سیاسی نظام کی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ ایک معاملے پر متفق نظر آتے ہیں کہ تحریک انصاف موجود نہیں ہونی چاہیے، سابق وفاق وزیر فواد چوہدری کا سنسنی خیز دعویٰ

Spread the love

کاشف عباسی ,june 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ملک کے موجودہ سیاسی منظرنامے کے حوالے سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور تزویراتی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ بظاہر ایک اہم معاملے پر مکمل متفق نظر آتے ہیں اور وہ نکتہ یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف موجود نہیں ہونی چاہیے، ایک نجی ٹی وی چینل کے معروف صحافتی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس پوزیشن کی تفصیل بتائی کہ ایک جانب اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کے متعدد سینیئر رہنماؤں کو گرفتار کیا جبکہ دوسری جانب خود عمران خان نے پارٹی کے اندر ایسے متبادل اور غیر معروف افراد کو آگے لا کر اہم ذمہ داریاں سونپ دیں جن کے پاس کوئی سیاسی تجربہ، عوامی اثر و رسوخ یا مضبوط تنظیمی حیثیت سرے سے موجود ہی نہیں تھی، فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ان دونوں طرف کے فیصلوں اور حکمتِ عملی کے نتیجے میں پارٹی کی مجموعی تنظیمی طاقت شدید کمزور ہوئی اور تحریک انصاف کو ناقابلِ تلافی سیاسی نقصان پہنچا، انہوں نے موجودہ نازک صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ اب پارٹی اس پوزیشن میں بالکل نہیں رہی کہ وہ جیل میں بند عمران خان کی کوئی مؤثر سیاسی مدد یا ان کی رہائی کے لیے کوئی بڑا دبائو ڈال سکے، اس لیے اب عمران خان کو اپنے اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان موجود تمام تر سنگین اختلافات کو کسی تیسرے فریق کے بغیر خود براہِ راست حل کرنا ہوں گے، سابق وفاقی وزیر نے فوج اور ملکی سیاسی قیادت کے مابین تعلقات کے اصولوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلقات میں بہتری لانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کوئی بھی رہنما اپنے بنیادی سیاسی مؤقف، نظریے یا بیانیے سے دستبردار ہو جائے، تاہم پاکستان کے موجودہ سیاسی نظام کی زمینی حقیقت اور طاقت کے توازن کو کسی بھی طور نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے بانی تحریک انصاف کو مخلصانہ مشورہ دیتے ہوئے زور دیا کہ عمران خان کو اب ملکی فوج کے ساتھ اپنے بگاڑے ہوئے تعلقات کو ہر حال میں بہتر بنانے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور ان تعلقات کی دوبارہ بحالی کا طریقہ کار اور فارمولا بھی خود عمران خان کو ہی طے کرنا ہوگا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان دونوں کو ایک دوسرے کے لیے ملکی بقا کی خاطر سیاسی گنجائش پیدا کرنا ہوگی، انہوں نے خبردار کیا کہ یکطرفہ طرزِ عمل یا اکھڑ پن سے معاملات کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے، اس لیے ملک میں پائیدار سیاسی و معاشی استحکام کی واپسی کے لیے بامقصد مکالمہ، سیاسی برداشت اور باہمی رابطہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کیونکہ تصادم اور اداروں کے ساتھ لڑائی کی سیاست کسی بھی فریق یا ملک کے مفاد میں نہیں۔