مراکش کے اسماعیل صیباری سمیت متعدد مسلم کھلاڑیوں کو شراب کی برانڈنگ کے بغیر خصوصی ٹرافی اور بیک ڈراپ پیش؛ فیفا کی جانب سے کھلاڑیوں کے عقائد اور قانونی عمر کے احترام میں مقتدر پالیسی نافذ

Spread the love

محمود احمد june 28,2026

میامی (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے سال دو ہزار چھبیس کے جاری فیفا ورلڈ کپ کے دوران مسلم کھلاڑیوں کے مذہبی عقائد اور ثقافتی حساسیت کا مقتدر احترام کرتے ہوئے پلے آف دی میچ کی تقریب اور ٹرافی میں ایک انتہائی اہم اور تاریخی تبدیلی متعارف کرا دی ہے۔ اس نئی اور وضع کردہ پالیسی کے تحت منتخب مسلم اور مخصوص کھلاڑیوں کے لیے شراب کی برانڈنگ کے بغیر ایک بالکل الگ اور غیر جانبدار بیک ڈراپ اور خصوصی ٹرافی پیش کی جا رہی ہے۔ یہ بڑی تبدیلی اس وقت عالمی میڈیا کے سامنے نمایاں ہوئی جب مراکش کے اسٹار کھلاڑی اسماعیل صیباری نے اسکاٹ لینڈ کے خلاف کھیلے گئے میچ میں ٹورنامنٹ کا تیز ترین پہلا گول اسکور کر کے مین آف دی میچ کا مقتدر اعزاز حاصل کیا۔

ایوارڈ کی اس مخصوص تقریب کے دوران عام طور پر پسِ منظر میں موجود بیئر برانڈ کی تشہیر کو مکمل طور پر ہٹا کر اس کی جگہ ایک غیر جانبدار سپیریئر پلیئر آف دی میچ ڈیزائن اور فیفا ورلڈ کپ کی باقاعدہ برانڈنگ استعمال کی گئی۔ عالمی رپورٹس کے مطابق مراکش کے اسماعیل صیباری کے علاوہ مصر کے امام عاشور، اردن کے علی علوان، ایران کے رامین رضائیان، قطر کے مقتدر گول کیپر محمود ابو ندا اور آئیوری کوسٹ کے یان دیومانڈے کو بھی ان کے میچز میں شاندار کارکردگی پر اسی طرز کا غیر برانڈڈ ایوارڈ فراہم کیا گیا ہے۔

فیفا کے ترجمان نے اس حوالے سے باقاعدہ وضاحت جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کسی بھی منتخب کھلاڑی کی ذاتی درخواست پر بغیر برانڈنگ والا ایوارڈ اور پینل بیک ڈراپ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ترجمان کے مطابق اسی یکساں پالیسی کا برحق اطلاق ان نوجوان کھلاڑیوں پر بھی سختی سے ہوتا ہے جو قانونی طور پر اپنے ممالک یا میزبان ملک میں شراب نوشی کی مقررہ عمر کو نہیں پہنچے ہوتے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سال دو ہزار اٹھارہ کے ورلڈ کپ میں مصر کے مقتدر گول کیپر محمد الشناوی نے بھی شراب کی اسپانسرشپ سے منسلک پلیئر آف دی میچ ایوارڈ کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا جس کے بعد مسلم کھلاڑیوں کے حقوق اور عقائد کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑی مہم نے توجہ حاصل کی تھی۔