سنسنی خیز مقابلے کے بعد ارجنٹائن فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے اگلے مرحلے میں داخل؛ مصری ٹیم کی بھرپور مزاحمت

محمود احمد, JULY 07,2026

ٹیکساس (نیوز اینڈ نیوز) — 7 جولائی 2026ء فیفا ورلڈ کپ 2026ء

کے تزویراتی اور مقتدر مقابلے اب اپنے انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ٹاپ 16 راؤنڈ کے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز پری کوارٹر فائنل میچ میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن نے مصر کی مضبوط ٹیم کو ایک سخت اور اعصاب شکن مقابلے کے بعد 2-3 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ اس مقتدر کامیابی کے ساتھ ہی ارجنٹائن نے عالمی کپ کی ٹرافی اپنے نام برقرار رکھنے کی دوڑ میں قدم مضبوطی سے جما لیے ہیں، جبکہ دوسری جانب مصر کی ٹیم مقتدر کھیل پیش کرنے کے باوجود ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی ہے اور اس کا عالمی کپ کا سفر یہیں اختتام پذیر ہو گیا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا یہ پری کوارٹر فائنل مقابلہ فٹبال کے شائقین کے لیے سحر انگیز ثابت ہوا۔ میچ کے آغاز ہی سے دونوں جانب سے جارحانہ فٹبال کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ ارجنٹائن نے میچ کے ابتدائی لمحات میں گیند پر اپنا کنٹرول قائم کرتے ہوئے مصری دفاع پر پے در پے حملے کیے اور گول اسکور کر کے برتری حاصل کی، تاہم مصری فارورڈز نے بھی شاندار جوابی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ارجنٹائن کے مضبوط دفاع کو توڑا اور گول برابر کر کے میچ میں سنسنی پھیلا دی۔ مصر کی جانب سے دکھائی جانے والی اس بھرپور تزویراتی مزاحمت نے ارجنٹائن کے مقتدر کھلاڑیوں کو دباؤ میں لائے رکھا اور دونوں ٹیمیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے آخر تک لڑتی رہیں۔

میچ کے فیصلہ کن اور آخری لمحات میں ارجنٹائن کے مقتدر فارورڈز نے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے ایک بہترین موو بنائی اور مصری گول کیپر کو چکمہ دیتے ہوئے تیسرا اور فیصلہ کن گول داغ کر اپنی ٹیم کی جیت یقینی بنا دی۔ اس آخری گول نے میچ کا فیصلہ ارجنٹائن کے حق میں کر دیا۔ مصر نے میچ برابر کرنے کی آخری وقت تک کوشش کی لیکن وہ ارجنٹائن کے مقتدر دفاع کو دوبارہ نہ توڑ سکے۔ اس سنسنی خیز فتح کے بعد ارجنٹائن کی ٹیم اور اسٹیڈیم میں موجود ان کے ہزاروں شائقین نے جشن منایا، جبکہ مصری کھلاڑی اس شاندار مقابلے کے بعد دلبرداشتہ نظر آئے۔

ایکواڈور کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے مقتدر اسٹرائیکر اینر ویلنسیا کی انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ

محمود احمد, JULY 02,2026

میکسیکو سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

ایکواڈور کی فٹبال تاریخ میں سب سے زیادہ بین الاقوامی گول کرنے والے چھتیس سالہ مقتدر اسٹرائیکر اینر ویلنسیا نے فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس سے اپنی ٹیم کے باہر ہونے کے فوری بعد انٹرنیشنل فٹبال سے باقاعدہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، وہ ٹورنامنٹ سے قبل ہی یہ تزویراتی اعلان کر چکے تھے کہ وہ ایکواڈور کی اگلی ورلڈ کپ کوالیفائنگ مہم کا حصہ نہیں ہوں گے۔ اینر ویلنسیا نے میکسیکو سٹی میں صحافیوں سے انتہائی جذباتی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ قومی ٹیم کے لیے اپنا آخری میچ کھیل چکے ہیں؛ انہوں نے انتہائی اداس دل کے ساتھ تمام ساتھی کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کو الوداع کہا، کیونکہ وہ ایکواڈور کی جرسی میں اپنی رخصتی اس شکست خوردہ انداز میں نہیں چاہتے تھے۔

