معاشی اور اقتصادی بحالی کیلئے قومی اتفاقِ رائے اہم، معاشی اعداد و شمار اور اشاریے اقوامِ متحدہ کے مروجہ بین الاقوامی معیار کے مطابق مرتب کئے گئے ہیں، وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا قومی اسمبلی میں مقتدر خطاب

Spread the love

منصور احمد june 20,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 20 ؎جون 2026ء

وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملکی معاشی اور اقتصادی بحالی کے لیے قومی اتفاقِ رائے نہایت اہمیت کا حامل ہے، معاشی اعدادوشمار اور اشاریے مروجہ طریقہ ہائے کار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مرتب کئے گئے ہیں، بجٹ میں تنخواہ دار طبقہ، زراعت، صنعت اور برآمدات پر مبنی نمو کیلئے جامع اقدامات کئے گئے ہیں، حکومت نے متوازن، ترقی دوست اور معیشت کو استحکام دینے والا بجٹ دیا ہے اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ قومی اسمبلی کے مقتدر اجلاس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ اور مالیاتی بل 2026-27ء پر عام بحث کو سمیٹتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ معزز اراکینِ قومی اسمبلی عظیم الدین زاہد اور خواجہ شیراز محمود نے بجٹ دستاویزات میں مبینہ تضادات کے حوالے سے استحقاق کی تحریک پیش کی، میں معزز اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے یہ معاملہ ایوان کے سامنے رکھا جہاں معزز اراکین کی جانب سے جی ڈی پی، فی کس آمدنی اور ان کے تعین کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ انہوں نے پوری ذمہ داری کے ساتھ ایوان کو یقین دلایا کہ پاکستان بیورو آف شماریات نے نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کی تیاری کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور تمام اعداد و شمار مالی سال 2015-16 کو بیس ایئر بنا کر اقوامِ متحدہ کے سسٹم آف نیشنل اکاؤنٹس کے مطابق مرتب کیے گئے ہیں، یہ اعداد و شمار نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں منظور کیے جاتے ہیں جس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ماہرینِ معیشت، جامعات اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔

وزیرخزانہ نے واضح کیا کہ حقیقی جی ڈی پی معاشی سرگرمیوں میں ہونے والی حقیقی تبدیلی کو قیمتوں کے اثرات سے پاک کرکے ناپتی ہے، اسی لیے 3.7 فیصد شرح نمو کو 2015-16 کی مستقل قیمتوں پر شمار کیا گیا ہے جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیار ہے جبکہ دوسری جانب نامینل جی ڈی پی گروتھ موجودہ مارکیٹ قیمتوں پر شمار کی جاتی ہے اور اسے اوسط شرح مبادلہ کے ذریعے امریکی ڈالر میں تبدیل کیا جاتا ہے، اسی بنیاد پر مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت کا حجم تقریباً 452 ارب امریکی ڈالر رہنے کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے اور اسی طرح فی کس آمدنی کا تعین بھی موجودہ قیمتوں، مجموعی قومی آمدنی اور 2023 کی مردم شماری کے بعد جاری کردہ آبادی کے تخمینوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے لہٰذا نہ تو طریق کار تبدیل ہوا ہے اور نہ ہی اعداد و شمار مرتب کرنے کے اصول بدلے ہیں۔ خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے ایک بڑا انکشاف کیا کہ ہماری مشترکہ سول و عسکری کوششیں رنگ لائی ہیں اور خطے پر منڈلاتے جنگ کے بادل اب چھٹ چکے ہیں جبکہ امن کی فضا دوبارہ قائم ہوئی ہے، پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان موثر سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے مذاکرات کی راہ ہموار کی، دونوں ممالک کو ایک میز پر بٹھایا اور امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا جو پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک قابلِ فخر باب ہے اور اس پر وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، تمام سیاسی جماعتیں، پارلیمان اور پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔

