ایران سے معاہدے یا دوبارہ جنگ؟ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار تک فیصلہ کرنے کا عندیہ دے دیا

Spread the love

محمود احمد May23,2026

واشنگٹن / نیوز اینڈ نیوز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے امکانات “ففٹی ففٹی” ہیں اور آئندہ چند روز میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ سفارتی راستہ اختیار کیا جائے یا دوبارہ سخت فوجی کارروائی کی جانب بڑھا جائے۔

امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ایک انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مشاورت کے بعد اتوار تک اہم فیصلہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں دو ہی امکانات موجود ہیں، یا ایک مضبوط اور مؤثر معاہدہ طے پا جائے گا یا پھر خطے میں شدید کشیدگی اور ممکنہ بمباری کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ صرف ایسے معاہدے کو قبول کرے گا جس میں ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام اور ذخائر سے متعلق تمام معاملات مکمل طور پر طے کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں ہوگا جس سے ایران کو مستقبل میں جوہری صلاحیت بڑھانے کا موقع ملے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی مذاکراتی ٹیم اور قریبی مشیروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ ایران کی حالیہ تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ اس وقت سفارتی حل کو ترجیح دے رہا ہے، تاہم تمام آپشنز بدستور میز پر موجود ہیں۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی عسکری صلاحیت پہلے کے مقابلے میں کمزور ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کی گئی بعض پوسٹس بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ صدر ٹرمپ نے امریکی پرچم کے رنگوں سے مزین ایران کا ایک نقشہ شیئر کیا، جس پر “یونائیٹڈ اسٹیٹس آف مڈل ایسٹ” کا جملہ تحریر تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس پوسٹ کو خطے میں جاری سفارتی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

اسی دوران ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے عالمی سطح پر قیاس آرائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ خلیجی ممالک، یورپی سفارتی حلقے اور کئی بین الاقوامی طاقتیں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ آبنائے ہرمز اور مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑے فوجی تصادم سے بچا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے چند روز امریکہ اور ایران تعلقات کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو خطے میں ایک نئی کشیدگی جنم لینے کا خدشہ موجود ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