آبنائے ہرمز میں کشیدگی ہولناک رخ اختیار کر گئی، ایرانی کارروائی میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر تباہ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت ترین ردِعمل، واشنگٹن جواب دینے پر مجبور ہوگا، پائلٹس کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا

منصور احمد june 09,2026

واشنگٹن(نیوز اینڈ نیوز) — 09 جون 2026ء

آبنائے ہرمز کے انتہائی حساس سمندری علاقے میں امریکی اور ایرانی افواج کے مابین کشیدگی ایک نئے اور انتہائی ہولناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب پیش آنے والے حالیہ سنگین واقعے کے بعد اب امریکہ ایرانی جارحیت کا جواب دینے پر مجبور ہوگا، امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی فورسز کی مبینہ کارروائی کے نتیجے میں امریکی فوج کا ایک جدید اور اربوں روپے مالیت کا اپاچی (Apache) گن شپ ہیلی کاپٹر مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، واشنگٹن اور امریکی میڈیا سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے جاری کردہ باضابطہ بیان میں بتایا کہ امریکی فوج کے اعلیٰ حکام نے انہیں گزشتہ شب پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کی تمام تفصیلات سے آگاہ کیا ہے، جس کے مطابق دورانِ گشت امریکی فوج کے ایک جدید ترین اپاچی گن شپ ہیلی کاپٹر کو سمندر میں نشانہ بنایا گیا، تاہم خوش قسمتی سے ہیلی کاپٹر میں سوار دونوں امریکی پائلٹس معجزانہ طور پر محفوظ رہے جنہیں جائے وقوعہ سے فوری طور پر بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے، امریکی صدر نے ایران کو کڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز جیسے بین الاقوامی اور حساس ترین علاقے میں امریکی فوجی اثاثوں کو براہِ راست نشانہ بنانا ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے اور امریکہ اس اشتعال انگیزی پر اب اپنی مرضی کے مطابق مناسب عسکری ردعمل دینے کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے، دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق خطے میں ۱۳ اپریل سے جاری بحری ناکہ بندی کے دوران امریکی نیوی کی جانب سے اب تک متعدد مشکوک بحری جہازوں کو روک کر ان کا رخ موڑا جا چکا ہے جبکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد لے جانے والے درجنوں دیگر جہازوں کو تصدیق کے بعد گزرنے کی باقاعدہ اجازت دی گئی ہے، امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اپاچی ہیلی کاپٹر کے اس حادثے کو پینٹاگون کی جانب سے ابتدائی طور پر ایک عام تکنیکی یا آپریشنل واقعہ قرار دینے کی کوشش کی جا رہی تھا، تاہم بعد ازاں خفیہ اداروں سے سامنے آنے والی نئی معلومات میں یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا گیا کہ یہ ہیلی کاپٹر دراصل ایرانی فورسز کی بلااشتعال عسکری کارروائی کا نشانہ بنا تھا، نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر صحافیوں سے ہنگامی گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ واقعے میں کسی بھی امریکی فوجی اہلکار کی جان کو نقصان نہیں پہنچا، تاہم وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون اس تمام صورتحال کا انتہائی بغور جائزہ لے رہے ہیں، دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی سطح پر خام تیل کی ترسیل کی دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی اس نئی عسکری کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور پورے خطے کی سلامتی پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

آبنائے ہرمز میں جنگ کے بادل، امریکہ اور ایران کے درمیان سنگین عسکری و معاشی تصادم، خلیجی ریاستوں کو ایرانی وزیر خارجہ کی کھلی دھمکی، روس کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کوششوں کی بھرپور حمایت

کاشف عباسی ,june 06,2026

واشنگٹن / تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

عالمی توانائی کی سب سے اہم شاہراہ، آبنائے ہرمز اور خلیجی پانیوں میں عسکری و سفارتی کشیدگی خطرناک ترین حد تک برقرار ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے مابین الزامات کی بوچھاڑ، جوابی معاشی پابندیوں اور سمندری حدود میں جنگی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تہران اور واشنگٹن سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ان ایرانی دعووں کو مخلصانہ طور پر مسترد اور ان کی شدید تردید کر دی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ خلیج میں امریکی بحری ڈسٹرائرز پر ایران کی جانب سے ”انتباہی فائرنگ“ کی گئی ہے، سینٹکام کا مؤقف ہے کہ ایسی کوئی کارروائی یا فائرنگ سرے سے ہوئی ہی نہیں اور امریکی بحری افواج بین الاقوامی قوانین کے تحت خطے کے پانیوں میں اپنی معمول کی دفاعی سرگرمیاں پوری قوت سے جاری رکھے ہوئے ہیں، دوسری جانب سمندری صورتحال اس وقت مزید ابتر ہو گئی جب عمان کی ایک حساس بندرگاہ کے قریب مبینہ دھماکے کے بعد تیل کی لوڈنگ کا عمل عارضی طور پر معطل کرنا پڑا، تاہم بعد میں آئل آپریشنز کو دوبارہ معمول پر لایا گیا، لیکن اس خوفناک پیش رفت کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، اسی دوران امریکی بحریہ نے بحرِ ہند میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے پابندیوں کے شکار ایک ایسے بڑے بحری ٹینکر کو روکنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے جس پر ایرانی تیل کی غیر قانونی تجارت سے متعلق سنگین الزامات عائد تھے، اس امریکی کارروائی پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو آخری وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری جارحیت یا مہم جوئی کی گئی تو امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والی تمام خلیجی ریاستیں ایران کے لیے ”جائز اہداف“ بن جائیں گی اور انہیں نشانہ بنایا جائے گا، انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں ہے اور یہاں طاقت کے توازن کو کسی بھی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کشیدگی کے اس ماحول میں امریکی محکمہ خزانہ نے بھی ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایرانی تیل اور ایل پی جی (مائع پٹرولیم گیس) کی غیر قانونی تجارت میں مبینہ طور پر ملوث متعدد بااثر افراد، عالمی اداروں اور بحری ٹینکرز پر نئی اور سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کر دی ہیں اور ان خفیہ نیٹ ورکس میں مختلف ممالک اور آف شور کمپنیوں کے تانے بانے بھی سامنے آئے ہیں، اس سنگین صورتحال کے سفارتی پہلو کا جائزہ لیا جائے تو روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس نازک موڑ پر پاکستان کی مخلصانہ ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کی کھل کر حمایت کا اظہار کیا ہے جبکہ دوسری جانب عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی (آئی اے ای اے) کے سربراہ نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری فریم ورک پر سفارتی پیش رفت متوقع ہے، دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کی مجموعی صورتحال اب فہرست میں نہایت حساس اور فیصلہ کن دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ایک طرف عسکری کشیدگی اور سخت معاشی پابندیاں عروج پر ہیں تو دوسری طرف پسِ پردہ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم خطے میں ہونے والی کسی بھی قسم کی چھوٹی سی عسکری چنگاری کا عالمی توانائی کی منڈی اور دنیا بھر کی معیشت پر براہِ راست اور تباہ کن اثر پڑ سکتا ہے۔

