میگا ایونٹ کی تاریخ میں ناروے پہلی بار کوارٹر فائنل میں داخل؛ میچ میں ایرلنگ ہالینڈ کے دو شاندار گول، ورلڈ کپ جیتنے کا خواب ٹوٹنے پر نیمار جونیئر آبدیدہ

محمود احمد, JULY 06,2026

نیو جرسی (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور حیران کن پری کوارٹر فائنل میچ میں ناروے کے ہاتھوں شکست کے بعد پانچ بار کی عالمی چیمپئن برازیل ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہے، جس کے فوراً بعد برازیل کے مقتدر اور عالمی شہرت یافتہ اسٹار فٹبالر نیمار جونیئر نے بین الاقوامی فٹبال سے ہمیشہ کے لیے ریٹائرمنٹ کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ نیو جرسی کے اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس تاریخی معرکے میں ناروے نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے برازیل کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دے کر میگا ایونٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوارٹر فائنل میں جگہ پکی کر لی۔

میچ میں ناروے کی فتح کے ہیرو مقتدر اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ رہے، جنہوں نے کھیل کے آخری لمحات میں برازیلی دفاع کو تہس نہس کرتے ہوئے دو شاندار گول داغے۔ ایرلنگ ہالینڈ نے پہلا گول 79 ویں منٹ میں اسکور کیا، جبکہ دوسرا اور فیصلہ کن گول کھیل کے بالکل اختتام یعنی 90 ویں منٹ میں کر کے اپنی ٹیم کی جیت یقینی بنائی۔ دوسری جانب، برازیل کی طرف سے واحد اور تسلی بخش گول میچ کے آخری لمحات میں نیمار جونیئر نے پنالٹی کک پر اسکور کیا، تاہم وہ اپنی ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر ہونے سے نہ بچا سکے۔

اس غیر متوقع شکست کے بعد ورلڈ کپ جیتنے کا تزویراتی خواب چکنا چور ہونے پر نیمار جونیئر میدان میں ہی رو پڑے اور بعد ازاں بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ 34 سالہ نیمار نے برازیلین صحافی سے انتہائی جذباتی گفتگو میں کہا کہ “میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی، میرا بین الاقوامی کیریئر سال 2010ء میں اسی اسٹیڈیم میں شروع ہوا تھا اور آج میں نے یہیں اس کا اختتام کیا ہے؛ اب یہ سب ختم ہو چکا ہے”۔ واضح رہے کہ نیمار نے برازیل کے لیے اپنا پہلا بین الاقوامی میچ 10 اگست 2010ء کو نیو جرسی میں ہی امریکہ کے خلاف کھیلا تھا۔ نیمار اپنے شاندار بین الاقوامی کیریئر کا اختتام برازیل کی تاریخ میں سب سے زیادہ 80 بین الاقوامی گول کرنے والے مقتدر کھلاڑی کے طور پر کر رہے ہیں، جو فٹبال کے عظیم لیجنڈ پیلے سے 3 گول زیادہ ہیں۔

پنجاب میں مون سون بارشوں کا الرٹ: یکم سے چھ جولائی تک بیشتر اضلاع میں تیز آندھی اور ژالہ باری کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ کا خطرہ

روزینہ اسماعیل.june 29,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے یکم جولائی سے چھ جولائی تک صوبے کے بیشتر اضلاع میں تیز آندھی، گرج چمک اور ژالہ باری کے ساتھ موسلا دھار بارشوں کا باقاعدہ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، مون سون کے اس نئے سلسلے کے تحت یکم جولائی سے صوبائی دارالحکومت لاہور، راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، فیصل آباد، خوشاب، سرگودھا، شیخوپورہ اور نارووال میں بادل برسنے کا امکان ہے۔ جبکہ تین سے چھ جولائی کے دوران ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاکپتن، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ، قصور، نورپور تھل، بھکر، لیہ، میانوالی، بہاولپور، ڈی جی خان، ملتان، خانیوال اور لودھراں سمیت مضافاتی علاقوں میں بجلیاں چمکنے اور تیز آندھی چلنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

ترجمان نے تزویراتی الرٹ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس شدید بارش کے نتیجے میں راولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لاہور اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کا مقتدر خطرہ موجود ہے، جس کے لیے تمام محکموں کو پیشگی اقدامات مکمل کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمر جاوید کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی اور مقتدر ہدایات کی روشنی میں صوبے بھر کے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہائی الرٹ مکتوب ارسال کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو مقتدر ہدایت کی ہے کہ وہ آسمانی بجلی اور تیز آندھی سے بچاؤ کے لیے گرج چمک کے دوران کھلے مقامات، درختوں یا بجلی کے کھمبوں کے نیچے جانے سے ہرگز گریز کریں اور محفوظ چھتوں تلے پناہ لیں۔ انہوں نے کسانوں کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی فصلوں اور مویشیوں کے حوالے سے تمام تر حفاظتی انتظامات موجودہ موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں، جبکہ شمالی علاقہ جات کا رخ کرنے والے سیاحوں کو دورانِ سفر مقتدر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اتھارٹی کے مطابق کسی بھی قسم کی سیلابی یا ہنگامی صورتحال میں شہری فوری رہنمائی اور مدد کے لیے پی ڈی ایم اے کی آفیشل ہیلپ لائن گیارہ انتیس پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

انسانی وقار کا تحفظ: تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے، فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے عوام بدترین ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 26,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کو کسی بھی مہذب معاشرے میں سراسر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسے مکروہ اقدامات انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات کے بھی مکمل منافی ہیں۔ تشدد کے متاثرین کی حمایت کے عالمی دن کے موقع پر جاری کردہ اپنے مقتدر پیغام میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں تشدد کا شکار ہونے والے مظلوموں سے پرخلوص انداز میں یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر تشدد کی ہر شکل کے خاتمے، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان انسان کے تقدس و وقار سے متعلق اسلامی اقدار کی رہنمائی اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی روشنی میں تمام افراد کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے متاثرین کی بحالی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی نوعیت کے معاشرتی تشدد کے متاثرین بہترین طبی، نفسیاتی، قانونی اور سماجی معاونت کے قانونی حقدار ہیں، جبکہ تشدد کے مرتکب عناصر کا کڑا احتساب یقینی بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے متعلقہ قوانین کے مؤثر نفاذ، قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات اور ریاستی تحفظ و نگرانی کے نظام کو مزید مستحکم بنایا جا رہا ہے۔ اپنے پیغام میں وزیرِ اعظم نے غیر ملکی قابضین کی طرف سے منظم انداز میں تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے عوام ریاستی جبر و استبداد، قابضین کے بدترین تشدد اور توہین آمیز و غیر انسانی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں، اور ان قابضین کے جرائم کی مذمت اور ان کی جوابدہی اب مشترکہ عالمی ذمہ داری بن چکی ہے۔

وزیرِ اعظم نے عالمی برادری کی توجہ خاص طور پر بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری دہائیوں پر محیط ریاستی دہشت گردی کے متاثرین کی مشکلات و مصائب کی جانب مبذول کرائی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر متعدد مستند رپورٹوں میں مقبوضہ کشمیر میں من مانی گرفتاریوں، دورانِ حراست وحشیانہ تشدد، جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزاؤں اور سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کے بھارتی اقدامات پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے، جو کہ وہاں منظم تشدد کی عالمی تصدیق ہے۔ وزیرِ اعظم نے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب عناصر کا احتساب یقینی بنائیں۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ پاکستان کشمیری عوام کی غیر ملکی تسلط کے خلاف جدوجہد کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ان کے حقِ خودارادیت کی بھرپور تائید کرتا ہے۔

عوامی ریلیف کی بڑی نوید: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 20 سے 50 روپے تک کی مقتدر کمی کا امکان، اوگرا نے نئی قیمتوں کی سمری تیار کر لی

کاشف عباسی ,june 25,2026

لاہور/اسلام آباد (معاشی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

مہنگائی کے مارے عوام کے لیے ایک بڑی اور مقتدر ریلیف کی خبر سامنے آئی ہے، جہاں ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید بھاری کمی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں سے متعلق مقتدر سمری مکمل طور پر تیار کر لی ہے۔ نجی ٹی وی چینل کی مقتدر رپورٹ کے مطابق، نئی سمری میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 20 روپے سے لے کر 50 روپے فی لیٹر تک کی نمایاں کمی کا قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس عوامی ریلیف کا حتمی فیصلہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی منظوری سے مشروط ہے، جبکہ نئی مقتدر قیمتوں کا باقاعدہ اعلان جمعہ کے روز متوقع ہے۔

