ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریبی اہم ترین تیل مرکز راس تنورہ کے علاقے میں کریش ہوا؛ حادثہ ایسے وقت پیش آیا جب چار ماہ کی معطلی کے بعد حال ہی میں تیل کی بین الاقوامی سپلائی دوبارہ بحال کی گئی تھی

محمود احمد june 28,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کا ایک ہیلی کاپٹر ساحلی علاقے کے قریب گر کر تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام چودہ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ یہ افسوسناک واقعہ ایک ایسے حساس وقت پر پیش آیا ہے جب سعودی عرب نے حال ہی میں خطے سے اپنے آئل ٹینکرز کی سپلائی دوبارہ بحال کی تھی۔ عالمی میڈیا کے مطابق آرامکو کمپنی کا یہ ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریبی اور اہم ترین تیل مرکز راس تنورہ کے علاقے میں ساحلِ سمندر کے قریب کریش ہوا، جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار عملے کے ارکان اور آرامکو کے ملازمین سمیت تمام چودہ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ سکیورٹی اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

معلوم ہوا ہے کہ یہ حادثہ سٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ سعودی عرب نے طویل عرصے یعنی تقریباً چار ماہ کی معطلی کے بعد ابھی حال ہی میں راس تنورہ کے ساحل سے اپنے آئل ٹینکرز کے ذریعے تیل کی بین الاقوامی سپلائی دوبارہ بحال کی تھی، جبکہ آرامکو حکام اور سعودی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہیلی کاپٹر گرنے کی وجوہات اور اسباب کی جانچ پڑتال کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اور ماہرین اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ حادثہ کسی تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا یا اس کے پیچھے خطے کی موجودہ بحری کشیدگی کا کوئی عنصر شامل ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں نئی بحری کشیدگی: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز کے لیے نئے بحری راستے کا اعلان، بغیر رابطے سفر کرنے والے جہازوں کو کارروائی کی سخت وارننگ

منصور احمد june 25,2026

تہران/واشنگٹن ( نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

تزویراتی اور تجارتی لحاظ سے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ “آبنائے ہرمز” میں ایک بار پھر شدید عالمی و سفارتی کشیدگی سر اٹھانے لگی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے بین الاقوامی تجارتی جہازوں کے گزرنے کے لیے باقاعدہ طور پر ایک بالکل نئے بحری راستے کا اعلان کر دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب کے مقتدر ترجمان نے واضح الفاظ میں وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب سے تمام بحری جہازوں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ایرانی فورسز کے ساتھ مسلسل لائیو رابطے میں رہتے ہوئے اپنے مقتدر سفر کو یقینی بنائیں۔

ترجمان پاسدارانِ انقلاب نے دوٹوک لہجے میں خبردار کیا کہ ایرانی فورسز سے پیشگی رابطے اور مقتدر اجازت کے بغیر کسی بھی دوسرے پرانے یا متبادل راستے سے گزرنا ایران کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگا اور ایسا کرنا متعلقہ جہازوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق، خطے میں اب صرف وہی بحری راستہ محفوظ تصور کیا جائے گا جس کا ایران کی جانب سے باضابطہ اعلان کیا گیا ہے، اور ان نئی مقتدر ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی تجارتی یا فوجی جہاز کو ایرانی بحریہ کی جانب سے سخت تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب، خلیج میں منعقدہ ‘بحرین تعاون کونسل’ کے مقتدر موقع پر موجود امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے اس تزویراتی اقدام پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی بحری قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی بھی قسم کا کوئی ٹول ٹیکس، فیس یا ایرانی شرائط ہرگز قبول نہیں کی جائیں گی، کیونکہ بین الاقوامی آبی گزرگاہیں کسی ایک مخصوص ریاست کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتیں۔

