تاریخی قراردادِ الحاقِ پاکستان؛ کشمیری عوام کے غیر متزلزل نظریاتی عزم اور سیاسی بصیرت کا مقتدر دن

Spread the love

منصور احمد, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

نظریۂ پاکستان اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے لازوال رشتے کے حوالے سے ایک انتہائی مقتدر اور تاریخی دن “یومِ الحاقِ پاکستان” آج شاندار عزائم کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ 19 جولائی 1947ء کو کشمیری عوام کے اجتماعی فیصلے کی اس تاریخی قرارداد نے ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا رخ ہمیشہ کے لیے متعین کر دیا تھا۔ تاریخِ کشمیر کا یہ وہ یادگار اور تزویراتی دن ہے جب آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے سری نگر کے مقام پر باضابطہ طور پر “قراردادِ الحاقِ پاکستان” منظور کر کے ریاست کے مستقبل کا حتمی فیصلہ عوام کی مرضی کے مطابق کیا تھا۔

یہ تاریخی قرارداد کشمیری عوام کی اعلیٰ اجتماعی سیاسی بصیرت، بے مثال قومی شعور اور پاکستان سے ان کی غیر متزلزل اور گہری نظریاتی وابستگی کا منہ بولتا اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ اس دور میں ڈوگرا راج کے سخت ترین ریاستی دباؤ اور ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری قیادت کا پاکستان سے الحاق کا یہ فیصلہ خالصتاً عوامی امنگوں کا سچا مظہر بن کر سامنے آیا۔ یہ جمہوری اور اصولی فیصلہ نہ صرف کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی قانونی و اخلاقی بنیاد فراہم کرتا ہے، بلکہ آج بھی تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی حقیقی روح اور بین الاقوامی فورمز پر پاکستانی بیانیے کا سب سے مضبوط تزویراتی استدلال ہے۔

کشمیریوں نے قیامِ پاکستان سے قبل ہی اپنی غیر معمولی سیاسی بصیرت سے مستقبل کا درست رخ متعین کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ ریاست کا الحاق کسی فردِ واحد کی صوابدید یا جاگیر نہیں، بلکہ صرف اور صرف کشمیری عوام کا بنیادی و جمہوری حق قرار پایا ہے۔ 19 جولائی کی یہ مقتدر قرارداد مسئلۂ کشمیر پر پاکستان کے قانونی اور اخلاقی مؤقف کی مضبوط ترین بنیاد ہے، جو کشمیریوں کے قومی تشخص اور لازوال نظریاتی وابستگی کی ایک زندہ علامت بن کر دنیا کے سامنے کھڑی ہے۔ کشمیری عوام آج بھی اسی تاریخی فیصلے پر قائم رہتے ہوئے اپنی آزادی کی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