دوسری جانب، وزیرِ اعظم کے مقتدر سیاسی مشیر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے بھی پٹرولیم مصنوعات کے مزید سستا ہونے کا واضح عندیہ دیا ہے۔ ایک نجی ٹی وی پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پٹرولیم قیمتوں کے حساس معاملے پر ایک اعلیٰ سطحی خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے، جس کا مقصد قیمتوں کو مرحلہ وار مزید نیچے لانا ہے۔ انہوں نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو سخت مقتدر وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی کمپنی نے پٹرولیم مصنوعات کا کوئی مصنوعی بحران پیدا کرنے یا بلیک میلنگ کی کوشش کی، تو حکومت ان سے انتہائی سختی سے نمٹے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروبار میں نفع و نقصان ساتھ ساتھ چلتے ہیں، کمپنیوں کو ماضی میں جتنا مقتدر فائدہ ہوا، اب انہیں قیمتیں کم کر کے وہ فائدہ ہر صورت عوام کو منتقل کرنا ہوگا۔

وفاقی مشیر رانا ثناء اللہ نے ماضی کے بحران کی تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگی کشیدگی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اچانک ملکی کنٹرول سے باہر ہو گئی تھیں۔ اس ہنگامی اور بحرانی کیفیت سے نمٹنے کے لیے حکومت نے عارضی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر ہر جمعے کو پٹرولیم قیمتوں کے تزویراتی تعین کا مقتدر فیصلہ کیا تھا، تاکہ ملکی اسٹاک کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس دوران ملکی ضرورت کے پیشِ نظر زائد قیمتوں پر بھی تیل امپورٹ کرنا پڑا، جس پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ منفی پروپیگنڈا کیا گیا کہ آئل کمپنیوں نے اربوں روپے کا غیر قانونی منافع کما لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سارا نظام ایک مقتدر سسٹم کے تحت چلتا ہے، اگر کمپنیوں پر بہت زیادہ مالی بوجھ پڑ رہا ہوا تو حکومت توازن برقرار رکھنے کے لیے ان کا بھی خیال رکھے گی، تاہم پہلی ترجیح صرف اور صرف عام عوام کو براہِ راست ریلیف پہنچانا ہے۔

قراردادیں محض ارادوں کا اظہار نہیں بلکہ منشور کے تحت قانونی ذمہ داریاں ہیں، منتخب یا طویل عرصے تک عمل نہ ہونا کونسل کے اختیار کو کمزور کرتا ہے؛ مسئلہ فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر پر قراردادوں پر عمل نہ ہونا عالمی امن کے لیے بڑا دھچکا، مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا مقتدر خطاب

محمود احمد june 25,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان اور چین نے اپنی تزویراتی شراکت داری اور کثیرالجہتی سفارت کاری کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک انتہائی مقتدر ‘آریا فارمولا’ اجلاس منعقد کیا ہے۔ اس خصوصی سفارتی بیٹھک نے دنیا بھر کے رکن ممالک کو ایک اہم اور تزویراتی موقع فراہم کیا ہے کہ وہ کھل کر اس امر پر غور کریں کہ سلامتی کونسل اپنی منظور شدہ قراردادوں کے مکمل، مؤثر اور بغیر کسی امتیاز کے یکساں عملدرآمد کو کس طرح ہر قیمت پر یقینی بنا سکتی ہے۔

اس مقتدر اجلاس کو اقوامِ متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل خالد خیاری، سیکیورٹی کونسل رپورٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر محترمہ شملہ کندیاہ، اور انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مسٹر رچرڈ گوون نے اہم بریفنگز دیں۔ تمام مقررین نے اپنے مقالوں میں اس بات پر گہرا زور دیا کہ قراردادوں پر ان کی روح کے مطابق من و عن عملدرآمد کرنا ہی دراصل سلامتی کونسل کی ساکھ، عالمی اختیار اور اس کی افادیت کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کونسل کے فیصلوں کو زمینی حقائق میں تبدیل کرنے کے لیے قراردادوں کے ساتھ حقیقت پسندانہ مینڈیٹس، واضح طریقۂ کار، مسلسل لائیو نگرانی، مناسب مالی وسائل اور مضبوط سیاسی عزم کا ہونا ناگزیر ہے۔

اجلاس سے اپنے مقتدر خطاب میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے دوٹوک اور مقتدر الفاظ میں کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں محض رسمی ارادوں کا اظہار نہیں ہوتیں بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت تمام رکن ممالک پر عائد ہونے والی سخت قانونی ذمہ داریاں ہیں۔ انہوں نے دنیا کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ قراردادوں پر من پسند طریقے سے (سلیکٹو) عمل کرنا یا طویل عرصے تک انہیں سرد خانے کی نذر رکھنا خود کونسل کے عالمی اختیار کو شدید کمزور کرتا ہے، دیرینہ تنازعات کے حل میں بڑی رکاوٹ بنتا ہے اور مظلوم انسانوں کے مصائب میں ہولناک اضافہ کرتا ہے، جیسا کہ اس وقت فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی مخدوش صورتحال میں صاف دیکھا جا سکتا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ مضبوطی سے لڑتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعے سے متعلق سلامتی کونسل کی مقتدر قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث یہ اہم بین الاقوامی مسئلہ آج بھی حل طلب ہے، جس کے باعث خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور معصوم کشمیری عوام مسلسل بدترین انسانی مشکلات اور مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے سامنے متعدد مقتدر اور عملی تجاویز پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ غیر نافذ یا جزوی طور پر نافذ قراردادوں کا سالانہ بنیادوں پر باقاعدہ جائزہ لیا جائے، عملدرآمد کے واضح ڈیجیٹل اور سفارتی طریقے وضع کیے جائیں اور سیکریٹری جنرل کی مساعیِ جمیلہ کو کونسل کے فیصلوں کے ساتھ مربوط کیا جائے۔ اجلاس میں شریک سلامتی کونسل کے مستقل و غیر مستقل ارکان نے چین اور پاکستان کے اس مشترکہ اقدام کا زبردست خیرمقدم کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ کونسل کو اپنے فیصلوں کے مستقل اور غیر جانبدار نفاذ کو یقینی بنانا چاہیے، جس سے پاک چین کثیرالجہتی تعاون کا وقار مزید بلند ہوا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون کا مقتدر خطاب؛ فلسطین اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار، سال 2025ء کے دوران ریکارڈ 38 ہزار سے زائد جانی و حقوقی خلاف ورزیاں رپورٹ، ذمہ دار عناصر کے کڑے احتساب کا مطالبہ

محمود احمد june 25,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلح تنازعات اور غیر ملکی قبضے کی سنگین صورتحال میں معصوم بچوں کی ابتر ہوتی ہوئی حالت پر شدید ترین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ جنگ، تشدد اور بنیادی حقوق سے طویل محرومی کے سب سے زیادہ ہولناک اور سنگین اثرات معصوم بچوں کو ہی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیرِ اہتمام ’’بچوں اور مسلح تنازعات‘‘ سے متعلق منعقدہ اہم کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے غیر ملکی تسلط کے تحت زندگی گزارنے والے بچوں کی حالتِ زار کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے مقتدر برادری کی توجہ دلاتے ہوئے نشاندہی کی کہ صرف مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ایک سال کے دوران بچوں کے خلاف وحشیانہ سنگین خلاف ورزیوں کے 12 ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے۔

سفیر عثمان جدون نے اپنے مقتدر خطاب میں واضح کیا کہ غیر ملکی قبضے کی دیگر تمام تر صورتحال میں بچوں کو درپیش گہرے نفسیاتی صدمات اور جسمانی مظالم بھی شدید عالمی تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی تمام صورتحال کی کڑی اور لائیو نگرانی کی جائے اور ان کے بارے میں سلامتی کونسل کو مکمل غیر جانبدارانہ رپورٹنگ فراہم کی جائے تاکہ انسانی حقوق پامال کرنے والے ذمہ دار عناصر کا بلا تفریق احتساب ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ تنازعات اور غیر ملکی قبضے کے حالات میں بچوں کی مشکلات کا کوئی بھی مؤثر حل اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک ان سنگین مسائل کی بنیادی سیاسی و تزویراتی وجوہات کا تدارک نہ کیا جائے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پیشگی سفارت کاری، تنازعات کے دیرپا حل اور اختلافات کے پرامن تصفیے پر زیادہ توجہ دینے کی مقتدر ضرورت پر زور دیا۔

سفیر جدون نے کہا کہ جو عالمی تنازعات اور علاقائی اختلافات طویل عرصے تک حل طلب رہتے ہیں، ان کی انسانی قیمت دنیا کو بہت بھاری چکانی پڑتی ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہریوں اور بالخصوص معصوم بچوں جیسے کمزور طبقات کے کندھوں پر آتا ہے۔ انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے فوری عملی اقدامات کا مقتدر تقاضا کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں مؤثر نگرانی، خلاف ورزیوں کے مرتکبین کو سزا سے استثنا (سزا سے چھوٹ) کے خاتمے، اسکولوں کو حملوں اور عسکری مقاصد کے لیے استعمال سے محفوظ رکھنے، اور متاثرہ علاقوں میں محفوظ تعلیمی نظام کے فروغ جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے تمام متحارب فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون، بچوں کے حقوق کے کنونشن اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی مکمل پاسداری کریں۔

