

محمود احمد May23,2026
دوحہ / نیوز اینڈ نیوز
دوحہ: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی تناؤ اور خلیجی خطے کی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ اور پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی و ثالثی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کو کسی بڑے تصادم سے بچانے، سفارتی رابطوں کو مؤثر بنانے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر پاکستان کی قیادت میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بیک ڈور سفارت کاری اور اعتماد سازی کی کوششوں کو بھی خاص اہمیت دی گئی۔
ذرائع کے مطابق امیرِ قطر اور امریکی صدر نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں جنگ یا عسکری محاذ آرائی کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں، اس لیے مسائل کا حل مذاکرات، سفارت کاری اور مسلسل رابطوں کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان سمیت دیگر دوست ممالک کے کردار کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے۔
ٹیلیفونک گفتگو میں ایران اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خلیجی سمندری راستوں کی سیکیورٹی پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ عالمی تجارت، تیل و گیس کی ترسیل اور بین الاقوامی بحری سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ خطے میں استحکام برقرار رکھا جائے اور کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی سے گریز کیا جائے۔
امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے اس موقع پر کہا کہ قطر ہمیشہ سے تنازعات کے سیاسی اور پرامن حل پر یقین رکھتا آیا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی دوحہ خطے کے امن کے لیے ہر ممکن سفارتی کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد سازی کی کوششوں کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے استحکام کے لیے تمام ذمہ دار ممالک کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔
اعلامیے کے مطابق گفتگو میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ آبنائے ہرمز سمیت تمام اہم بحری راستوں پر تجارتی اور غیر فوجی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عالمی معیشت متاثر نہ ہو۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے باعث قطر، پاکستان، چین اور دیگر علاقائی ممالک مسلسل سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں تاکہ کسی ممکنہ بحران کو روکنے کے لیے قابلِ عمل راستہ نکالا جا سکے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کی ایران اور دیگر خلیجی ممالک سے ملاقاتوں کو بھی اسی سفارتی کوشش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امیرِ قطر اور صدر ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں پائیدار امن، اقتصادی استحکام اور عالمی تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی اور تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کی جائے گی۔