

محمود احمد May29,2026
واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز۔ 29 مئی 2026ء)
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنوبی لبنان میں مسلسل اسرائیلی حملوں کے تناظر میں اسرائیلی اور لبنانی فوجی حکام کے درمیان آج واشنگٹن میں انتہائی اہم مذاکرات ہونے جا رہے ہیں، جنہیں خطے میں ممکنہ امن اور جنگ بندی کے لیے ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق لبنانی اور اسرائیلی فوجی حکام امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مذاکرات کے پہلے باضابطہ دور میں شرکت کریں گے، جہاں سرحدی کشیدگی، جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد، جنوبی لبنان کی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اپریل کے وسط میں لبنان اور اسرائیل نے جنگ بندی میں توسیع پر رضامندی ظاہر کی تھی، تاہم اس کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور فضائی حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے باعث خطے میں ایک بار پھر شدید بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔
لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں کا کوئی جواز موجود نہیں، لبنان اپنی سرزمین کے مکمل تحفظ اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کے لیے ہر ممکن سفارتی اور سیاسی کوشش جاری رکھے گا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ لبنانی حکومت کا بنیادی مقصد اپنی تمام سرزمین پر ریاستی رٹ کو مضبوط بنانا اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل فوجی کارروائیاں نہ صرف جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق واشنگٹن مذاکرات کو امریکا کی ایک اہم سفارتی کوشش سمجھا جا رہا ہے، جس کے ذریعے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور لبنان اسرائیل سرحد پر ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام کی جانب سے تاحال مذاکرات کے ایجنڈے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذاکرات میں سرحدی سکیورٹی، جنگ بندی کی نگرانی، حزب اللہ کی سرگرمیوں اور علاقائی استحکام جیسے اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب رہے تو یہ نہ صرف لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی راہیں بھی کھول سکتے ہیں۔