

منصور احمد, JULY 05,2026
راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی و صوبائی کسان ونگز نے پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) سے متعلق حالیہ آڈٹ رپورٹ میں کیے گئے سنسنی خیز انکشافات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس رپورٹ کو ملکی غذائی تحفظ، زرعی معیشت اور قومی خزانے کے لیے ایک سنگین تزویراتی خطرہ قرار دیا ہے۔ کسان ونگ کے مرکزی آرگنائزر شیخ وقاص اکرم کی زیرِ صدارت منعقدہ کسان ونگ کے مرکزی و صوبائی عہدیداروں کے ایک مقتدر اجلاس میں اس رپورٹ پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، جس میں مشترکہ طور پر واضح کیا گیا کہ یہ محض ایک ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی مجموعی گندم پالیسی کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اجلاس میں ہونے والے فیصلوں اور شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کسان ونگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات خالد نواز سدھرآئچ نے اتوار کے روز اپنے جاری کردہ مقتدر بیان میں کہا کہ اس آڈٹ رپورٹ نے پاکستان کے تمام عوام اور بالخصوص کسان کمیونٹی میں شدید غم وغصے اور اضطراب کی لہر پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسان کمیونٹی اور پی ٹی آئی کسان ونگز کی یہ مشترکہ رائے ہے کہ عوام کے سامنے جوابدہی سے آزاد فارم پینتالیس کی حکومت قومی مفادات کا تحفظ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق پاسکو کو صرف ایک سال کے قلیل عرصے میں بیس ارب روپے سے زائد کا خطیر مالی نقصان برداشت کرنا پڑا، جبکہ گزشتہ چند برسوں میں مجموعی خسارہ اکیس ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، اور اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ دوسو ستاون ارب روپے سے زائد کی بھاری رقم مختلف سرکاری اداروں سے تاحال وصول نہیں کی جا سکی۔
خالد نواز سدھرآئچ نے گندم کی مبینہ خرد برد، باردانہ کی غیر شفاف اور ناقص تقسیم، غیر قانونی خریداریوں اور سنگین انتظامی بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے ثابت کر دیا ہے کہ حکومتی ادارے بدانتظامی اور کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاسکو کا بنیادی تزویراتی مقصد کسانوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنا، گندم کی مارکیٹ کو مستحکم رکھنا اور ملک کے غذائی ذخائر کو محفوظ بنانا تھا، مگر ناقص حکومتی پالیسوں نے اس اہم قومی ادارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور اب حکومت اس ادارے کو ہی ختم کرنے کی راہ پر گامزن ہے، جو مستقبل میں ملکی غذائی تحفظ کے لیے مزید سنگین خطرات پیدا کرے گا۔ پی ٹی آئی کسان ونگ نے حکومت سے سخت سوال کیا کہ گندم اور دیگر زرعی اجناس کو ذخیرہ کرنے والے پاسکو کے ملکیتی گودام کسانوں کا استحصال کرنے والے مخصوص نجی افراد یا اداروں کے حوالے کس منطق کے تحت کیے گئے، کیونکہ عوام کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ ان مقتدر قومی اثاثوں کا نجی استعمال کن بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔
ترجمان کسان ونگ نے فلورملز مالکان کی جانب سے گندم کے ذخائر کی مبینہ سرکاری ضبطگی کے الزامات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر نجی شعبے کے قانونی ذخائر کو طاقت کے ذریعے قبضے میں لیا جا رہا ہے تو یہ آزاد منڈی کے دعووں کی کھلی نفی اور کاروباری اعتماد کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، جس کی فوری اور آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ گندم پالیسی نے کسان اور صارف دونوں کو بیک وقت شدید مالی نقصان پہنچایا ہے، کیونکہ فصل کٹائی کے وقت کسان اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل نہیں کر پاتا جبکہ چند ماہ بعد غریب عوام کو آٹا اور گندم مہنگے داموں خریدنا پڑتی ہے، جس کا پورا فائدہ صرف مڈل مین، ذخیرہ اندوزوں اور مخصوص مفاداتی گروہوں کو پہنچایا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کسان ونگز اور کسان کمیونٹی نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ پاسکو آڈٹ میں سامنے آنے والی تمام بے ضابطگیوں، مالی بدعنوانیوں، گندم کی خرد برد، باردانہ اسکینڈل اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصانات کی فوری طور پر ایک آزاد اور شفاف مقتدر تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار عناصر کو بلاامتیاز قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