انہوں نے بجٹ پر ہونے والی بحث میں بھرپور اور تعمیری انداز میں حصہ لینے پر تمام اراکینِ قومی اسمبلی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ بالخصوص قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے چیئرمین سید نوید قمر اور دونوں قائمہ کمیٹیوں کے معزز اراکین کے خصوصی طور پر شکر گزار ہیں جنہوں نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران نہایت محنت، خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ بجٹ تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعدد مفید سفارشات پیش کیں جن میں سے کئی تجاویز کو فنانس بل 2026 کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں، معاشی تجزیہ کاروں، ماہرینِ معیشت، کاروباری برادری اور مختلف چیمبرز آف کامرس کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے بجٹ پر مثبت اور تعمیری آرا دیں، اس کے ساتھ ہی وزیرخزانہ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں قائم اتحادی حکومت میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین، بالخصوص میاں محمد نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیق، چوہدری شجاعت حسین، عبدالعلیم خان اور خالد حسین مگسی کا دلی شکریہ ادا کیا جنہوں نے بجٹ کی تیاری کے دوران ان کی رہنمائی اور مشاورت کی جو ہمارے لیے نہایت اہم اور مفید ثابت ہوئی۔

وزیرخزانہ نے ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال بتاتے ہوئے سنسنی خیز اعداد و شمار پیش کیے کہ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں تقریباً 6.5 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی ہے جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح ہے اور اسی طرح ہمارا بیرونی شعبہ بھی مستحکم ہوا ہے جہاں گزشتہ مالی سال کی طرح رواں مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران بھی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں رہا جو معیشت کیلئے ایک انتہائی حوصلہ افزا اشارہ ہے، انہوں نے کہا کہ ہماری سمندر پار مقیم پاکستانی برادری نے بھی ایک بار پھر اپنی وطن دوستی کا بھرپور ثبوت دیا ہے اور گزشتہ ماہ انہوں نے 4.25 ارب امریکی ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر پاکستان بھیجیں جبکہ مجھے پوری امید ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک ترسیلاتِ زر 41 ارب امریکی ڈالر کے ہدف سے بھی تجاوز کر جائیں گی جو ملکی تاریخ کا ایک نیا ریکارڈ ہوگا، اس کے ساتھ ہی ہمارا برآمدی شعبہ مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہے بالخصوص ویلیو ایڈڈ برآمدات جن میں گارمنٹس، ہوم ٹیکسٹائل اور آئی ٹی کا شعبہ شامل ہیں نمایاں ترقی کر رہے ہیں جہاں رواں مالی سال کے دوران آئی ٹی برآمدات میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ مجموعی آئی ٹی برآمدات 4.5 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے جو ایک نیا قومی ریکارڈ ہوگا اور اسی طرح ہمارے نوجوان فری لانسرز نے بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1.6 ارب ڈالر کا ریکارڈ زرمبادلہ ملک میں لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ حکومت اور اس بجٹ کا بنیادی مقصد ایک ایسی برآمدات پر مبنی، پائیدار اور جامع معاشی ترقی کا حصول ہے جس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو، سرمایہ کاری کو فروغ ملے اور ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں، ہم اکثر یہ شکایت سنتے رہے ہیں کہ پاکستان میں دستاویزی معیشت اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے افراد ہی زیادہ بوجھ برداشت کرتے ہیں لیکن اس حکومت نے اس سوچ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم نے بوجھ ڈالنے کی بجائے ٹیکس کی وسعت اور گہرائی کی حکمت عملی اختیار کی ہے جس کے تحت موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے گا اور اس کی بنیاد کو مضبوط بنایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ حکومت گزشتہ دو برس سے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات پر مسلسل کام کر رہی ہے اور انہی اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس پالیسی کو ٹیکس انتظامیہ سے الگ کیا گیا تاکہ پالیسی سازی اور اس کے نفاذ میں شفافیت اور موثریت پیدا ہو، اسی تسلسل میں حکومت ایک نیا ٹیکس آپریٹنگ ماڈل متعارف کرا رہی ہے جس کے تحت ٹیکس دہندگان اور ٹیکس افسران کے درمیان براہِ راست رابطے کو کم سے کم کر دیا جائے گا اور آڈٹ، تشخیص اور دیگر کارروائیاں زیادہ تر خودکار اور فیس لیس نظام کے ذریعے انجام دی جائیں گی، ان اصلاحات کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل رجسٹریشن اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ، ہراسانی کے امکانات میں کمی، شفافیت کا فروغ اور ٹیکس قوانین پر رضاکارانہ عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے، انہوں نے ریوینیو اہداف کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ 1988ء سے 2011ء تک کے 23 برس کے عرصے میں تقریباً 14 ارب امریکی ڈالر کے اضافی ٹیکس محصولات حاصل کیے گئے اور اسی طرح 2011ء سے 2024ء تک کے برسوں میں بھی تقریباً 14 ارب امریکی ڈالر کے اضافی محصولات جمع ہوئے لیکن اس کے برعکس موجودہ حکومت نے صرف گزشتہ دو برسوں کے دوران تقریباً 14 ارب امریکی ڈالر کے اضافی ٹیکس محصولات حاصل کیے ہیں جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے اور یہ کامیابی وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ذاتی توجہ، واضح وژن اور ایف بی آر کی تنظیمِ نو واصلاحات کے لیے ان کی مسلسل رہنمائی کا نتیجہ ہے۔