پاکستانی مندوب نے اس امر کی نشاندہی کی کہ یہ اہم مباحثہ ’’بچوں اور مسلح تنازعات‘‘ کے مینڈیٹ کے قیام کی تیسویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوا ہے، جسے 1996ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قائم کیا تھا، اور انہوں نے اس مینڈیٹ کے لیے پاکستان کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ کا مقتدر حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ سال 2025ء کے دوران دنیا بھر میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کے 38 ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو اس مینڈیٹ کے قیام کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی اور تشویشناک تعداد ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ابھرتے ہوئے نئے خطرات، بشمول بغیر پائلٹ فضائی ڈرونز اور مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس جدید ہتھیاروں کے نظام، بچوں کو پہلے سے کہیں زیادہ اور غیر معمولی حملوں کی مقتدر زد میں لا رہے ہیں، لہٰذا بچوں کی فلاح و بہبود سلامتی کونسل کی ترجیحات میں ہر صورت سرفہرست رہنی چاہیے۔

تعزیتی پیغام: وزیرِ اعظم شہباز شریف کا سابق مقتدر فاسٹ باؤلر شعیب اختر کے بھائی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق مقتدر اور عالمی شہرت یافتہ متبادل فاسٹ باؤلر شعیب اختر کے بھائی شاہد اختر کے اچانک انتقال پر انتہائی گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

جمعرات کے روز وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر تعزیتی بیان کے مطابق، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے معروف سابق کرکٹر شعیب اختر اور ان کے تمام اہل خانہ سے اس کٹھن گھڑی میں دلی تعزیت اور مقتدر ہمدردی کا اظہار کیا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں سوگوار خاندان کے ساتھ غم بانٹتے ہوئے مقتدر دعا کی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ مرحوم شاہد اختر کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام اور جنت الفردوس میں جگہ عطاء فرمائے، اور ان کے جانے سے پیچھے رہ جانے والے تمام لواحقین کو یہ ناقابلِ تلافی اور گہرا صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل اور ہمت عطا فرمائے۔

پاکستان اور ایران مشترکہ ترقی کے لیے پرعزم، مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہوگا: وزیراعظم

کاشف عباسی ,june 23,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دورہِ پاکستان پر آئے ہوئے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ساتھ وفود کی سطح پر ہونے والی ایک انتہائی اہم اور مقتدر ملاقات کے دوران واضح کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق کوئی بات شامل نہیں ہے اور نہ ہی یہ نکتہ کبھی ایجنڈے کا حصہ رہا ہے۔ وزیراعظم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بیلسٹک میزائل کے حوالے سے دنیا میں کوئی دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے؛ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ دنیا کے دیگر ممالک کے پاس تو بیلسٹک میزائل ہوں اور ایران کو اس حق سے محروم رکھا جائے، اس مقتدر نکتے پر عالمی سطح پر کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کچھ شرپسند عناصر خطے میں جنگ کے شعلوں کو بجھنے نہیں دینا چاہتے اور وہ اس تاریخی امن عمل کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔

اس اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات میں پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر (چیف آف آرمی اسٹاف) بھی شریک تھے۔ اپنے مقتدر ابتدائی کلمات میں وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے مابین اس تاریخی ثالثی کے لیے پاکستان پر بھرپور اعتماد کرنے پر ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی اخوت کو کبھی جوابدہ نہیں ہونا پڑتا، ہم ایران کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی ویژنری قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا جن کے زیرِ اثر ایران نے انتہائی وقار اور عزت کے ساتھ جنگ بندی کے اس مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔ وزیراعظم نے حالیہ کشیدگی کے دوران معصوم جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے ہمیشہ کی طرح اس مشکل صورتحال کا سامنا بھی انتہائی جرات، بہادری اور ہمت سے کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کے انتھک اور تزویراتی کردار کو مقتدر الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہماری مشترکہ کوششوں کے باعث آج یہ کامیابی ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے تکنیکی سطح کے طویل مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی کاوشوں کو بھی لاجواب قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے خطے میں امن کے قیام کے لیے تعاون فراہم کرنے پر برادر دوست ممالک بالخصوص سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور مصر کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ پاکستان اور ایران ہمیشہ کے لیے دوست اور بھائی ہیں جن کی خوشیاں اور غم سانجھے ہیں، اور دونوں ممالک صدر مسعود پزشکیان کی قیادت میں اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور تعمیرِ نو سمیت تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کر کے مشترکہ ترقی کے ایک نئے مقتدر دور کا آغاز کریں گے۔

پی آئی اے کا ملتان سے ریاض جانے والا مسافر طیارہ فضا میں ہائیڈرالک سسٹم فیل ہونے کے باعث حادثے سے بال بال بچ گیا، پائلٹ کی کمال مہارت اور اے ٹی سی کی مستعدی سے 160 سے زائد مسافروں سے بھرے طیارے کی کراچی ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ، تمام مسافر محفوظ، فنی خرابی دور کرنے کے بعد پرواز سعودی عرب روانہ

محمود احمد june 20,2026

کراچی (ایوی ایشن نیوز(نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

20 جون 2026ء پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا ملتان سے سعودی عرب جانے والا مسافر طیارہ فضا میں اچانک پیدا ہونے والی سنگین فنی خرابی کے بعد ایک ہولناک حادثے سے بال بال بچ گیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض جانے والی پی آئی اے کی مقتدر پرواز پی کے 765 کو دورانِ پرواز فضا میں اچانک ایک بڑے تکنیکی بحران کا سامنا کرنا پڑا، تاہم خوش قسمتی سے کپتان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ فلائٹ آپریشنز ذرائع کے مطابق دورانِ پرواز طیارے کے انتہائی حساس اور اہم ترین ‘ہائیڈرالک سسٹم’ میں اچانک فنی خرابی پیدا ہوگئی جس سے طیارے کے کنٹرول پر اثر پڑنے کا خدشہ تھا، فضا میں خطرے کا احساس ہوتے ہی کپتان نے سیکنڈز ضائع کیے بغیر فوری طور پر کراچی ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ قائم کیا اور ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر ہنگامی لینڈنگ کی اجازت طلب کی۔

ایئر ٹریفک کنٹرول کراچی کی مقتدر مستعدی، ہائی الرٹ اور پائلٹ کی بہترین کارکردگی و اعصاب پر قابو پانے کی بدولت طیارے کو باحفاظت زمین پر اتارنے کی سٹرٹیجک تیاری کی گئی، معلوم ہوا ہے کہ اے ٹی سی کی جانب سے رن وے کلیئر ہونے کا گرین سگنل ملتے ہی کپتان نے کمالِ مہارت اور فلائنگ کنٹرول کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسافر طیارے کو صبح ساڑھے 9 بجے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر بحفاظت لینڈ کرا لیا، ایئرلائن حکام نے آفیشل تصدیق کی ہے کہ طیارے میں 160 سے زائد مقتدر مسافر سوار تھے اور تمام کے تمام بفضلِ خدا بالکل محفوظ اور خیریت سے ہیں، لینڈنگ کے فوراً بعد ایئرپورٹ پر فائر ٹینڈرز اور سیکیورٹی عملے نے طیارے کو گھیرے میں لے کر مسافروں کی دیکھ بھال اور طیارے کی تزویراتی چیکنگ کا عمل شروع کیا۔

ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ ہنگامی لینڈنگ کے فوراً بعد تمام مسافروں کو طیارے سے انتہائی منظم اور باحفاظت طریقے سے نکال کر ایئرپورٹ کے آرام دہ ٹرانزٹ لاؤنج میں منتقل کیا گیا جہاں پی آئی اے انتظامیہ کی جانب سے ان کی مقتدر مہمان نوازی کی گئی، دوسری جانب پی آئی اے کے سینیئر انجینئرز کی ٹیم نے فوری طور پر طیارے کا چارج سنبھالا اور رن وے کے قریب ہی ہائیڈرالک سسٹم میں موجود فالٹ کو درست کرنے کے لیے ہنگامی کام شروع کر دیا، پی آئی اے کے انجینئرز کی جانب سے طیارے کے انجن اور دیگر پرزوں کا مکمل تکنیکی معائنہ کرنے اور اس کی خرابی کو سو فیصد دور کرنے کے بعد طیارے کو پرواز کے لیے مقتدر فٹنس کلیئرنس دے دی گئی، جس کے بعد تمام مسافروں کو دوبارہ طیارے میں سوار کر کے کراچی ایئرپورٹ سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے لیے بحفاظت روانہ کر دیا گیا جہاں مسافروں نے پی آئی اے کے عملے اور کپتان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

معاشی اور اقتصادی بحالی کیلئے قومی اتفاقِ رائے اہم، معاشی اعداد و شمار اور اشاریے اقوامِ متحدہ کے مروجہ بین الاقوامی معیار کے مطابق مرتب کئے گئے ہیں، وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا قومی اسمبلی میں مقتدر خطاب

منصور احمد june 20,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 20 ؎جون 2026ء

وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملکی معاشی اور اقتصادی بحالی کے لیے قومی اتفاقِ رائے نہایت اہمیت کا حامل ہے، معاشی اعدادوشمار اور اشاریے مروجہ طریقہ ہائے کار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مرتب کئے گئے ہیں، بجٹ میں تنخواہ دار طبقہ، زراعت، صنعت اور برآمدات پر مبنی نمو کیلئے جامع اقدامات کئے گئے ہیں، حکومت نے متوازن، ترقی دوست اور معیشت کو استحکام دینے والا بجٹ دیا ہے اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ قومی اسمبلی کے مقتدر اجلاس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ اور مالیاتی بل 2026-27ء پر عام بحث کو سمیٹتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ معزز اراکینِ قومی اسمبلی عظیم الدین زاہد اور خواجہ شیراز محمود نے بجٹ دستاویزات میں مبینہ تضادات کے حوالے سے استحقاق کی تحریک پیش کی، میں معزز اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے یہ معاملہ ایوان کے سامنے رکھا جہاں معزز اراکین کی جانب سے جی ڈی پی، فی کس آمدنی اور ان کے تعین کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ انہوں نے پوری ذمہ داری کے ساتھ ایوان کو یقین دلایا کہ پاکستان بیورو آف شماریات نے نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کی تیاری کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور تمام اعداد و شمار مالی سال 2015-16 کو بیس ایئر بنا کر اقوامِ متحدہ کے سسٹم آف نیشنل اکاؤنٹس کے مطابق مرتب کیے گئے ہیں، یہ اعداد و شمار نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں منظور کیے جاتے ہیں جس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ماہرینِ معیشت، جامعات اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔

وزیرخزانہ نے واضح کیا کہ حقیقی جی ڈی پی معاشی سرگرمیوں میں ہونے والی حقیقی تبدیلی کو قیمتوں کے اثرات سے پاک کرکے ناپتی ہے، اسی لیے 3.7 فیصد شرح نمو کو 2015-16 کی مستقل قیمتوں پر شمار کیا گیا ہے جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیار ہے جبکہ دوسری جانب نامینل جی ڈی پی گروتھ موجودہ مارکیٹ قیمتوں پر شمار کی جاتی ہے اور اسے اوسط شرح مبادلہ کے ذریعے امریکی ڈالر میں تبدیل کیا جاتا ہے، اسی بنیاد پر مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت کا حجم تقریباً 452 ارب امریکی ڈالر رہنے کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے اور اسی طرح فی کس آمدنی کا تعین بھی موجودہ قیمتوں، مجموعی قومی آمدنی اور 2023 کی مردم شماری کے بعد جاری کردہ آبادی کے تخمینوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے لہٰذا نہ تو طریق کار تبدیل ہوا ہے اور نہ ہی اعداد و شمار مرتب کرنے کے اصول بدلے ہیں۔ خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ایک بڑا انکشاف کیا کہ ہماری مشترکہ سول و عسکری کوششیں رنگ لائی ہیں اور خطے پر منڈلاتے جنگ کے بادل اب چھٹ چکے ہیں جبکہ امن کی فضا دوبارہ قائم ہوئی ہے، پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان موثر سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے مذاکرات کی راہ ہموار کی، دونوں ممالک کو ایک میز پر بٹھایا اور امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا جو پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک قابلِ فخر باب ہے اور اس پر وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، تمام سیاسی جماعتیں، پارلیمان اور پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔

انہوں نے بجٹ پر ہونے والی بحث میں بھرپور اور تعمیری انداز میں حصہ لینے پر تمام اراکینِ قومی اسمبلی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ بالخصوص قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین سید نوید قمر اور دونوں قائمہ کمیٹیوں کے معزز اراکین کے خصوصی طور پر شکر گزار ہیں جنہوں نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران نہایت محنت، خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ بجٹ تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعدد مفید سفارشات پیش کیں جن میں سے کئی تجاویز کو فنانس بل 2026 کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں، معاشی تجزیہ کاروں، ماہرینِ معیشت، کاروباری برادری اور مختلف چیمبرز آف کامرس کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے بجٹ پر مثبت اور تعمیری آرا دیں، اس کے ساتھ ہی وزیرخزانہ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں قائم اتحادی حکومت میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین، بالخصوص میاں محمد نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیق، چوہدری شجاعت حسین، عبدالعلیم خان اور خالد حسین مگسی کا دلی شکریہ ادا کیا جنہوں نے بجٹ کی تیاری کے دوران ان کی رہنمائی اور مشاورت کی جو ہمارے لیے نہایت اہم اور مفید ثابت ہوئی۔

وزیرخزانہ نے ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال بتاتے ہوئے سنسنی خیز اعداد و شمار پیش کیے کہ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں تقریباً 6.5 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی ہے جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح ہے اور اسی طرح ہمارا بیرونی شعبہ بھی مستحکم ہوا ہے جہاں گزشتہ مالی سال کی طرح رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران بھی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں رہا جو معیشت کیلئے ایک انتہائی حوصلہ افزا اشارہ ہے، انہوں نے کہا کہ ہماری سمندر پار مقیم پاکستانی برادری نے بھی ایک بار پھر اپنی وطن دوستی کا بھرپور ثبوت دیا ہے اور گزشتہ ماہ انہوں نے 4.25 ارب امریکی ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر پاکستان بھیجیں جبکہ مجھے پوری امید ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک ترسیلاتِ زر 41 ارب امریکی ڈالر کے ہدف سے بھی تجاوز کر جائیں گی جو ملکی تاریخ کا ایک نیا ریکارڈ ہوگا، اس کے ساتھ ہی ہمارا برآمدی شعبہ مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہے بالخصوص ویلیو ایڈڈ برآمدات جن میں گارمنٹس، ہوم ٹیکسٹائل اور آئی ٹی کا شعبہ شامل ہیں نمایاں ترقی کر رہے ہیں جہاں رواں مالی سال کے دوران آئی ٹی برآمدات میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ مجموعی آئی ٹی برآمدات 4.5 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے جو ایک نیا قومی ریکارڈ ہوگا اور اسی طرح ہمارے نوجوان فری لانسرز نے بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1.6 ارب ڈالر کا ریکارڈ زرمبادلہ ملک میں لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ حکومت اور اس بجٹ کا بنیادی مقصد ایک ایسی برآمدات پر مبنی، پائیدار اور جامع معاشی ترقی کا حصول ہے جس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو، سرمایہ کاری کو فروغ ملے اور ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں، ہم اکثر یہ شکایت سنتے رہے ہیں کہ پاکستان میں دستاویزی معیشت اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے افراد ہی زیادہ بوجھ برداشت کرتے ہیں لیکن اس حکومت نے اس سوچ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم نے بوجھ ڈالنے کی بجائے ٹیکس کی وسعت اور گہرائی کی حکمت عملی اختیار کی ہے جس کے تحت موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے گا اور اس کی بنیاد کو مضبوط بنایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ حکومت گزشتہ دو برس سے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات پر مسلسل کام کر رہی ہے اور انہی اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس پالیسی کو ٹیکس انتظامیہ سے الگ کیا گیا تاکہ پالیسی سازی اور اس کے نفاذ میں شفافیت اور موثریت پیدا ہو، اسی تسلسل میں حکومت ایک نیا ٹیکس آپریٹنگ ماڈل متعارف کرا رہی ہے جس کے تحت ٹیکس دہندگان اور ٹیکس افسران کے درمیان براہِ راست رابطے کو کم سے کم کر دیا جائے گا اور آڈٹ، تشخیص اور دیگر کارروائیاں زیادہ تر خودکار اور فیس لیس نظام کے ذریعے انجام دی جائیں گی، ان اصلاحات کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل رجسٹریشن اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ، ہراسانی کے امکانات میں کمی، شفافیت کا فروغ اور ٹیکس قوانین پر رضاکارانہ عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے، انہوں نے ریوینیو اہداف کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ 1988ء سے 2011ء تک کے 23 برس کے عرصے میں تقریباً 14 ارب امریکی ڈالر کے اضافی ٹیکس محصولات حاصل کیے گئے اور اسی طرح 2011ء سے 2024ء تک کے برسوں میں بھی تقریباً 14 ارب امریکی ڈالر کے اضافی محصولات جمع ہوئے لیکن اس کے برعکس موجودہ حکومت نے صرف گزشتہ دو برسوں کے دوران تقریباً 14 ارب امریکی ڈالر کے اضافی ٹیکس محصولات حاصل کیے ہیں جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے اور یہ کامیابی وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ذاتی توجہ، واضح وژن اور ایف بی آر کی تنظیمِ نو واصلاحات کے لیے ان کی مسلسل رہنمائی کا نتیجہ ہے۔