عالمی سیاست میں بہت بڑی پیش رفت، امریکہ اور ایران تاریخی معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ گئے، رواں ہفتے کے آخر تک حتمی اعلان متوقع، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انکشاف

محمود احمد june 04,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 04 جون 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن اور تزویراتی انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اعلٰی سطح کے مذاکرات اب فیصلہ کن اور آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور قوی امکان ہے کہ رواں ہفتے کے اختتام (ویک اینڈ) تک دونوں ممالک کے مابین ایک تاریخی معاہدہ طے پا جائے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ دونوں ممالک طویل کشیدگی کے بعد اب معاہدے کے بالکل قریب ہیں اور ان کی دلی خواہش ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ کا خاتمہ صرف اور صرف سفارتی اور سیاسی طریقے سے ہی ممکن بنایا جائے۔
آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایرانی جوہری پروگرام پر سخت شرائط
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ معاہدے کے چیدہ چیدہ نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ:
بحری آمدورفت کی بحالی: اس ممکنہ معاہدے کے فوری بعد عالمی تجارتی شاہراہ ‘آبنائے ہرمز’ میں بین الاقوامی بحری جہازوں کی آمدورفت اور تیل کی ترسیل مکمل طور پر معمول پر آ سکے گی۔
جوہری ہتھیاروں پر پابندی: انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اعادہ کیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سخت نگرانی: ایران کی تمام تر جوہری سرگرمیوں سے متعلق معاملات اور ان کی سخت نگرانی اس نئے معاہدے کا سب سے اہم اور مرکزی حصہ ہیں۔
سفارت کاری کو ترجیح: خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کو ہی اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
لبنان کی صورتحال اور حزب اللہ کی جانب سے یقین دہانی کا دعویٰ
امریکی صدر نے مشرقِ وسطیٰ کے دیگر بحرانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ لبنان کے داخلی حالات اور آبنائے ہرمز کے معاملات کو ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ رکھا جائے تاکہ مختلف نوعیت کے بین الاقوامی تنازعات کے حل میں کوئی نئی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ انہوں نے ایک بڑا دعویٰ بھی کیا کہ لبنانی عسکری تنظیم حزب اللہ کی جانب سے یہ اہم یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ فی الحال اسرائیل پر کوئی بڑا حملہ نہیں کرے گی، جس کے بعد خطے میں جنگ کے بادل چھٹنے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
امریکی کانگریس میں بحث اور ٹرمپ کی کڑی تنقید
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ایوانِ نمائندگان (کانگریس) میں ان کی انتظامیہ کے خلاف پیش کی جانے والی اس حالیہ قرارداد پر کڑی تنقید کی جس میں ایران کے خلاف صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ: واشنگٹن کے بعض مخصوص سیاسی حلقے ملکی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر صرف ذاتی مفاد کے لیے ان کی کامیاب خارجہ پالیسیوں کی بلاوجہ مخالفت کر رہے ہیں۔
امریکہ کو کسی بھی نئی اور لاحاصل جنگ میں دھکیلنے کے بجائے سفارت کاری اور پرامن مذاکرات کو ایک موقع دیا جانا چاہیے۔
ان کی موجودہ انتظامیہ دن رات صرف مذاکرات کے ذریعے ہی دیرینہ عالمی تنازعات کے پرامن خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔
ممکنہ معاہدے پر دنیا بھر کی نظریں
امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس متوقع معاہدے پر اس وقت عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ اس تاریخی پیش رفت کے براہِ راست اثرات مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سلامتی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں (توانائی منڈیوں) اور بین الاقوامی سفارت کاری پر مرتب ہوں گے۔ اگر یہ معاہدہ اگلے دو روز میں طے پا جاتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے مابین دہائیوں پر محیط حالیہ کشیدگی کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی اور اہم سفارتی پیش رفت تصور کی جائے گی۔