مارکو روبیو نے خلیجی ممالک کے مقتدر رہنماؤں سے ہونے والی اہم ملاقاتوں کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک نے اس نئی صورتحال پر اپنے شدید تزویراتی خدشات سے آگاہ کیا ہے، اور عمان سمیت تمام خلیجی ریاستیں اس خطے میں کسی بھی قسم کے ٹول ٹیکس کے نفاذ کے سخت خلاف ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے عزم کا اعادہ کیا کہ امریکہ اپنے اتحادی خلیجی ممالک کی سلامتی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور آنے والے سفارتی عمل میں ان ممالک کو مکمل طور پر شامل رکھا جائے گا۔ انہوں نے ان افواہوں کو بھی یکسر مسترد کر دیا کہ امریکہ نے ایران کو کوئی رقم منتقل کی ہے یا کسی تعمیرِ نو کے منصوبے کا حصہ ہے، جس سے خطے میں تزویراتی تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی ہولناک رخ اختیار کر گئی، ایرانی کارروائی میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر تباہ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت ترین ردِعمل، واشنگٹن جواب دینے پر مجبور ہوگا، پائلٹس کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا

منصور احمد june 09,2026

واشنگٹن(نیوز اینڈ نیوز) — 09 جون 2026ء

آبنائے ہرمز کے انتہائی حساس سمندری علاقے میں امریکی اور ایرانی افواج کے مابین کشیدگی ایک نئے اور انتہائی ہولناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب پیش آنے والے حالیہ سنگین واقعے کے بعد اب امریکہ ایرانی جارحیت کا جواب دینے پر مجبور ہوگا، امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی فورسز کی مبینہ کارروائی کے نتیجے میں امریکی فوج کا ایک جدید اور اربوں روپے مالیت کا اپاچی (Apache) گن شپ ہیلی کاپٹر مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، واشنگٹن اور امریکی میڈیا سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے جاری کردہ باضابطہ بیان میں بتایا کہ امریکی فوج کے اعلیٰ حکام نے انہیں گزشتہ شب پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کی تمام تفصیلات سے آگاہ کیا ہے، جس کے مطابق دورانِ گشت امریکی فوج کے ایک جدید ترین اپاچی گن شپ ہیلی کاپٹر کو سمندر میں نشانہ بنایا گیا، تاہم خوش قسمتی سے ہیلی کاپٹر میں سوار دونوں امریکی پائلٹس معجزانہ طور پر محفوظ رہے جنہیں جائے وقوعہ سے فوری طور پر بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے، امریکی صدر نے ایران کو کڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز جیسے بین الاقوامی اور حساس ترین علاقے میں امریکی فوجی اثاثوں کو براہِ راست نشانہ بنانا ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے اور امریکہ اس اشتعال انگیزی پر اب اپنی مرضی کے مطابق مناسب عسکری ردعمل دینے کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے، دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق خطے میں ۱۳ اپریل سے جاری بحری ناکہ بندی کے دوران امریکی نیوی کی جانب سے اب تک متعدد مشکوک بحری جہازوں کو روک کر ان کا رخ موڑا جا چکا ہے جبکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد لے جانے والے درجنوں دیگر جہازوں کو تصدیق کے بعد گزرنے کی باقاعدہ اجازت دی گئی ہے، امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اپاچی ہیلی کاپٹر کے اس حادثے کو پینٹاگون کی جانب سے ابتدائی طور پر ایک عام تکنیکی یا آپریشنل واقعہ قرار دینے کی کوشش کی جا رہی تھا، تاہم بعد ازاں خفیہ اداروں سے سامنے آنے والی نئی معلومات میں یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا گیا کہ یہ ہیلی کاپٹر دراصل ایرانی فورسز کی بلااشتعال عسکری کارروائی کا نشانہ بنا تھا، نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر صحافیوں سے ہنگامی گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ واقعے میں کسی بھی امریکی فوجی اہلکار کی جان کو نقصان نہیں پہنچا، تاہم وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون اس تمام صورتحال کا انتہائی بغور جائزہ لے رہے ہیں، دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی سطح پر خام تیل کی ترسیل کی دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی اس نئی عسکری کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور پورے خطے کی سلامتی پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