وزیرخزانہ نے زرعی شعبہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور حکومت نے زراعت اور کسانوں کے لیے خاطر خواہ اقدامات اور ترقیاتی پیکجز کا اعلان کیا ہے جہاں زرعی پیداوار میں اضافہ اور چھوٹے کاشتکاروں کو سہولت دینے کے لیے ایک مربوط زرعی سکیم شروع کی گئی ہے جس کے تحت 300 ارب روپے کے بلاسود اور آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں جس سے تقریباً ساڑھے سات لاکھ چھوٹے کسان مستفید ہوں گے، اسی طرح زرعی شعبے میں مالی معاونت کے لیے 109 ارب روپے سے زائد کے قرضوں کی فراہمی کا منصوبہ ہے جبکہ کھاد خصوصاً یوریا پر تقریباً 10 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے اور وفاق کے تحت زراعت و لائیو اسٹاک کے منصوبوں کے لیے 4.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور مشینری تک رسائی دینے کے لیے سبسڈی اور رسک شیئرنگ کے تحت تقریباً 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ فصلوں اور لائیو اسٹاک کی انشورنس اسکیم کے لیے بھی اہم رقم رکھی گئی ہے، انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور چین کے درمیان زرعی تعاون کو مزید وسعت دی جا رہی ہے اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اقدام کے تحت ایک ہزار پاکستانی طلبہ اور کسانوں کو چینی زرعی جامعات اور تحقیقی اداروں میں جدید مہارتوں کی تربیت دی جا رہی ہے جہاں اب تک اس پروگرام سے 800 سے زائد افراد مستفید ہو چکے ہیں جبکہ نجی شعبے کے اشتراک سے کولڈ اسٹوریج کے منصوبے بھی شروع کیے جا رہے ہیں جن پر تقریباً 7.1 ارب روپے لاگت آئے گی، اس کے ساتھ ساتھ تعمیرات اور ہاؤسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے بجٹ میں متوازن اقدامات کیے گئے ہیں اور اسی سلسلے میں وزیراعظم اپنا گھر پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ وہ پاکستان کے عوام کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے معاشی استحکام کے سفر میں حکومت کا ساتھ دیا اور حکومت نے اپنے وعدے کے مطابق جب وسائل دستیاب ہوئے تو مختلف طبقات کو ریلیف فراہم کیا ہے جس کے تحت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشنز اور کم از کم اجرت میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ پنشنرز کی سہولت کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کے نظام کو جدید بنایا گیا ہے تاکہ انہیں دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور اب فیس ریکگنیشن اور پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے تصدیق ممکن ہے، اسی طرح خواتین کی صحت سے متعلق ضروری اشیا اور بعض ادویات پر ٹیکس میں کمی اور بعض پر مکمل خاتمہ کیا گیا ہے، تعلیمی شعبہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے اعلی تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ٹینیور ٹریک سسٹم کے تحت یونیورسٹی اساتذہ بشمول پروفیسرز، ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کی تنخواہوں کو ریگولر ریٹس کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنی ذاتی دلچسپی سے کفایت شعاری کی مثال قائم کرتے ہوئے تقریباً پانچ ارب روپے کی خطیر رقم بجٹ میں بچت ممکن بنائی، خطاب کے آخر میں انہوں نے سیکرٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر، ڈائریکٹر جنرل ٹیکس پالیسی آفس اور ان کے رفقا کا شکریہ ادا کیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے گزارش کی کہ وہ معیشت کی مزید ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں تاکہ ہم پاکستان کو ایک روشن اور تابناک مستقبل کی طرف لے جا سکیں۔

دہشت گردی پاکستان کے امن اور استحکام کے خلاف گھناؤنی سازش ہے، بزدلانہ کارروائیاں قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی بنوں دھماکے کی شدید ترین مذمت، قیمتی جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات اور واقعے کی فوری تحقیقات کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 20,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ہونے والے دہشت گردی کے بزدلانہ دھماکے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانی نقصان پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے، سرکار خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری مقتدر بیان میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دھماکے کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے درجات کی بلندی، سوگوار لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد و مکمل صحت یابی کے لیے خصوصی دعا کی ہے۔

وزیرِ اعظم نے بنوں واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام اور انتظامیہ کو ہنگامی احکامات جاری کیے ہیں کہ دھماکے کے تمام زخمیوں کو علاج معالجے کے لیے ہر ممکنہ اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں، جبکہ انہوں نے مقتدر سیکیورٹی اداروں کو واقعے کی فوری اور جامع تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کی بھی سخت ہدایت دی ہے، اپنے خصوصی تعزیتی بیان میں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کڑا رخ اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی انسانیت، پاکستان کے امن، معاشی استحکام اور سی پیک سمیت دیگر قومی منصوبوں کے خلاف ایک انتہائی گھناؤنی بین الاقوامی سازش ہے، لیکن دشمن یاد رکھے کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں غیور پاکستانی قوم اور عسکری قیادت کے فولادی عزم کو ہرگز متزلزل نہیں کر سکتیں۔

وزیرِ اعظم نے ملکی سیکیورٹی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بنوں دھماکے کے تمام دہشت گردوں، ماسٹر مائنڈز اور ان کے اندرونی و بیرونی سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی اور عبرتناک سزا دی جائے گی، انہوں نے کہا کہ ریاستِ پاکستان فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے مکمل اور جڑ سے خاتمے کے لیے سو فیصد پرعزم ہے، وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ملک و قوم کے تحفظ کی خاطر جانیں نچھاور کرنے والے شہداء کی عظیم قربانیاں پوری قوم کی مقتدر امانت ہیں، ان کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور دہشت گردی کے اس ناسور کے مکمل خاتمے تک ہماری بقا کی جدوجہد بلا امتیاز جاری رہے گی۔

فیفا ورلڈ کپ 2026ء؛ ٹورنٹو ایئرپورٹ پر جرمن فٹ بال ٹیم کی رن وے پر مجرموں کی طرح سخت تلاشی کی ویڈیو وائرل، مینوئل نوئر سمیت سٹار کھلاڑی شدید برہم، ”سرحدی قوانین سب کے لیے برابر ہیں، کوئی خصوصی رعایت نہیں ملے گی،“ کینیڈین حکام کا دوٹوک مؤقف

محمود احمد june 20,2026

ٹورنٹو/برلن (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے سنسنی خیز مقابلوں کے دوران کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ایک نیا اور غیر معمولی بین الاقوامی تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جہاں جرمنی کی عالمی شہرت یافتہ فٹ بال ٹیم کو آئیوری کوسٹ کے خلاف اپنے انتہائی اہم میچ کے لیے روانگی سے قبل ٹورنٹو ایئرپورٹ پر انتہائی سخت، تضحیک آمیز اور غیر متوقع امیگریشن و سیکیورٹی مراحل سے گزرنا پڑا ہے، اسپورٹس میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جرمن ٹیم کا خصوصی طیارہ رن وے پر بالکل اسٹارٹ کھڑا ہے اور جہاز میں سوار ہونے سے عین قبل کینیڈین سرحدی حکام جرمن کھلاڑیوں اور ان کے سامان کی ایسے جامہ تلاشی لے رہے ہیں جیسے وہ کوئی عام مسافر یا مجرم ہوں۔

اس ہائی وولٹیج واقعے کے دوران جرمنی کے مقتدر اور تجربہ کار سٹار گول کیپر مینوئل نوئر کے تاثرات اور چہرے کے تاثرات سوشل میڈیا پر خاص طور پر توجہ کا مرکز بن گئے، وائرل تصاویر اور ویڈیوز میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ مینوئل نوئر رن وے پر ہونے والی اس طویل، وقت طلب اور سخت کسٹمز اسکریننگ کے عمل پر شدید ناخوش، پریشان اور غصے میں دکھائی دے رہے ہیں، جرمن میڈیا کے مطابق عالمی سطح کے مقتدر ایتھلیٹس کے ساتھ بین الاقوامی ایئرپورٹ پر عام مسافروں سے بھی زیادہ سخت اور تضحیک آمیز برتاؤ کرنے پر جرمن فٹ بال ایسوسی ایشن نے بھی کینیڈین امیگریشن حکام کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسے ورلڈ کپ کے مروجہ پروٹوکولز کے منافی قرار دیا ہے۔

دوسری جانب اس وائرل ویڈیو پر دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی جانب سے کینیڈا پر شدید نکتہ چینی کی جا رہی ہے اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا فیفا ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے آئی ہوئی عالمی ٹیموں کو خصوصی سفارتی و سیکیورٹی رعایت ملنی چاہیے یا نہیں، تاہم اس کڑے عوامی و بین الاقوامی دباؤ کے بعد کینیڈین بارڈر سروسز اور ایئرپورٹ حکام نے اپنا سخت سٹرٹیجک مؤقف جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شمالی امریکہ کے سرحدی، کسٹمز اور سیکیورٹی قوانین ملک میں داخل ہونے اور یہاں سے جانے والے تمام افراد پر بلا تفریقِ رنگ، نسل اور رتبہ یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں، حکام کا کہنا تھا کہ پروازوں کی حفاظت اور کینیڈا کے حفاظتی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی عالمی کھلاڑی یا وی آئی پی شخصیت کو سیکیورٹی چیکس میں خصوصی رعایت دینا ناممکن ہے۔

