ایران کا دعویٰ، آبنائے ہرمز کے اوپر امریکی MQ-1 ڈرون مار گرایا گیا

Spread the love

محمود احمد, September 14,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فضائی دفاعی فورسز نے آبنائے ہرمز کے اوپر پرواز کرنے والے ایک امریکی MQ-1 بغیر پائلٹ طیارے کو مار گرایا ہے۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ڈرون کو آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فضائی دفاعی نظام نے شناخت اور ٹریک کیا، جس کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کارروائی میں ایران کے مربوط فضائی دفاعی نظام کے تحت کام کرنے والے یونٹس شامل تھے۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے IRIB نے بھی پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) سے متعلق بیان نشر کرتے ہوئے واقعے کی اطلاع دی۔ بعد ازاں ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے بھی رپورٹ کیا کہ ایک امریکی MQ-1 نگرانی کرنے والے ڈرون کو آبنائے ہرمز کے داخلی علاقے میں ایرانی فورسز نے نشانہ بنایا۔

ایرانی رپورٹس میں ڈرون کو امریکی قرار دیا گیا ہے، تاہم واقعے کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر دستیاب نہیں ہوئی۔ امریکی حکام کی جانب سے بھی اس مخصوص واقعے کی فوری طور پر تصدیق یا تفصیلی تردید سامنے آنے کی اطلاع نہیں ملی۔

MQ-1 ایک بغیر پائلٹ فضائی نگرانی اور reconnaissance طیارہ ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی معلومات میں ڈرون کو مار گرائے جانے کے طریقہ کار اور اس کے ملبے کی موجودہ صورتحال سے متعلق محدود تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے، جس کی وجہ سے یہاں ہونے والی فوجی یا بحری سرگرمیوں کو عالمی توانائی اور تجارتی سپلائی کے حوالے سے خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں میں اس علاقے میں کشیدگی کے باعث سمندری آمدورفت اور عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق 14 ستمبر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد معمول کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ رپورٹ ایرانی سرکاری اور نیم سرکاری ذرائع کی جانب سے سامنے آنے والے دعوے کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ MQ-1 ڈرون کے مار گرائے جانے اور اسے امریکی ملکیت کا طیارہ قرار دیے جانے کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات کی حد تک نہیں ہو سکی۔ اس لیے News & News اس واقعے کو فی الحال ایرانی دعوے کے طور پر رپورٹ کر رہا ہے، حتمی طور پر ثابت شدہ واقعے کے طور پر نہیں۔

ماخذ: فارس نیوز، IRIB، تسنیم نیوز، Anadolu Agency، Reuters