آبنائے ہرمز میں جنگ کے بادل، امریکہ اور ایران کے درمیان سنگین عسکری و معاشی تصادم، خلیجی ریاستوں کو ایرانی وزیر خارجہ کی کھلی دھمکی، روس کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کوششوں کی بھرپور حمایت

کاشف عباسی ,june 06,2026

واشنگٹن / تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

عالمی توانائی کی سب سے اہم شاہراہ، آبنائے ہرمز اور خلیجی پانیوں میں عسکری و سفارتی کشیدگی خطرناک ترین حد تک برقرار ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے مابین الزامات کی بوچھاڑ، جوابی معاشی پابندیوں اور سمندری حدود میں جنگی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تہران اور واشنگٹن سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ان ایرانی دعووں کو مخلصانہ طور پر مسترد اور ان کی شدید تردید کر دی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خلیج میں امریکی بحری ڈسٹرائرز پر ایران کی جانب سے ”انتباہی فائرنگ“ کی گئی ہے، سینٹکام کا مؤقف ہے کہ ایسی کوئی کارروائی یا فائرنگ سرے سے ہوئی ہی نہیں اور امریکی بحری افواج بین الاقوامی قوانین کے تحت خطے کے پانیوں میں اپنی معمول کی دفاعی سرگرمیاں پوری قوت سے جاری رکھے ہوئے ہیں، دوسری جانب سمندری صورتحال اس وقت مزید ابتر ہو گئی جب عمان کی ایک حساس بندرگاہ کے قریب مبینہ دھماکے کے بعد تیل کی لوڈنگ کا عمل عارضی طور پر معطل کرنا پڑا، تاہم بعد میں آئل آپریشنز کو دوبارہ معمول پر لایا گیا، لیکن اس خوفناک پیش رفت کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، اسی دوران امریکی بحریہ نے بحرِ ہند میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے پابندیوں کے شکار ایک ایسے بڑے بحری ٹینکر کو روکنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے جس پر ایرانی تیل کی غیر قانونی تجارت سے متعلق سنگین الزامات عائد تھے، اس امریکی کارروائی پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو آخری وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری جارحیت یا مہم جوئی کی گئی تو امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والی تمام خلیجی ریاستیں ایران کے لیے ”جائز اہداف“ بن جائیں گی اور انہیں نشانہ بنایا جائے گا، انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں ہے اور یہاں طاقت کے توازن کو کسی بھی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کشیدگی کے اس ماحول میں امریکی محکمہ خزانہ نے بھی ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایرانی تیل اور ایل پی جی (مائع پٹرولیم گیس) کی غیر قانونی تجارت میں مبینہ طور پر ملوث متعدد بااثر افراد، عالمی اداروں اور بحری ٹینکرز پر نئی اور سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کر دی ہیں اور ان خفیہ نیٹ ورکس میں مختلف ممالک اور آف شور کمپنیوں کے تانے بانے بھی سامنے آئے ہیں، اس سنگین صورتحال کے سفارتی پہلو کا جائزہ لیا جائے تو روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس نازک موڑ پر پاکستان کی مخلصانہ ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کی کھل کر حمایت کا اظہار کیا ہے جبکہ دوسری جانب عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی (آئی اے ای اے) کے سربراہ نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری فریم ورک پر سفارتی پیش رفت متوقع ہے، دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کی مجموعی صورتحال اب فہرست میں نہایت حساس اور فیصلہ کن دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ایک طرف عسکری کشیدگی اور سخت معاشی پابندیاں عروج پر ہیں تو دوسری طرف پسِ پردہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم خطے میں ہونے والی کسی بھی قسم کی چھوٹی سی عسکری چنگاری کا عالمی توانائی کی منڈی اور دنیا بھر کی معیشت پر براہِ راست اور تباہ کن اثر پڑ سکتا ہے۔

