

روزینہ اسماعیل.june 24,2026
اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء
وفاقی وزیرِ خزانہ کے مقتدر مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ برطانیہ کے معروف بین الاقوامی مالیاتی ادارے بارکلیز نے پاکستان کے معاشی مستقبل پر گہرے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ملک کے خودمختار قرضوں کی درجہ بندی میں نمایاں بہتری کر دی ہے۔ بدھ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک مقتدر پیغام میں انہوں نے بتایا کہ بارکلیز نے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے ہونے والی مثبت اور تعمیری پیشرفت کو باقاعدہ تسلیم کرتے ہوئے ملک کے خودمختار قرضوں کی درجہ بندی کو بڑھا کر ‘اوور ویٹ’ کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بڑے عالمی اقدام سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے پاکستان کی درست معاشی سمت پر بڑھتے ہوئے پختہ اعتماد کی واضح عکاسی ہو رہی ہے۔
بارکلیز کی جانب سے جاری کردہ اس تازہ ترین عالمی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن اور اندرونی مالیاتی نظم و ضبط میں حالیہ عرصے کے دوران نمایاں اور مقتدر بہتری آئی ہے، جس کے باعث ملک کے تمام اہم معاشی اشاریوں میں پائیدار استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مشیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں دوررس معاشی اصلاحات، فعال مالیاتی نظم و نسق اور بیرونی شعبے میں مقتدر بہتری کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنے میں انتہائی اہم اور اسٹریٹجک پیشرفت کی ہے، جس کے مثبت نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔
خرم شہزاد نے مزید بتایا کہ اس مقتدر رپورٹ میں پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع کو بھی غیر معمولی اور تزویراتی اہمیت دی گئی ہے۔ بارکلیز کے ماہرین کے مطابق، پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک انتہائی اہم تجارتی اور اقتصادی راہداری کی حیثیت رکھتا ہے، جو مستقبل قریب میں علاقائی تجارت، غیر ملکی سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر پاکستان موجودہ معاشی اصلاحات، سخت مالیاتی نظم و ضبط اور استحکام کی پالیسیوں پر اسی طرح عمل جاری رکھتا ہے، تو مستقبل میں عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے ملک کی کریڈٹ ریٹنگ میں مزید مقتدر بہتری کے قوی امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے اس کے دوررس فوائد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عالمی پیشرفت کے نتیجے میں پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں سے نئے قرضوں کا حصول نسبتاً آسان اور انتہائی کم لاگت پر ممکن ہو سکتا ہے، جبکہ ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔ مشیرِ خزانہ نے تاکید کی کہ بارکلیز کی جانب سے پاکستان کے خودمختار قرضوں کی درجہ بندی میں یہ مقتدر بہتری اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان کی معاشی بنیادیں بتدریج مضبوط ہو رہی ہیں اور عالمی مالیاتی ادارے اور سرمایہ کار ملک کے معاشی امکانات کو زیادہ مثبت اور تزویراتی انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ عالمی رپورٹ ایک ایسے مقتدر وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان معاشی استحکام، مالیاتی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مختلف اہم اقدامات پر سختی سے عمل پیرا ہے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں ملک کی ساکھ میں بتدریج بہترین بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