پی سی بی کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ کا فارمولا سامنے آگیا، یکم جولائی سے 30 جون 2027ء تک نافذ ہوگا، کنٹریکٹ کے حصول کے لیے میچز کھیلنے کی کڑی شرائط عائد، کھلاڑیوں کے لیے مختلف ٹریکس اور لاکھوں روپے ماہانہ معاوضوں سمیت میچ فیس کے نئے نرخ مقرر، کرکٹ ویب سائٹ کا سنسنی خیز دعویٰ

Spread the love

منصور احمد june 20,2026

لاہور (اسپورٹس رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے قومی کرکٹرز کے لیے نئے اور انقلابی سینٹرل کنٹریکٹ کا پورا خاکہ اور فارمولا منظرِ عام پر آگیا ہے، جس کے تحت نیا کنٹریکٹ یکم جولائی 2026ء سے لے کر 30 جون 2027ء تک کے لیے نافذ العمل ہوگا، مقتدر بین الاقوامی کرکٹ ویب سائٹ ’کرک انفو‘ کی سنسنی خیز رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے اس بار کنٹریکٹ کی اہلیت کے لیے کڑا معیار مقرر کیا ہے، جس کے تحت اب سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے صرف وہی کھلاڑی اہل تصور کیے جائیں گے جنہوں نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران پاکستان کی طرف سے کم از کم 4 ٹیسٹ میچز، 6 ون ڈے انٹرنیشنل یا پھر کم از کم 6 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے ہوں۔

رپورٹ کے مطابق نئے سینٹرل کنٹریکٹ نظام کے تحت کھلاڑیوں کی کارکردگی اور فارمیٹ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مختلف منفرد ٹریکس (Tracks) میں تقسیم کیا گیا ہے، جن کے ماہانہ معاوضوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

🏏 پی سی بی سینٹرل کنٹریکٹ 2026-27ء کے مختلف ٹریکس اور معاوضے:

کھلاڑیوں کے کیٹیگری ٹریکسفارمیٹ اور تفصیلمقررہ ماہانہ معاوضہ / وظیفہ
ٹریک اے (Track A)ٹاپ ٹیسٹ اسپیشلسٹ کرکٹرز40 لاکھ روپے
ٹریک اے بی (Track AB)ٹیسٹ اور ون ڈے فارمیٹ کے ٹاپ پلیئرز48 لاکھ روپے
ٹریک بی سی (Track BC)وائٹ بال اسپیشلسٹ کے ٹاپ کھلاڑی34 لاکھ روپے
ٹریک سی (Track C)ٹی ٹونٹی اسپیشلسٹ کھلاڑی26 لاکھ روپے
ٹریک ڈی (Track D)ابھرتے ہوئے (Emerging) نوجوان کرکٹرز10 لاکھ روپے

اسٹرٹیجک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پی سی بی نے کھلاڑیوں کے مالیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ انہیں گلوبل لیگز کھیلنے کے لیے بھی بڑی رعایت دی ہے، کنٹریکٹ کے مطابق ٹریک سی میں شامل ٹی ٹونٹی اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کو اپنے ماہانہ معاوضے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ہونے والی لاتعداد کمرشل ٹی ٹونٹی لیگز کھیلنے کے لیے این او سی حاصل کرنے کی کھلی اجازت ہوگی، اس کے علاوہ نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں ملک کے ابھرتے ہوئے نوجوان ڈومیسٹک کرکٹرز کے لیے خصوصی گنجائش اور حوصلہ افزائی رکھی گئی ہے جنہیں ٹریک ڈی کے تحت ماہانہ 10 لاکھ روپے بطور مقتدر وظیفہ دیے جائیں گے تاکہ ملک میں ٹیلنٹ کو نکھارا جا سکے۔

پی سی بی نے ماہانہ معاوضوں کے علاوہ قومی کھلاڑیوں کی میچ فیس کے حوالے سے بھی نئے اور پرکشش نرخ مقرر کر دیے ہیں، جس کے تحت اب کھلاڑیوں کو ایک ٹیسٹ میچ کھیلنے کی فیس 15 لاکھ روپے دی جائے گی، جبکہ ایک ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلنے کا معاوضہ 7 لاکھ 50 ہزار روپے اور ایک ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچ کھیلنے کی فیس 5 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، کرکٹ مبصرین کے مطابق پی سی بی کا یہ نیا کنٹریکٹ فارمولا جہاں کھلاڑیوں کو معاشی طور پر مستحکم کرے گا، وہی کارکردگی دکھانے والے اور فٹ کھلاڑیوں کو ہی ٹیم میں برقرار رکھنے میں مقتدر ثابت ہوگا۔