شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے باعث متعدی امراض کے پھیلاؤ کا خدشہ، قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کا ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری

Spread the love

روزینہ اسماعیل, JULY 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے باعث ملک بھر میں متعدی امراض کے پھیلاؤ کا خطرہ انتہائی حد تک بڑھ گیا ہے، جس کے پیش نظر قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) نے مقتدر مون سون صورتحال کے تحت ملک گیر الرٹ جاری کر دیا ہے۔ این آئی ایچ کے حکام کے مطابق، مون سون کی حالیہ طوفانی بارشیں ڈینگی، ملیریا، ہیضہ اور ٹائیفائیڈ جیسی خطرناک وباؤں کے اچانک پھوٹنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ مختلف مقامات پر کھڑا پانی مچھروں کی تیز رفتار افزائش کا باعث بنتا ہے جس سے ڈینگی اور ملیریا کے کیسز میں تشویشناک اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ پینے کے صاف پانی میں سیلابی آلودگی شامل ہونے سے ہیضہ اور دیگر آنتوں کے جان لیوا امراض پھیل سکتے ہیں۔

ادارے نے تزویراتی خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مون سون کے دوران کرنٹ لگنے، سانپ کے کاٹنے اور ڈوبنے کے واقعات میں بھی غیر معمولی اضافے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ اسی طرح آسمانی بجلی گرنے، کچی دیواروں اور بوسیدہ چھتوں کے گرنے سے جانی نقصان کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ سیلابی پانی کے طویل عرصے تک جمع رہنے کے باعث لیپٹوسپائروسس سمیت دیگر خطرناک انفیکشنز کے پھیلنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ این آئی ایچ نے تمام صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں ضروری ادویات، طبی آکسیجن، او آر ایس اور اینٹی سنیک وینم (سانپ کے کاٹنے کی ویکسین) کے وافر ذخائر کی موجودگی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

وفاقی ادارے کی جانب سے مزید ہدایت کی گئی ہے کہ مچھروں کی افزائش کے خاتمے کے لیے مچھر مار سپرے مہمات کو فوری طور پر تیز کیا جائے اور ممکنہ متاثرہ علاقوں میں وبائی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ اس مقتدر موقع پر عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ سیلابی پانی اور گرے ہوئے بجلی کے تاروں سے مکمل دور رہیں، بچوں کو گندے نالوں، نہروں، تالابوں اور سیلابی پانی میں جانے سے سختی سے روکیں، اور تیز ہواؤں یا بارش کے دوران کمزور دیواروں، پرانی عمارتوں اور درختوں کے قریب پناہ لینے سے بالکل گریز کریں۔ این آئی ایچ کے حکام کا کہنا ہے کہ مون سون کے دوران بیماریوں کی بروقت نشاندہی، فوری رپورٹنگ اور قومی سطح پر نگرانی کے تزویراتی نظام کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی وبائی صورتحال پر فوری قابو پایا جا سکے۔