یاد رہے کہ فیفا ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے کے ایک سنسنی خیز اور آخری میچ میں جرمنی جیسی مضبوط ٹیم کو شکست دے کر ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف تھرٹی ٹو (32) میں جگہ بنانے والی ایکواڈور کی ٹیم ناک آؤٹ مرحلے کے اہم میچ میں میکسیکو کے خلاف صفر کے مقابلے میں دو (0-2) کی شکست کے بعد ٹورنامنٹ کی دوڑ سے باہر ہو گئی تھی، جو ویلنسیا کا آخری انٹرنیشنل میچ ثابت ہوا۔ ویسٹ ہیم اور ایورٹن جیسے مقتدر انگلش کلبز کے سابق فارورڈ نے سال دو ہزار بارہ میں اپنے انٹرنیشنل ڈیبیو کے بعد سے ایکواڈور کے لیے اب تک ریکارڈ ایک سو نو (109) میچوں میں انچاس (49) شاندار گول کیے۔ انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ کے بعد اب وہ میکسیکو کے مقتدر کلب پاچوکا کے ساتھ اپنے کلب کیریئر کو باقاعدہ جاری رکھیں گے، جہاں ان کا پیشہ ورانہ معاہدہ دسمبر دو ہزار ستائیس تک برقرار ہے۔

فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس: ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی میں ناکامی کے باوجود ایرانی فٹبال ٹیم کا وطن واپسی پر پرتپاک استقبال

محمود احمد, JULY 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلے جا رہے فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس کے گروپ مرحلے سے باہر ہونے کے باوجود، ایرانی قومی فٹبال ٹیم کا بدھ کے روز وطن واپسی پر تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر سیکڑوں شائقین، بچوں اور اہل خانہ نے انتہائی پرتپاک اور تاریخی استقبال کیا ہے۔ ایئرپورٹ پر موجود مداحوں نے “ایران، ایران” کے فلک شگاف نعرے لگائے، قومی پرچم لہرائے اور ٹیم کی آفیشل جرسی پہن کر کھلاڑیوں کی زبردست حوصلہ افزائی کی۔ ایرانی فٹبال ٹیم ترکی کے راستے میکسیکو سے تہران پہنچی، جہاں ورلڈ کپ کے دوران تزویراتی مشکلات کے باعث اس کا عارضی بیس کیمپ قائم کیا گیا تھا۔

کھلاڑیوں کے طیارے سے اترنے پر ایئرپورٹ پر موجود فوجی بینڈ نے قومی ترانہ پیش کر کے ان کا استقبال کیا، جبکہ متعدد شائقین نے مقتدر گول کیپر علی رضا بیرانوند کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، جنہوں نے بیلجیم کے خلاف میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس موقع پر جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے علی رضا بیرانوند نے شائقین سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ ورلڈ کپ کے اگلے مرحلے میں رسائی حاصل نہ کرنے پر قوم سے معذرت خواہ ہیں اور انہیں مطلوبہ خوشی نہ دے سکے جس کا پوری ٹیم کو گہرا افسوس ہے۔ ٹیم کے دفاعی کھلاڑی رامین رضائیان نے واضح کیا کہ ان کی ٹیم تکنیکی طور پر مزید آگے جانے کی مستحق تھی، تاہم ٹورنامنٹ کے دوران امریکی امیگریشن پابندیوں نے ان کے لیے حالات کو انتہائی مشکل بنا دیا تھا۔ ایئرپورٹ پر موجود ایک خاتون مداح، مونا بنی صفا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کھلاڑیوں نے نامساعد حالات میں بھی اپنی بھرپور کوشش کی اور وہ صرف ان کا شکریہ ادا کرنے آئی ہیں۔

