مشرقِ وسطیٰ میں نئی بحری کشیدگی: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز کے لیے نئے بحری راستے کا اعلان، بغیر رابطے سفر کرنے والے جہازوں کو کارروائی کی سخت وارننگ

Spread the love

منصور احمد june 25,2026

تہران/واشنگٹن ( نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

تزویراتی اور تجارتی لحاظ سے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ “آبنائے ہرمز” میں ایک بار پھر شدید عالمی و سفارتی کشیدگی سر اٹھانے لگی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے بین الاقوامی تجارتی جہازوں کے گزرنے کے لیے باقاعدہ طور پر ایک بالکل نئے بحری راستے کا اعلان کر دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب کے مقتدر ترجمان نے واضح الفاظ میں وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب سے تمام بحری جہازوں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ایرانی فورسز کے ساتھ مسلسل لائیو رابطے میں رہتے ہوئے اپنے مقتدر سفر کو یقینی بنائیں۔

ترجمان پاسدارانِ انقلاب نے دوٹوک لہجے میں خبردار کیا کہ ایرانی فورسز سے پیشگی رابطے اور مقتدر اجازت کے بغیر کسی بھی دوسرے پرانے یا متبادل راستے سے گزرنا ایران کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگا اور ایسا کرنا متعلقہ جہازوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق، خطے میں اب صرف وہی بحری راستہ محفوظ تصور کیا جائے گا جس کا ایران کی جانب سے باضابطہ اعلان کیا گیا ہے، اور ان نئی مقتدر ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی تجارتی یا فوجی جہاز کو ایرانی بحریہ کی جانب سے سخت تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب، خلیج میں منعقدہ ‘بحرین تعاون کونسل’ کے مقتدر موقع پر موجود امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے اس تزویراتی اقدام پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی بحری قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی بھی قسم کا کوئی ٹول ٹیکس، فیس یا ایرانی شرائط ہرگز قبول نہیں کی جائیں گی، کیونکہ بین الاقوامی آبی گزرگاہیں کسی ایک مخصوص ریاست کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتیں۔

مارکو روبیو نے خلیجی ممالک کے مقتدر رہنماؤں سے ہونے والی اہم ملاقاتوں کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک نے اس نئی صورتحال پر اپنے شدید تزویراتی خدشات سے آگاہ کیا ہے، اور عمان سمیت تمام خلیجی ریاستیں اس خطے میں کسی بھی قسم کے ٹول ٹیکس کے نفاذ کے سخت خلاف ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے عزم کا اعادہ کیا کہ امریکہ اپنے اتحادی خلیجی ممالک کی سلامتی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور آنے والے سفارتی عمل میں ان ممالک کو مکمل طور پر شامل رکھا جائے گا۔ انہوں نے ان افواہوں کو بھی یکسر مسترد کر دیا کہ امریکہ نے ایران کو کوئی رقم منتقل کی ہے یا کسی تعمیرِ نو کے منصوبے کا حصہ ہے، جس سے خطے میں تزویراتی تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