افغان طالبان رجیم کا جھوٹ ایک بار پھر بے نقاب، کابل میں دہشت گردوں کی مبینہ وی آئی پی میزبانی کے دعوے سامنے آگئے

Spread the love

محمود احمد june 22,2026

کابل/اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

افغان طالبان حکومت کی جانب سے سرحد پار کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں اور مقتدر مراعات دینے سے متعلق الزامات اور حقائق ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے والی تازہ ترین تصاویر و شواہد کے بعد یہ چونکا دینے والا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک انتہائی معروف فائیو اسٹار ہوٹل میں پاکستان کو مطلوب کالعدم شدت پسند گروپس سے وابستہ ہائی پروفائل افراد کی کھلی موجودگی دیکھی گئی ہے۔

تزویراتی ذرائع کے مطابق، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان دستاویزی تصاویر میں بعض ایسے مسلح اور بااثر افراد کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے جن کے بارے میں مصدقہ طور پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد سنگین وارداتوں میں ملوث ‘حافظ گل بہادر گروپ’ سے وابستہ ہیں۔ تصاویر کے حوالے سے جیو پولیٹیکل ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کابل کے سب سے مقتدر اور معروف ‘انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل’ کے اندر کی ہیں، جہاں مبینہ طور پر یہ شدت پسند کمانڈرز نہ صرف سرکاری مہمانوں کی طرح قیام پذیر تھے بلکہ ہوٹل کے مختلف حصوں میں بلا خوف و خطر گھومتے پائے گئے۔ بعض بین الاقوامی رپورٹس میں یہ ہولناک دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ان مقتدر دہشت گردوں کو افغان انٹیلی جنس کی جانب سے خصوصی پروٹوکول، مالی سہولیات اور سخت وی آئی پی سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔

دفاعی اور قومی سلامتی کے مقتدر ماہرین کا کہنا ہے کہ کابل کے دل میں دہشت گرد کمانڈرز کی اس سطح پر موجودگی افغانستان میں موجود تخریب کار عناصر اور افغان حکومت کے اعلیٰ مہروں کے درمیان گہرے روابط کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایسے اقدامات دوطرفہ تعلقات اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کو شدید ترین نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۔ اگرچہ افغان طالبان حکومت ماضی میں روایتی طور پر یہ دعویٰ کرتی آئی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی، تاہم ان تازہ ترین تصاویر کے منظرِ عام پر آنے کے بعد کابل کا یہ مؤقف دنیا بھر میں بری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔ علاقائی امور کے ماہرین نے زور دیا ہے کہ سرحد پار سیکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردی کے اس منظم نیٹ ورک سے نمٹنے کے لیے افغان حکومت کو اب زبانی جمع خرچ کے بجائے ٹھوس، شفاف اور ذمہ دارانہ اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