یاد رہے کہ فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس میں ایران اپنے گروپ میں تینوں میچ برابر کھیلنے کے بعد پوائنٹس ٹیبل پر تیسرے نمبر پر رہا، تاہم بہتر گول فرق نہ ہونے کے باعث وہ ٹورنامنٹ کی بہترین آٹھ تیسرے نمبر کی ٹیموں میں جگہ بنانے میں ناکام رہا اور یوں ناک آؤٹ مرحلے کی دوڑ سے باہر ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق، ٹورنامنٹ کے دوران ایران کی اسپورٹس مہم پر شدید سفری اور انتظامی مسائل اثرانداز رہے۔ ایرانی وفد کے متعدد مقتدر ارکان اور آفیشلز کو امریکی ویزے جاری نہ کیے جانے کے باعث ٹیم کو اپنا مرکزی بیس کیمپ امریکہ کے بجائے میکسیکو منتقل کرنا پڑا تھا، جس پر ایرانی حکام نے بین الاقوامی سطح پر امریکی انتظامیہ کی عائد کردہ سفری پابندیوں اور امتیازی سلوک کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

مراکش کے اسماعیل صیباری سمیت متعدد مسلم کھلاڑیوں کو شراب کی برانڈنگ کے بغیر خصوصی ٹرافی اور بیک ڈراپ پیش؛ فیفا کی جانب سے کھلاڑیوں کے عقائد اور قانونی عمر کے احترام میں مقتدر پالیسی نافذ

محمود احمد june 28,2026

میامی (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے سال دو ہزار چھبیس کے جاری فیفا ورلڈ کپ کے دوران مسلم کھلاڑیوں کے مذہبی عقائد اور ثقافتی حساسیت کا مقتدر احترام کرتے ہوئے پلے آف دی میچ کی تقریب اور ٹرافی میں ایک انتہائی اہم اور تاریخی تبدیلی متعارف کرا دی ہے۔ اس نئی اور وضع کردہ پالیسی کے تحت منتخب مسلم اور مخصوص کھلاڑیوں کے لیے شراب کی برانڈنگ کے بغیر ایک بالکل الگ اور غیر جانبدار بیک ڈراپ اور خصوصی ٹرافی پیش کی جا رہی ہے۔ یہ بڑی تبدیلی اس وقت عالمی میڈیا کے سامنے نمایاں ہوئی جب مراکش کے اسٹار کھلاڑی اسماعیل صیباری نے اسکاٹ لینڈ کے خلاف کھیلے گئے میچ میں ٹورنامنٹ کا تیز ترین پہلا گول اسکور کر کے مین آف دی میچ کا مقتدر اعزاز حاصل کیا۔

ایوارڈ کی اس مخصوص تقریب کے دوران عام طور پر پسِ منظر میں موجود بیئر برانڈ کی تشہیر کو مکمل طور پر ہٹا کر اس کی جگہ ایک غیر جانبدار سپیریئر پلیئر آف دی میچ ڈیزائن اور فیفا ورلڈ کپ کی باقاعدہ برانڈنگ استعمال کی گئی۔ عالمی رپورٹس کے مطابق مراکش کے اسماعیل صیباری کے علاوہ مصر کے امام عاشور، اردن کے علی علوان، ایران کے رامین رضائیان، قطر کے مقتدر گول کیپر محمود ابو ندا اور آئیوری کوسٹ کے یان دیومانڈے کو بھی ان کے میچز میں شاندار کارکردگی پر اسی طرز کا غیر برانڈڈ ایوارڈ فراہم کیا گیا ہے۔

فیفا کے ترجمان نے اس حوالے سے باقاعدہ وضاحت جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کسی بھی منتخب کھلاڑی کی ذاتی درخواست پر بغیر برانڈنگ والا ایوارڈ اور پینل بیک ڈراپ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ترجمان کے مطابق اسی یکساں پالیسی کا برحق اطلاق ان نوجوان کھلاڑیوں پر بھی سختی سے ہوتا ہے جو قانونی طور پر اپنے ممالک یا میزبان ملک میں شراب نوشی کی مقررہ عمر کو نہیں پہنچے ہوتے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سال دو ہزار اٹھارہ کے ورلڈ کپ میں مصر کے مقتدر گول کیپر محمد الشناوی نے بھی شراب کی اسپانسرشپ سے منسلک پلیئر آف دی میچ ایوارڈ کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا جس کے بعد مسلم کھلاڑیوں کے حقوق اور عقائد کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑی مہم نے توجہ حاصل کی تھی۔