پی سی بی کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ کا فارمولا سامنے آگیا، یکم جولائی سے 30 جون 2027ء تک نافذ ہوگا، کنٹریکٹ کے حصول کے لیے میچز کھیلنے کی کڑی شرائط عائد، کھلاڑیوں کے لیے مختلف ٹریکس اور لاکھوں روپے ماہانہ معاوضوں سمیت میچ فیس کے نئے نرخ مقرر، کرکٹ ویب سائٹ کا سنسنی خیز دعویٰ

منصور احمد june 20,2026

لاہور (اسپورٹس رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے قومی کرکٹرز کے لیے نئے اور انقلابی سینٹرل کنٹریکٹ کا پورا خاکہ اور فارمولا منظرِ عام پر آگیا ہے، جس کے تحت نیا کنٹریکٹ یکم جولائی 2026ء سے لے کر 30 جون 2027ء تک کے لیے نافذ العمل ہوگا، مقتدر بین الاقوامی کرکٹ ویب سائٹ ’کرک انفو‘ کی سنسنی خیز رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے اس بار کنٹریکٹ کی اہلیت کے لیے کڑا معیار مقرر کیا ہے، جس کے تحت اب سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے صرف وہی کھلاڑی اہل تصور کیے جائیں گے جنہوں نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران پاکستان کی طرف سے کم از کم 4 ٹیسٹ میچز، 6 ون ڈے انٹرنیشنل یا پھر کم از کم 6 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے ہوں۔

رپورٹ کے مطابق نئے سینٹرل کنٹریکٹ نظام کے تحت کھلاڑیوں کی کارکردگی اور فارمیٹ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مختلف منفرد ٹریکس (Tracks) میں تقسیم کیا گیا ہے، جن کے ماہانہ معاوضوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

🏏 پی سی بی سینٹرل کنٹریکٹ 2026-27ء کے مختلف ٹریکس اور معاوضے:

کھلاڑیوں کے کیٹیگری ٹریکسفارمیٹ اور تفصیلمقررہ ماہانہ معاوضہ / وظیفہ
ٹریک اے (Track A)ٹاپ ٹیسٹ اسپیشلسٹ کرکٹرز40 لاکھ روپے
ٹریک اے بی (Track AB)ٹیسٹ اور ون ڈے فارمیٹ کے ٹاپ پلیئرز48 لاکھ روپے
ٹریک بی سی (Track BC)وائٹ بال اسپیشلسٹ کے ٹاپ کھلاڑی34 لاکھ روپے
ٹریک سی (Track C)ٹی ٹونٹی اسپیشلسٹ کھلاڑی26 لاکھ روپے
ٹریک ڈی (Track D)ابھرتے ہوئے (Emerging) نوجوان کرکٹرز10 لاکھ روپے

اسٹرٹیجک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پی سی بی نے کھلاڑیوں کے مالیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ انہیں گلوبل لیگز کھیلنے کے لیے بھی بڑی رعایت دی ہے، کنٹریکٹ کے مطابق ٹریک سی میں شامل ٹی ٹونٹی اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کو اپنے ماہانہ معاوضے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ہونے والی لاتعداد کمرشل ٹی ٹونٹی لیگز کھیلنے کے لیے این او سی حاصل کرنے کی کھلی اجازت ہوگی، اس کے علاوہ نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں ملک کے ابھرتے ہوئے نوجوان ڈومیسٹک کرکٹرز کے لیے خصوصی گنجائش اور حوصلہ افزائی رکھی گئی ہے جنہیں ٹریک ڈی کے تحت ماہانہ 10 لاکھ روپے بطور مقتدر وظیفہ دیے جائیں گے تاکہ ملک میں ٹیلنٹ کو نکھارا جا سکے۔

پی سی بی نے ماہانہ معاوضوں کے علاوہ قومی کھلاڑیوں کی میچ فیس کے حوالے سے بھی نئے اور پرکشش نرخ مقرر کر دیے ہیں، جس کے تحت اب کھلاڑیوں کو ایک ٹیسٹ میچ کھیلنے کی فیس 15 لاکھ روپے دی جائے گی، جبکہ ایک ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلنے کا معاوضہ 7 لاکھ 50 ہزار روپے اور ایک ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچ کھیلنے کی فیس 5 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، کرکٹ مبصرین کے مطابق پی سی بی کا یہ نیا کنٹریکٹ فارمولا جہاں کھلاڑیوں کو معاشی طور پر مستحکم کرے گا، وہی کارکردگی دکھانے والے اور فٹ کھلاڑیوں کو ہی ٹیم میں برقرار رکھنے میں مقتدر ثابت ہوگا۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی تیز، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی ہنگامی اور انتہائی اہم دورے پر تہران روانہ، ایرانی اعلیٰ قیادت اور سفارتی مقتدر شخصیات سے ملاقاتیں شیڈول، ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی ’ارنا‘ نے دورے کی تصدیق کر دی

کاشف عباسی ,june 20,2026

اسلام آباد/تہران (سیاسی رپورٹر/انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

سپر پاور امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کے نتیجے میں طے پانے والے تاریخی امن معاہدے ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کے بعد خطے کی بدلتی ہوئی سٹرٹیجک صورتحال کو پائیدار بنانے کے لیے پاکستان نے ایک بار پھر اپنا فعال ترین سفارتی کردار ہنگامی بنیادوں پر تیز کر دیا ہے، اس سلسلے میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی ایک انتہائی اہم اور ہنگامی دورے پر ایران کے دارالحکومت تہران روانہ ہو گئے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے اس مقتدر دورے کو مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن و امان کے قیام، عالمی سفارت کاری اور معاہدے کے خدوخال کو حتمی شکل دینے کے لحاظ سے انتہائی کلیدی اور سنسنی خیز اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے اس اعلیٰ سطح کے ہنگامی دورے کی حساسیت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی اسے بریکنگ نیوز کے طور پر نمایاں کوریج دی ہے، ایران کی آفیشل اور مقتدر سرکاری نیوز ایجنسی ”ارنا“ نے پاکستانی وزیرِ داخلہ کی تہران آمد اور اس اعلیٰ سطح کے دورے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے مطلع کیا ہے کہ محسن نقوی اپنے اس مقتدر دورے کے دوران ایرانی دارالحکومت تہران میں ایران کی اعلیٰ ترین حکومتی، عسکری اور سفارتی شخصیات سے خصوصی ملاقاتیں کریں گے، اس سٹرٹیجک دورے کا سب سے اہم، بنیادی اور حساس ترین محور ایران اور امریکہ کے درمیان جاری پسِ پردہ مذاکرات میں ہونے والی حالیہ پیشرفت، جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد اور ضامن کے طور پر پاکستان کی جانب سے کی جانے والی نئی سفارتی کوششیں ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق تہران میں ہونے والی ان مقتدر ملاقاتوں کے دوران پاک ایران دوطرفہ سیکیورٹی امور، سرحدی انتظام، خطے کی مجموعی جیو پولیٹیکل صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر تزویراتی امور پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا، یہ دورہ دراصل پاکستان کی اسی پائیدار خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت وہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں خطے میں عالمی امن کا سب سے بڑا علمبردار بن کر ابھرا ہے، سیاسی و معاشی مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے، مستقل امن و امان کے قیام اور عالمی طاقتوں کے مابین سفارتی روابط کو فعال و محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کا یہ برادرانہ اور مقتدر ثالثی کردار خطے کو ایک نئی اور محفوظ سمت کی طرف گامزن کر رہا ہے۔

پٹرول اور ڈیژل کی تاریخی سستا ہونے کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 48 روپے 29 پیسے فی لیٹر کی بھاری کمی، غریب اور متوسط طبقے کے لیے بڑا معاشی ریلیف، قیمتیں 282 روپے سے یکسر گر کر 233 روپے 90 پیسے پر آگئیں، وزارتِ خزانہ کا نوٹیفکیشن جاری

منصور احمد june 20,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے معاشی ریلیف پیکج کے فوراً بعد غریب اور پسماندہ علاقوں کے عوام کے لیے مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی پچھلے کئی ماہ کی سب سے بڑی اور نمایاں کٹوتی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں 48 روپے 29 پیسے کی بھاری کمی کی منظوری دی گئی ہے، حکومت کے اس غریب پرور فیصلے کے بعد مارکیٹ میں مٹی کے تیل کی قیمت 282 روپے 19 پیسے سے یکسر کم ہو کر 233 روپے 90 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جس کا فوری اطلاق ملک بھر میں نافذ العمل ہو چکا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمتوں میں یہ واضح اور بڑی کمی حکومت کی اسی وسیع تر سٹرٹیجک معاشی پالیسی اور ریلیف ایجنڈے کا تسلسل ہے جس کے تحت گزشتہ روز پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 74 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیژل کی قیمت میں 67 روپے کی ریکارڈ کٹوتی کر کے پٹرول 299 روپے اور ڈیژل 311 روپے کا کیا گیا تھا، وزارتِ خزانہ کے مقتدر ذرائع کا کہنا ہے کہ مٹی کے تیل کے نرخوں میں تقریباً 48 روپے سے زائد کا یہ ریلیف براہِ راست ملک کے ان پسماندہ، دیہی اور پہاڑی علاقوں کے متوسط و غریب طبقے تک پہنچے گا جو گیس کی عدم دستیابی کے باعث اسے آج بھی اپنے گھروں میں بنیادی ایندھن اور چولہا جلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جس سے ان کے گھریلو بجٹ میں نمایاں بچت ہوگی۔

