

کاشف عباسی ,june 22,2026
تربت ( نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء
انسدادِ دہشت گردی کی مقتدر عدالت تربت نے فتنہ الہندوستان کے نیٹ ورک اور دیگر کالعدم تنظیموں سے منسلک خطرناک سہولت کار ساجد احمد کو دہشت گردی، معاونت اور غیر قانونی اسلحہ ایکٹ کے مروجہ مقدمات میں مجموعی طور پر 14 سال سخت قیدِ بامشقت کی سزا کا حکم دے دیا ہے۔ عدالتی دستاویزات اور سرکاری سکیورٹی ذرائع کے مطابق، مجرم ساجد احمد کو حساس اداروں اور سکیورٹی فورسز نے ضلع پنجگور کے ایک حساس علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ کامیاب کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا، جہاں تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید خودکار اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا تھا۔
تفتیشی حکام اور استغاثہ نے عدالت کے سامنے مضبوط شواہد پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم ریاست مخالف اور ملک دشمن نیٹ ورکس کے مقتدر مہروں سے براہِ راست رابطے میں تھا، جبکہ اس پر کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے لیے تزویراتی سہولت کاری کرنے، مقامی معصوم نوجوانوں کو ورغلا کر شدت پسند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور متعدد تخریبی منصوبوں میں معاونت فراہم کرنے کے سنگین الزامات ثابت ہوئے۔ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے ناقابلِ تردید سائنسی و دستاویزی شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ملزم کو قصوروار قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کے مقدمے میں 14 سال قید کی سزا سنائی جبکہ ‘بلوچستان آرمز ایکٹ’ کے تحت بھی اضافی جرمانے اور قید کی مقتدر سزا عائد کی ہے۔
عدالتی فیصلے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اعلیٰ اداروں نے اس تزویراتی اقدام کو دہشت گردی کے سہولت کاروں اور فیلڈ نیٹ ورکس کے خلاف جاری آپریشنز میں ایک بڑی اور اہم ترین پیش رفت قرار دیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا واشگاف الفاظ میں کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر، تخریب کاروں اور ان کے مقامی و بین الاقوامی سہولت کاروں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے کسی بھی عنصر کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، اس فیصلے سے دہشت گردی کی سپلائی لائن کو توڑنے میں مدد ملے گی، جبکہ سکیورٹی اداروں نے امن و امان کی مقتدر صورتحال برقرار رکھنے کے لیے عوام سے کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دینے کی اپیل کی ہے۔