آئندہ وفاق بجٹ میں موبائل اور انٹرنیٹ صارفین کے لیے بڑے ریلیف کی تجویز، وزارت آئی ٹی کی ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی سفارشات تیار

Spread the love

منصور احمد june 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء:

وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) نے آئندہ مالی سال دو ہزار چھبیس ستائیس کے وفاقی بجٹ کے لیے وزارتِ خزانہ کو ٹیلی کام سیکٹر کی تیز رفتار ترقی اور موبائل صارفین کو بڑا ریلیف فراہم کرنے سے متعلق انتہائی اہم اور انقلابی تجاویز ارسال کر دی ہیں۔ وزارتِ آئی ٹی کے اعلیٰ حکام کے مطابق، ان بجٹ تجاویز میں موبائل اور انٹرنیٹ صارفین پر عائد بھاری ٹیکسوں میں مرحلہ وار کمی کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ڈیجیٹل خدمات تک عام عوام کی رسائی کو مزید سستا اور آسان بنایا جا سکے۔

وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے پیش کردہ اہم ترین تجاویز درج ذیل ہیں:

ایڈوانس ٹیکس میں کمی: موبائل صارفین پر عائد پندرہ فیصد ایڈوانس ٹیکس کو فوری طور پر کم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
عام سیلز ٹیکس میں ریلیف: ٹیلی کام سروسز پر لاگو ساڑھے انیس فیصد عام سیلز ٹیکس کو مرحلہ وار بنیادوں پر کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
یکساں ٹیکس نظام: ملک بھر کے تمام صوبوں اور علاقوں میں ٹیلی کام خدمات پر ایک جیسا اور یکساں ٹیکس نظام نافذ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
درآمدی ڈیوٹی میں چھوٹ: انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے استعمال ہونے والے براڈ بینڈ آلات اور ٹیلی کام کے دیگر سازوسامان پر عائد درآمدی ڈیوٹیز کو کم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
سرمایہ کاری کا فروغ: ملک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی لاگت کو کم کرنے کے لیے اقدامات اور ٹیلی کام سیکٹر کے نئے منصوبوں میں نجی سرمایہ کاری کے فروغ کی سفارش کی گئی ہے۔
سرکاری خزانے پر بوجھ میں کمی: سرکاری خزانے پر انحصار کم کر کے پرائیویٹ سیکٹر (نجی شعبے) کو آگے بڑھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    ڈیجیٹل پاکستان وژن کو فروغ دینے کا عزم وزارتِ آئی ٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام تجاویز کا بنیادی مقصد ملک میں ڈیجیٹل رسائی، تیز رفتار انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ حکام کے مطابق، اگر وفاقی بجٹ میں ٹیلی کام سیکٹر کو ٹیکسوں میں یہ متوقع ریلیف فراہم کر دیا جاتا ہے، تو موبائل اور انٹرنیٹ سروسز واضح طور پر سستی ہو جائیں گی، جس کا براہِ راست فائدہ عام صارفین، کاروباری اداروں اور ملک کی مجموعی ڈیجیٹل معیشت کو پہنچے گا۔

    حتمی فیصلہ وفاقی بجٹ کی پیشی پر ہوگا اگرچہ وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے یہ تمام سفارشات وزارتِ خزانہ کو باقاعدہ طور پر بھجوا دی گئی ہیں، تاہم ان تجاویز کی حتمی منظوری اور باضابطہ اعلان وفاقی حکومت کی جانب سے نیا بجٹ پیش کیے جانے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