دوسری جانب معاشی ماہرین اور عوامی حلقوں نے پٹرولیم مصنوعات کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی اتنی بڑی کمی کا شدید خیرمقدم کیا ہے، تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پٹرول، ڈیژل اور اب مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اس مسلسل اور یکمشت بھاری ریلیف کے بعد اب ملک بھر میں مال برداری (لاجسٹکس) اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں واضح کمی آنا ناگزیر ہو چکی ہے، جس کے براہِ راست اور مثبت اثرات روزمرہ کی اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں پر پڑیں گے اور ملک میں جاری مہنگائی کی مجموعی شرح کو گراؤنڈ پر لانے میں بہت بڑی مدد ملے گی۔

”فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف عظیم ہیں، دونوں کے ورکنگ ریلیشنز شاندار ہیں، ایک آرمی چیف کو اپنے وزیرِ اعظم کا پورا احترام کرتے دیکھنا خوبصورت ترین منظر ہے“، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کو سنسنی خیز انٹرویو، ایران جنگ رکوانے میں پاکستان کی اسٹرٹیجک ثالثی کا اعتراف

کاشف عباسی ,june 20,2026

واشنگٹن/اسلام آباد (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی امن معاہدے ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر پاکستانی قیادت کی غیر معمولی عسکری و سیاسی صلاحیتوں اور مثالی داخلی ہم آہنگی کو دنیا کے سامنے زبردست الفاظ میں سراہا ہے، واشنگٹن سے موصولہ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشہور امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کو دیے گئے ایک مقتدر اور خصوصی انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے سول اور عسکری تعلقات کو دنیا بھر کے جمہوری و دفاعی نظام کے لیے ایک شاندار اور بہترین اسٹرٹیجک مثال قرار دے دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے کی صورتحال پر کھل کر بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ سپر پاور امریکہ اور ایران کو ہولناک جنگ کے دہانے سے واپس لانے اور کائنات میں امن قائم کرانے میں پاکستان کا کردار سب سے اہم اور مخلصانہ تھا، انہوں نے پاکستانی طاقت کا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ اور تعلقات کی کیمسٹری بہت لاجواب ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک عظیم سپہ سالار ہیں اور ان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی ایک مقتدر لیڈر ہیں، دونوں کے آپس میں شاندار، مربوط اور پختہ تعلقات قائم ہیں۔“

ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے اندرونی سیاسی و عسکری ڈھانچے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے مزید کہا کہ ”یہ منظر دیکھنا بین الاقوامی برادری کے لیے انتہائی خوبصورت اور قابلِ تقلید ہے کہ ملک کا ایک طاقتور فوجی سربراہ پوری طرح اور مخلصانہ طور پر اپنے آئینی وزیرِ اعظم کا احترام کرتا ہے اور ان کے ساتھ مل کر فیصلے کرتا ہے،“ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستانی قیادت نے ایران کے ساتھ یہ پیچیدہ مفاہمتی یادداشت طے کرنے میں واشنگٹن کی بہت بڑی اور تاریخی مدد کی، کیونکہ پاکستانی حکام تہران کے حکمرانوں اور ایرانیوں کی نفسیات کو بہت اچھے طریقے سے جانتے، پرکھتے اور سمجھتے تھے۔

امریکی صدر نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ ”ہم نے ایران کو فوجی اور دفاعی سطح پر پوری طرح جکڑ کر شکست دے دی تھی، لیکن اس انتہائی نازک اور سسپنس سے بھرپور موڑ پر پاکستان نے، جو کہ امریکہ کے بہت قریب اور دیرینہ دوست ہے، مجھ سے باقاعدہ اعلیٰ سطحی درخواست کی کہ ایران پر مزید ملٹری حملے نہ کیے جائیں، جس کے بعد پاکستان کے فولادی اصرار پر ہی ہم نے مذاکرات اور مستقل امن کا راستہ اختیار کیا،“ سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ انٹرویو ظاہر کرتا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی کامیاب خارجہ پالیسی نے نہ صرف دنیا کو تیسری جنگِ عظیم سے بچایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا عسکری و سیاسی وقار بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

گلگت بلتستان جنرل انتخابات 2026ء کے حتمی نتائج کا باضابطہ اعلان، الیکشن کمیشن نے 21 کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، پیپلز پارٹی جنرل نشستوں پر سب سے بڑی جماعت بن کر ابھر آئی، ن لیگ اور آزاد امیدوار بھی کامیاب، سپریم اپیلیٹ کورٹ کے حکم پر 3 حلقوں کے نتائج مؤخر

منصور احمد june 20,2026

گلگت (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ گلگت بلتستان نے خطے میں ہونے والے حالیہ جنرل انتخابات 2026ء کے سرکاری نتائج کی روشنی میں نو منتخب اراکینِ اسمبلی کے ناموں کا باضابطہ اور مقتدر نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان کی جانب سے الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 98(1) اور الیکشن رولز 2017 کے قواعد 94 اور 96 کے تحت جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق عمومی (جنرل) نشستوں پر کامیاب ہونے والے 21 اراکین کی رکنیت کی باقاعدہ تصدیق کر دی گئی ہے، جبکہ قانونی و عدالتی چارہ جوئی کے باعث 3 حلقوں کے نتائج فی الوقت مؤخر کر دیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اسٹرٹیجک فہرست کے مطابق مختلف حلقوں سے کامیاب ہونے والے مقتدر اراکینِ اسمبلی کی تفصیل درج ذیل ہے:

🏛️ گلگت بلتستان اسمبلی کے کامیاب امیدواروں کی فہرست:

حلقہ نمبر اور نامکامیاب امیدوار کا نام
جی بی اے-1 گلگت-Iامجد حسین
جی بی اے-2 گلگت-IIحفیظ الرحمن
جی بی اے-3 گلگت-IIIسید سہیل عباس
جی بی اے-4 نگر-Iمحمد علی اختر
جی بی اے-5 نگر-IIذوالفقار علی مراد
جی بی اے-6 ہنزہنیک نام کریم
جی بی اے-7 سکردو-Iسید توقیر مہدی
جی بی اے-8 سکردو-IIمحمد کاظم
جی بی اے-10 سکردو-IVناصر علی خان
جی بی اے-11 کھرمنگاقبال حسن
جی بی اے-12 شگرعمران ندیم
جی بی اے-13 استور-Iرانا فرمان علی
جی بی اے-14 استور-IIرانا محمد فاروق
جی بی اے-16 دیامر-IIامام ملک
جی بی اے-18 دیامر-IVملک کفایت الرحمٰن
جی بی اے-19 غذر-Iسید جلال علی شاہ
جی بی اے-20 غذر-IIعبدالجہان
جی بی اے-21 غذر-IIIامان علی
جی بی اے-22 گانچھے-Iمحمد ابراہیم ثنائی
جی بی اے-23 گانچھے-IIانور علی
جی بی اے-24 گانچھے-IIIاسد شفیق

نوٹیفکیشن کے مطابق گلگت بلتستان کے ان اہم ترین جنرل انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز نے شاندار سیاسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنرل نشستوں پر سب سے زیادہ کامیابیاں حاصل کی ہیں اور وہ ایوان میں سب سے بڑی پارلیمانی قوت بن کر سامنے آئی ہے، اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ن)، مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم)، متعدد آزاد امیدواروں اور استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے امیدوار بھی بھاری اکثریت سے منتخب ہو کر نئی گلگت بلتستان اسمبلی کا حصہ بننے میں کامیاب رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مقتدر ذرائع نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ تمام امیدواروں کی کامیابی کا باقاعدہ اعلان تمام قانونی، آئینی اور انتخابی تقاضوں کی سو فیصد تکمیل اور ریٹرننگ افسران کے حتمی مینوئل ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد کیا گیا ہے، جس کے ساتھ ہی منتخب اراکین کی گزیٹڈ فہرست باضابطہ طور پر شائع کر دی گئی ہے، الیکشن کمیشن نے صراحت کی ہے کہ جہاں 21 ممبران کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے، وہیں باقی ماندہ 3 حلقوں کے ممبران کے نتائج سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے حالیہ احکامات اور حکمِ امتناع کی روشنی میں روک دیے گئے ہیں، جن کا فیصلہ عدالتی احکامات کے بعد کیا جائے گا۔

”میں اور اٹلی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے“، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے توہین آمیز ریمارکس پر اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کا کرارا جواب، احتجاجاً اطالوی نائب وزیرِ اعظم کا دورۂ امریکہ منسوخ، جی 7 سمٹ کے بعد واشنگٹن اور روم میں شدید سفارتی جنگ چھڑ گئی

