ملاوٹ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن: پنجاب فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائی، لاہور میں جعلی دودھ تیار کرنے والا منظم گروہ گرفتار

Spread the love

کاشف عباسی ,june 22,2026

لاہور ( نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے صوبائی دارالحکومت لاہور کے گنجان آباد علاقے گوال منڈی میں ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے کیمیکلز اور سفوف کی مدد سے جعلی و مصنوعی دودھ تیار کرنے والے ایک انتہائی منظم اور خطرناک گروہ کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔ مقتدر کارروائی کے دوران مارکیٹ میں سپلائی کے لیے تیار کیا گیا تقریباً 50 لاکھ روپے مالیت کا جعلی دودھ، مضرِ صحت گاڑھا محلول اور دودھ کی تیاری میں استعمال ہونے والی بھاری مشینری برآمد کر کے مروجہ قوانین کے تحت ضبط کر لی گئی ہے۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سید موسیٰ رضا نے ویجیلنس اور ڈیری سیفٹی ٹیم کے ہمراہ ایک خفیہ اور معتبر اطلاع پر اس یونٹ پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران پاؤڈر اور مہلک کیمیکلز سے تیار شدہ 10 ہزار لیٹر جعلی دودھ اور 1500 لیٹر خطرناک گاڑھا محلول موقع پر ہی تلف کر دیا گیا، جبکہ دھندے میں ملوث ملزمان کو حراست میں لے کر ان کے خلاف تھانے میں مقتدر مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے۔ فوڈ اتھارٹی کے مروجہ ریکارڈ کے مطابق، جائے وقوعہ سے 11 گھی کے ٹین، مکسنگ مشین، 6 بڑے ڈرم، 10 بیگ پاؤڈر، 2 چلرز، 2 فریزرز، وزن کرنے والے کانٹے اور گیس سلنڈرز برآمد ہوئے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق، یہ ملاوٹ مافیا ایک رہائشی علاقے کے اندر قائم خفیہ کارخانے میں رات کے اندھیرے میں یہ مصنوعی دودھ تیار کرتا تھا، جسے صبح سویرے شہر کی مختلف مقتدر دکانوں اور نامی گرامی مارکیٹوں میں خالص دودھ کے نام پر سپلائی کیا جاتا تھا۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی سید موسیٰ رضا نے میڈیا کو بتایا کہ ملزمان پاؤڈر، پانی، ناقص گھی اور ٹیکسٹائل کیمیکلز کی مدد سے زہریلا مائع تیار کر کے معصوم شہریوں اور بچوں کی صحت کے ساتھ ایک ہولناک کھیل کھیل رہے تھے۔ موبائل لیبارٹری کے ذریعے موقع پر کیے گئے سائنسی ٹیسٹ میں دودھ کے تمام نمونے انتہائی ناقص اور انسانی صحت کے لیے کینسر کا باعث قرار پائے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پنجاب بھر میں خالص خوراک کی فراہمی کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے ذریعے شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے اردگرد ایسی کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً فوڈ اتھارٹی کی ہیلپ لائن پر دیں۔