورمز اب بھی چوری شدہ معلومات، لاگ اِن تفصیلات اور خفیہ ڈیٹا کی خرید و فروخت کے بڑے مراکز بنے ہوئے ہیں، جہاں سائبر جرائم پیشہ عناصر عالمی سطح پر سرگرم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں سب سے زیادہ متحرک رینسم ویئر گروپ “قایلن” رہا، جبکہ “کلاپ” دوسرے اور “اکیرا” تیسرے نمبر پر موجود رہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2026 میں “جینٹلمین” نامی نیا گروپ عالمی سائبر سکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

کیسپرسکی کے لیڈ سکیورٹی ریسرچر فیبیو ایسولینی نے کہا کہ رینسم ویئر اب ایک منظم مجرمانہ صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں حملہ آور جدید ٹیکنالوجی، چوری شدہ معلومات اور خودکار نظاموں کی مدد سے بڑے پیمانے پر حملے کر رہے ہیں۔ انہوں نے اداروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بیک اپ سسٹمز کو محفوظ بنائیں، جدید سکیورٹی سافٹ ویئر استعمال کریں اور ملازمین کی سائبر آگاہی پر خصوصی توجہ دیں۔

کیسپرسکی نے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ تمام کمپیوٹر سسٹمز اور سافٹ ویئر کو مسلسل اپ ڈیٹ رکھا جائے، جدید اینٹی رینسم ویئر ٹولز استعمال کیے جائیں اور سکیورٹی ٹیموں کی پیشہ ورانہ تربیت یقینی بنائی جائے تاکہ بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