محمود احمد june 19,2026

روم/واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

فرانس میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس کے سائیڈ لائنز پر شروع ہونے والا تنازع اب ایک ہولناک بین الاقوامی سفارتی بحران میں تبدیل ہو گیا ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زہریلے اور توہین آمیز بیانات کے خلاف اٹلی کی قیادت نے انتہائی کڑا اور مقتدر رخ اختیار کر لیا ہے، روم سے جاری ہونے والی بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سرِعام “جھوٹا، من گھڑت اور خود ساختہ” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ جارجیا میلونی ان کے ساتھ تصویر کھچوانے کے لیے منت سماجت کر رہی تھیں، اطالوی وزیرِ اعظم نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں تہران نما عزم کے ساتھ واضح کیا کہ ”امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہر صورت یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جارجیا میلونی اور ملک اٹلی دنیا میں کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔“

اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کا مزید کہنا تھا کہ سپر پاور کے صدر کا یہ اڑیل بیان سراسر خود ساختہ کہانی پر مبنی ہے اور اس غیر ذمہ دارانہ رویے سے پوری اطالوی حکومت کو شدید مایوسی ہوئی ہے، انہوں نے کڑی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”میں اب تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ امریکی صدر اپنے دیرینہ اور مخلص یورپی اتحادیوں کے ساتھ اس طرح کا تضحیک آمیز برتاؤ آخر کیوں کرتے ہیں؟“ واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب جی 7 سربراہی اجلاس کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مقتدر انٹرویو کے دوران سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ”اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی میرے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے مسلسل منتیں اور سماجت کر رہی تھیں، جس پر مجھے ان کی حالت دیکھ کر ترس آگیا اور میں نے فوٹو بنوا لی۔“

ٹرمپ کے اس انتہائی توہین آمیز اور تکبر سے بھرپور بیان پر پورے اٹلی میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، جس پر ہنگامی سفارتی ایکشن لیتے ہوئے اٹلی کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے امریکی صدر کے رویے کے خلاف سخت ترین احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اپنا دورۂ امریکہ یکسر منسوخ کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، اطالوی وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے واشنگٹن کو کڑا پیغام بھیجتے ہوئے کہا کہ ”صدر ٹرمپ کی جانب سے ہماری وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کے خلاف استعمال کیے گئے گھٹیا اور توہین آمیز الفاظ سے پورے اطالوی عوام اور ریاست کے وقار کو شدید ٹھیس پہنچی ہے، اس توہین کے بعد میں کسی صورت واشنگٹن نہیں جا سکتا،“ انہوں نے مطلع کیا کہ اسی احتجاجی فیصلے کے تحت وہ 21 اور 22 جون کو ہونے والا اپنا اہم ترین طے شدہ سرکاری دورۂ امریکہ منسوخ کر رہے ہیں، سیاسی مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد صدر ٹرمپ کا یورپی اتحادیوں کے ساتھ یہ نیا محاذ واشنگٹن کو عالمی سیاست میں مزید تنہا کر سکتا ہے۔

”چینی صدر شی جن پنگ اور نریندر مودی دنیا کے دو مضبوط ترین رہنما ہیں، مودی فرشتے کی طرح نظر آتے ہیں لیکن مذاکرات میں بے رحم قاتل ہیں“، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جی 7 سمٹ کے بعد سنسنی خیز انٹرویو، ایران محاذ آرائی کے بعد صدارتی اختیارات کی حدود نہ ہونے کا دعویٰ

محمود احمد june 19,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو اس وقت دنیا کے دو سب سے زیادہ مضبوط اور بااثر ترین عالمی رہنما قرار دے دیا ہے، واشنگٹن سے جاری بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس سے واپسی پر دیے گئے ایک انتہائی مقتدر اور سنسنی خیز انٹرویو میں امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ ان عالمی لیڈرز کی فہرست میں سرفہرست ہیں جنہیں وہ ذاتی طور پر سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں کی نفسیات کا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ کو “مکمل طور پر ایک کاروباری اور نفع نقصان دیکھنے والی شخصیت” جبکہ بھارتی وزیرِ اعظم مودی کو “ایک حد سے زیادہ سخت، پختہ اور ضدی انسان” قرار دیا۔

امریکی صدر نے فرانس میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس وقت ایک نیا پینڈورا باکس اور بحث چھیڑ دی جب انہوں نے تجارتی مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ایک ہی سانس میں ‘فرشتہ’ اور ‘قاتل’ قرار دے دیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا کڑے الفاظ میں کہنا تھا کہ ”نریندر مودی دنیا کے سخت ترین اور مشکل ترین مذاکرات کاروں میں سے ایک ہیں، وہ دیکھنے میں بہت خوبصورت، دھیمے اور معصوم نظر آتے ہیں، بالکل ایک فرشتے کی طرح، لیکن جب بات اپنے ملکی مفاد اور تجارت کی ہو تو حقیقت میں وہ انتہائی سخت، ایک بے رحم قاتل کی طرح سودے بازی کرتے ہیں اور رتی برابر بھی گنجائش نہیں دیتے۔“ انٹرویو کے دوران امریکی صدر نے کسی بھی ایسے عالمی رہنما کا نام لینے سے صاف گریز کیا جسے وہ سیاسی یا سٹرٹیجک طور پر کمزور سمجھتے ہوں۔

انٹرویو کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے ایک اور سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ حالیہ بین الاقوامی واقعات، بشمول ایران کے ساتھ ہونے والی شدید فوجی و سفارتی محاذ آرائی اور اس کے بعد طے پانے والے تاریخی امن معاہدے نے ان کے اس یقین کو فولادی بنا دیا ہے کہ امریکی صدارتی اختیارات کی کوئی طے شدہ “حدود” نہیں ہیں اور ایک امریکی صدر دنیا کا نقشہ بدلنے کی طاقت رکھتا ہے، مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ مقتدر بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ حالیہ کامیابی کے بعد خود کو عالمی سیاست کا سب سے طاقتور محور قرار دے رہے ہیں جبکہ چین اور بھارت کے ساتھ مستقبل میں سخت تجارتی معرکوں کی تیاری کا اشارہ بھی دے رہے ہیں۔

”اگر جنگ بروقت نہ روکی جاتی تو تیسری جنگ عظیم کے 200 فیصد امکانات تھے، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پوری دنیا کے مستقل امن کی دستاویز ہے“، وزیرِ اعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ کی ’اے آر وائی نیوز‘ میں مقتدر گفتگو، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور شہباز شریف کو عظیم تاریخی ہیرو قرار دے دیا

کاشف عباسی ,june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور اور مقتدر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے مابین چھڑنے والی ہولناک جنگ کو اگر پاکستان اپنی دور اندیش سفارت کاری کے ذریعے بروقت نہ روکتا تو دنیا میں تیسری جنگِ عظیم (World War III) چھڑنے کے 200 فیصد امکانات موجود تھے، انٹرنیشنل پریس ایجنسی اور نجی ٹی وی چینل ’اے آر وائی نیوز‘ کے مقتدر پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی عالمی امن کے لیے سرانجام دی جانے والی لازوال خدمات کو تاریخ کے سنہری حروف میں لکھا جائے گا اور دنیا انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔

رانا ثناء اللہ نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی سٹرٹیجک اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کڑا مؤقف اختیار کیا کہ یہ امن معاہدہ محض ایک عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مستقل امن اور بقا کی ایک تاریخی دستاویز ہے، انہوں نے واضح کیا کہ یہ معرکہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان ایک محدود جنگ نہیں تھی بلکہ اس کی لپیٹ میں آکر پوری دنیا کا جغرافیائی نقشہ یکسر بدل سکتا تھا اور ہر طرف تباہی پھیل جاتی، لیکن پاکستان نے مخلصانہ کردار ادا کر کے انسانیت کی بھلائی کے لیے اس جنگ کو عین اسی نازک مرحلے پر روک دیا جہاں سے پوری کائنات کو تباہی کے دہانے سے بچا لیا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم کے مشیر نے سفارتی کامیابی کا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے فخر سے بتایا کہ سپر پاور امریکہ اور ایران کے مابین اس عظیم الشان امن معاہدے کا سہرا سو فیصد پاکستان کے سر سجتا ہے، انہوں نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ ”اس تاریخی دستاویز پر امریکہ اور ایران کے صدور نے باقاعدہ دستخط کیے ہیں، اور دنیا کی ان دونوں بڑی طاقتوں کے دستخطوں کو باضابطہ طور پر ‘ویریفائی’ اور ضامن کا کردار پاکستان نے ادا کیا ہے،“ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اس وقت وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر دونوں قوم کے عظیم ہیرو بن کر ابھرے ہیں اور غیور پاکستانی قوم اپنے ان مقتدر سپہ سالاروں پر ہمیشہ خون کے آخری قطرے تک فخر کرے گی، انہوں نے یاد دلایا کہ یہ تمام تاریخی و معاشی کامیابیاں معرکے کے فوراً بعد حاصل ہوئیں جو پاکستان کی عسکری و سفارتی طاقت کا عالمی لوہا ماننے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