حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کر دی

Spread the love

محمود احمد May22,2026

پٹرول 6 روپے اور ڈیزل 6 روپے 80 پیسے سستا، نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگا

لاہور : نیوز اینڈ نیوز

وفاقی حکومت نے عوام کو جزوی ریلیف دیتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 80 پیسے کمی کی گئی ہے۔

حکومتی فیصلے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 403 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 402 روپے 78 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔ وزارت خزانہ کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے کیا جائے گا۔

یہ مسلسل دوسرا موقع ہے جب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں 5،5 روپے فی لیٹر کمی کی گئی تھی، تاہم عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود عوام اب بھی ایندھن کی بلند قیمتوں سے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات پر عائد پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں نمایاں ردوبدل بھی سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ڈیزل پر لیوی میں اضافہ جبکہ پٹرول پر لیوی میں کمی کی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ڈیزل پر عائد لیوی میں 9 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل پر لیوی کی مجموعی شرح 42 روپے 60 پیسے سے بڑھ کر 52 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اس کے برعکس پٹرول پر لیوی میں 9 روپے 24 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی، جس کے بعد پٹرول پر نئی لیوی 108 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کو ریونیو حاصل کرنے کے بڑے ذرائع میں شامل کر چکی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کے باوجود عوام کو مکمل ریلیف منتقل نہیں کیا جاتا۔

رپورٹس کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی فروخت قیمت کا ایک بڑا حصہ مختلف ٹیکسز، ڈیوٹیز، لیوی اور مارجنز پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ اصل درآمدی قیمت اس سے کہیں کم ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

اقتصادی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ٹیکسوں اور لیوی میں مزید کمی کرے تو عوام کو حقیقی ریلیف مل سکتا ہے، تاہم موجودہ مالی حالات اور ریونیو اہداف کے باعث حکومت کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں ہوگا۔