اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا بڑا انقلابی قدم؛ پورٹل اور موبائل ایپ ’انویسٹ پاک‘ کا باضابطہ آغاز

Spread the love

کاشف عباسی , JULY 06,026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے پیر کے روز ایک خصوصی ویب پورٹل اور موبائل ایپلی کیشن ایکو سسٹم ’’انویسٹ پاک‘‘ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس جدید ترین ڈیجیٹل پورٹل کو حکومتِ پاکستان کے تمسکات (سرکاری سیکیورٹیز) میں مکمل طور پر ڈیجیٹل انداز میں سرمایہ کاری کے لیے ریٹیل (انفرادی) اور کارپوریٹ صارفین کی ضروریات کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ پورٹل کے تزویراتی آغاز کے ساتھ ہی اسٹیٹ بینک نے ایک جامع ملک گیر میڈیا مہم کا بھی آغاز کیا ہے تاکہ ریاستی ڈیٹ مارکیٹ میں خوردہ صارفین کی وسیع تر شرکت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے اور اس حوالے سے عوامی آگاہی کو بڑھایا جائے۔ اسٹیٹ بینک کے کراچی دفتر میں منعقدہ اس باوقار افتتاحی تقریب کی میزبانی گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کی جبکہ تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب تھے۔

افتتاحی تقریب میں اسٹیٹ بینک کی مقتدر سینئر قیادت، ملک بھر کے بینکوں کے صدور، ممتاز کارپوریٹ اداروں، سرمایہ کار کمپنیوں، میوچل فنڈز کے سربراہان اور بینکاری و مالیاتی صنعت کی نمایاں شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے وزیراعظم کے ڈیجیٹل لحاظ سے فعال اور مالی شمولیت پر مبنی معیشت کے وژن کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی کے فروغ میں اسٹیٹ بینک کے سرگرم اور تزویراتی کردار کو بے حد سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ’انویسٹ پاک‘ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مقتدر نظام کو جمہوری بنانے کی سمت میں ایک فیصلہ کن اقدام ہے جس کے ذریعے عام شہریوں، خصوصاً نوجوانوں، کارپوریٹ اور دیگر اداروں کو محفوظ ترین ریاستی سرمایہ کاری کے مواقع تک براہِ راست ڈیجیٹل رسائی فراہم کی گئی ہے۔ اس اقدام سے باضابطہ مالیاتی شعبے میں عوام کی شرکت زیادہ آسان، زیادہ شمولیتی اور معاشرے کے ہر طبقے کے لیے قابلِ رسائی ہو جائے گی۔ نجی شعبے کو قرض دینے پر اس اقدام کے مثبت اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھنے سے بینکوں کو اپنی بنیادی ذمہ داری یعنی نجی شعبے کو قرضے دینے پر توجہ مرکوز کرنے اور پیداواری معاشی سرگرمیوں کی اعانت کرنے میں بھرپور مدد ملے گی۔

اپنے استقبالیہ خطاب میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ ’انویسٹ پاک‘ پاکستان کے مالیاتی منظرنامے کے ارتقاء میں ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پلیٹ فارم اسٹیٹ بینک کے سٹریٹجک وژن 2028ء کے تحت ہر شخص تک مالی خدمات کو آسان، پائیدار اور ڈیجیٹل طریقے سے پہنچانے کے مقتدر عزم کی عکاس ہے۔ گورنر نے انویسٹ پاک کو محض ایک ٹیکنالوجی پلیٹ فارم نہیں بلکہ ایک دیرینہ خواب کی تعبیر قرار دیا جس کا مقصد سرکاری تمسکات کی ایک ایسی مارکیٹ کا قیام ہے جو جامع، موثر اور ہر چھوٹے بڑے سرمایہ کار کے لیے قابلِ رسائی ہو۔ انہوں نے کہا کہ انویسٹ پاک کا آغاز پاکستان بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے ڈیجیٹل رسائی اور انہیں مالی طور پر بااختیار بنانے کے ایک نئے دور کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا۔ ملک گیر میڈیا مہم کے حوالے سے گورنر نے کہا کہ صرف ٹیکنالوجی سے رویوں میں تبدیلی نہیں آتی، بلکہ آگاہی اس تبدیلی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا اور ایف ایم ریڈیو کے ذریعے ایک مربوط آگاہی مہم چلائے گا تاکہ سرکاری تمسکات میں سرمایہ کاری پر بات چیت گھر گھر میں ہونے لگے۔

گورنر نے اعادہ کیا کہ اسٹیٹ بینک خودکاریت، شفافیت اور بہترین بین الاقوامی روایات کو اپنا کر مارکیٹ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے عزم پر سختی سے قائم رہے گا۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ انویسٹ پاک کو ایک مشترکہ قومی اقدام کے طور پر اپنائیں۔ توقع ہے کہ اس پلیٹ فارم سے روایتی کاغذی کارروائی میں نمایاں کمی آئے گی، شفافیت میں اضافہ ہوگا اور گھروں و دفاتر سے سرکاری تمسکات تک بآسانی رسائی میں مدد ملے گی جس سے انفرادی سرمایہ کاروں، خواتین سرمایہ کاروں، چھوٹی بچت کرنے والوں اور کارپوریٹ اداروں کو یکساں فائدہ پہنچے گا۔ اس سسٹم میں شریک مالیاتی اداروں کو پاکستانی روپے اور آئی پی ایس کے متعدد اکاؤنٹس سنبھالنے کے لیے ایک ہمہ گیر انٹرفیس بھی فراہم کیا گیا ہے جس سے انہیں سہولت اور پورٹ فولیو کی بہتر وزیبیلیٹی دستیاب ہوگی۔ عوام میں اس کی قبولیت کو بڑھانے اور صارفین کے مسائل فوری حل کرنے کے لیے ویب پورٹل اور موبائل ایپ کے ساتھ ساتھ ایک خصوصی ’انویسٹ پاک کال سینٹر‘ اور آن لائن سپورٹ سسٹم بھی قائم کر دیا گیا ہے۔