عالمی سیاست میں بہت بڑی پیش رفت، امریکہ اور ایران تاریخی معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ گئے، رواں ہفتے کے آخر تک حتمی اعلان متوقع، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انکشاف

محمود احمد june 04,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 04 جون 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن اور تزویراتی انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اعلٰی سطح کے مذاکرات اب فیصلہ کن اور آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور قوی امکان ہے کہ رواں ہفتے کے اختتام (ویک اینڈ) تک دونوں ممالک کے مابین ایک تاریخی معاہدہ طے پا جائے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ دونوں ممالک طویل کشیدگی کے بعد اب معاہدے کے بالکل قریب ہیں اور ان کی دلی خواہش ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ کا خاتمہ صرف اور صرف سفارتی اور سیاسی طریقے سے ہی ممکن بنایا جائے۔
آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایرانی جوہری پروگرام پر سخت شرائط
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ معاہدے کے چیدہ چیدہ نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ:
بحری آمدورفت کی بحالی: اس ممکنہ معاہدے کے فوری بعد عالمی تجارتی شاہراہ ‘آبنائے ہرمز’ میں بین الاقوامی بحری جہازوں کی آمدورفت اور تیل کی ترسیل مکمل طور پر معمول پر آ سکے گی۔
جوہری ہتھیاروں پر پابندی: انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اعادہ کیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سخت نگرانی: ایران کی تمام تر جوہری سرگرمیوں سے متعلق معاملات اور ان کی سخت نگرانی اس نئے معاہدے کا سب سے اہم اور مرکزی حصہ ہیں۔
سفارت کاری کو ترجیح: خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کو ہی اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
لبنان کی صورتحال اور حزب اللہ کی جانب سے یقین دہانی کا دعویٰ
امریکی صدر نے مشرقِ وسطیٰ کے دیگر بحرانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ لبنان کے داخلی حالات اور آبنائے ہرمز کے معاملات کو ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ رکھا جائے تاکہ مختلف نوعیت کے بین الاقوامی تنازعات کے حل میں کوئی نئی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ انہوں نے ایک بڑا دعویٰ بھی کیا کہ لبنانی عسکری تنظیم حزب اللہ کی جانب سے یہ اہم یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ فی الحال اسرائیل پر کوئی بڑا حملہ نہیں کرے گی، جس کے بعد خطے میں جنگ کے بادل چھٹنے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
امریکی کانگریس میں بحث اور ٹرمپ کی کڑی تنقید
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ایوانِ نمائندگان (کانگریس) میں ان کی انتظامیہ کے خلاف پیش کی جانے والی اس حالیہ قرارداد پر کڑی تنقید کی جس میں ایران کے خلاف صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ: واشنگٹن کے بعض مخصوص سیاسی حلقے ملکی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر صرف ذاتی مفاد کے لیے ان کی کامیاب خارجہ پالیسیوں کی بلاوجہ مخالفت کر رہے ہیں۔
امریکہ کو کسی بھی نئی اور لاحاصل جنگ میں دھکیلنے کے بجائے سفارت کاری اور پرامن مذاکرات کو ایک موقع دیا جانا چاہیے۔
ان کی موجودہ انتظامیہ دن رات صرف مذاکرات کے ذریعے ہی دیرینہ عالمی تنازعات کے پرامن خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔
ممکنہ معاہدے پر دنیا بھر کی نظریں
امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس متوقع معاہدے پر اس وقت عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ اس تاریخی پیش رفت کے براہِ راست اثرات مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سلامتی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں (توانائی منڈیوں) اور بین الاقوامی سفارت کاری پر مرتب ہوں گے۔ اگر یہ معاہدہ اگلے دو روز میں طے پا جاتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے مابین دہائیوں پر محیط حالیہ کشیدگی کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی اور اہم سفارتی پیش رفت تصور کی جائے گی۔