وزیرخزانہ نے زرعی شعبہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور حکومت نے زراعت اور کسانوں کے لیے خاطر خواہ اقدامات اور ترقیاتی پیکجز کا اعلان کیا ہے جہاں زرعی پیداوار میں اضافہ اور چھوٹے کاشتکاروں کو سہولت دینے کے لیے ایک مربوط زرعی سکیم شروع کی گئی ہے جس کے تحت 300 ارب روپے کے بلاسود اور آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں جس سے تقریباً ساڑھے سات لاکھ چھوٹے کسان مستفید ہوں گے، اسی طرح زرعی شعبے میں مالی معاونت کے لیے 109 ارب روپے سے زائد کے قرضوں کی فراہمی کا منصوبہ ہے جبکہ کھاد خصوصاً یوریا پر تقریباً 10 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے اور وفاق کے تحت زراعت و لائیو اسٹاک کے منصوبوں کے لیے 4.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور مشینری تک رسائی دینے کے لیے سبسڈی اور رسک شیئرنگ کے تحت تقریباً 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ فصلوں اور لائیو اسٹاک کی انشورنس اسکیم کے لیے بھی اہم رقم رکھی گئی ہے، انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور چین کے درمیان زرعی تعاون کو مزید وسعت دی جا رہی ہے اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے اقدام کے تحت ایک ہزار پاکستانی طلبہ اور کسانوں کو چینی زرعی جامعات اور تحقیقی اداروں میں جدید مہارتوں کی تربیت دی جا رہی ہے جہاں اب تک اس پروگرام سے 800 سے زائد افراد مستفید ہو چکے ہیں جبکہ نجی شعبے کے اشتراک سے کولڈ اسٹوریج کے منصوبے بھی شروع کیے جا رہے ہیں جن پر تقریباً 7.1 ارب روپے لاگت آئے گی، اس کے ساتھ ساتھ تعمیرات اور ہاؤسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے بجٹ میں متوازن اقدامات کیے گئے ہیں اور اسی سلسلے میں وزیراعظم اپنا گھر پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ وہ پاکستان کے عوام کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے معاشی استحکام کے سفر میں حکومت کا ساتھ دیا اور حکومت نے اپنے وعدے کے مطابق جب وسائل دستیاب ہوئے تو مختلف طبقات کو ریلیف فراہم کیا ہے جس کے تحت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشنز اور کم از کم اجرت میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ پنشنرز کی سہولت کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کے نظام کو جدید بنایا گیا ہے تاکہ انہیں دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور اب فیس ریکگنیشن اور پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے تصدیق ممکن ہے، اسی طرح خواتین کی صحت سے متعلق ضروری اشیا اور بعض ادویات پر ٹیکس میں کمی اور بعض پر مکمل خاتمہ کیا گیا ہے، تعلیمی شعبہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے اعلی تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ٹینیور ٹریک سسٹم کے تحت یونیورسٹی اساتذہ بشمول پروفیسرز، ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کی تنخواہوں کو ریگولر ریٹس کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنی ذاتی دلچسپی سے کفایت شعاری کی مثال قائم کرتے ہوئے تقریباً پانچ ارب روپے کی خطیر رقم بجٹ میں بچت ممکن بنائی، خطاب کے آخر میں انہوں نے سیکرٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر، ڈائریکٹر جنرل ٹیکس پالیسی آفس اور ان کے رفقا کا شکریہ ادا کیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے گزارش کی کہ وہ معیشت کی مزید ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں تاکہ ہم پاکستان کو ایک روشن اور تابناک مستقبل کی طرف لے جا سکیں۔