حب میں پاکستان کی پہلی جدید گرین فیلڈ ریفائنری کا قیام، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے سپیک ریفائنری کے وفد کی اہم ملاقات، ایف بی آر امور اور ریگولیٹری منظوریوں کو جلد مکمل کرنے کی درخواست، ۲ ہزار ملازمتیں پیدا ہوں گی

Spread the love

منصور احمد june 10,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

پاکستان کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنانے اور صنعتی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں ملک کی پہلی ڈیپ کنورژن گرین فیلڈ ریفائنری لگانے کے منصوبے پر پیش رفت تیز ہو گئی ہے، وفاقی دارالحکومت سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے سپیک ریفائنری پرائیویٹ لمیٹڈ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے خصوصی ملاقات کی، جس کی قیادت کمپنی کے مخلص اور سینیئر چیئرمین ظفر شیخ کر رہے تھے، اس اہم بیٹھک میں حب، بلوچستان میں پاکستان کی اس پہلی ڈیپ کنورژن گرین فیلڈ ریفائنری کے میگا منصوبے کے خدوخال اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات کے دوران وفد نے وفاقی وزیر تجارت کو منصوبے کی اب تک کی پیش رفت سے تفصیلی طور پر آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مجوزہ ریفائنری دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہوگی، جو ہر قسم کے خام تیل (Crude Oil) کو کامیابی سے پراسیس کر کے ملکی ضرورت کے مطابق اعلیٰ ترین معیار کی پیٹرولیم مصنوعات تیار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، کمپنی کے چیئرمین ظفر شیخ اور وفد نے وفاقی حکومت سے مخلصانہ درخواست کی کہ گرین فیلڈ ریفائنری پالیسی کے تحت منصوبے کے لیے درکار تمام ریگولیٹری منظوریوں، بالخصوص فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے متعلقہ ٹیکس و کسٹمز کے دیرینہ امور کو جلد از جلد مکمل اور کلیئر کیا جائے تاکہ اس بڑے منصوبے کی بروقت تکمیل کو ہر صورت ممکن بنایا جا سکے، وفد کے مطابق اس گرین فیلڈ ریفائنری کے قیام سے حب اور اس کے گردونواح کے پسماندہ علاقوں میں رہنے والے مقامی نوجوانوں کے لیے تقریباً دو ہزار (2,000) سے زائد براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے شاندار مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ یہ منصوبہ مقامی صنعت کی ترقی، نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کی پاکستان منتقلی اور علاقائی سطح پر معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرے گا، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اس بڑی سرمایہ کاری کا کھلے دل سے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی بہترین اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت، آبادی کے لحاظ سے بڑی مقامی مارکیٹ اور علاقائی تجارتی راہداریوں (سی پیک وغیرہ) کی بدولت توانائی اور صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے شمار اور پرکشش مواقع فراہم کرتا ہے، انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ حب ریفائنری جیسے بڑے اور جدید منصوبے پاکستان کے پائیدار توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے، مہنگے درآمدی ایندھن پر ملکی انحصار کو کم کرنے، صنعتی انقلاب کو فروغ دینے اور مستقبل میں مزید ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے، سپیک ریفائنری کے وفد نے وفاقی وزیر کو مستقبل میں پیٹروکیمیکل صنعتوں کے باقاعدہ قیام اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی مقامی سطح پر تیاری سے متعلق اپنے وسیع وژن اور ماسٹر پلان سے بھی آگاہ کیا، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے پاکستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو نئی جلا ملے گی اور ملکی برآمدات میں اربوں ڈالر کے اضافے کی نئی راہیں کھلیں گی۔