

کاشف عباسی ,june 29,026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک تاریخی اور مقتدر فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی بین السنیارٹی (باہمی سینیارٹی) کا حتمی تعین قانون اور مروجہ قواعد کے مطابق ہی کیا جائے گا، جبکہ حکومت محض سینیارٹی کے تنازعے میں خود کو متاثرہ فریق قرار دے کر مقدمہ بازی نہیں کر سکتی۔ رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری اور تفصیلی فیصلے کے مطابق، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل عدالتِ عظمیٰ کے تین رکنی مقتدر بنچ نے سندھ حکومت کی جانب سے دائر کردہ 18 سول پٹیشنز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سندھ سروس ٹربیونل کا دو جون دو ہزار پچیس کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ “سندھ سول سرونٹس رولز 1975” کے رول 11 کے تحت پہلی سلیکشن میں منتخب ہونے والا ملازم بعد میں منتخب ہونے والے ملازم پر قانونی طور پر سینیارٹی کا برحق حق رکھتا ہے اور مشترکہ سینیارٹی لسٹ تیار کرتے وقت بھی اس بنیادی اصول کو کسی طور نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
مقدمے کے پسِ منظر کے مطابق، کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سندھ نے سال دو ہزار بارہ میں تیئس مختلف مضامین کے لیکچررز کی بھرتی کے لیے اشتہار دیا تھا، تاہم سندھ پبلک سروس کمیشن نے مختلف مضامین کے امیدواروں کی سفارشات انتظامی وجوہات کی بنا پر مختلف اوقات میں ارسال کیں۔ بعد ازاں، محکمہ تعلیم کی جانب سے بعض امیدواروں کی اصل سلیکشن تاریخ کو سینیارٹی لسٹ میں مدنظر نہ رکھنے پر متاثرہ ملازمین نے سندھ سروس ٹربیونل سے رجوع کیا تھا جس نے ان کے حق میں فیصلہ دیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں آبزرویشن دی کہ انگریزی کے لیکچررز کے معاملے میں صوبائی محکمہ نے پہلے سلیکشن کی بنیاد پر سینیارٹی درست طے کی، لیکن دیگر مضامین کے لیکچررز کو اسی یکساں قانونی اصول سے محروم رکھنا واضح طور پر امتیازی سلوک اور قواعد کے یکسر منافی تھا۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے مقتدر فیصلے میں مزید ریمارکس دیے کہ اگر کوئی متعلقہ ملازم ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف خود اپیل دائر نہیں کرتا، تو حکومت کو ایک “منصف اور غیر جانبدار آجر کے طور پر ٹربیونل کے فیصلے پر فوری عملدرآمد کرنا چاہیے، نہ کہ ایک حریف ملازم کی طرح عدالتوں میں مقدمہ بازی کو بلاوجہ طول دینا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے پر (متاثرہ فریق کے بغیر اپیل نہیں) کا مقتدر اصول پوری طرح لاگو ہوتا ہے، کیونکہ عدالت سے رجوع کرنے کا حق صرف اسی شخص کو ہے جس کے قانونی حقوق براہِ راست متاثر ہوئے ہوں۔ سپریم کورٹ نے “پروونس آف پنجاب بنام ڈاکٹر محمد افضل” کیس کے عدالتی نظیر کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ حکومت کو ملازمین کے مابین تنازعات میں مدِ مقابل فریق بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ سندھ سروس ٹربیونل کے فیصلے میں کوئی قانونی سقم، بے ضابطگی یا خلافِ قانون پہلو موجود نہیں، لہٰذا سندھ حکومت کی تمام درخواستیں خارج کی جاتی ہیں۔