

محمود احمد, JULY 21,2026
واشنگٹن ڈی سی (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے امریکا درآمد کی جانے والی درجنوں اشیائے ضروریات پر 50 فیصد کے بھاری محصولات (ٹیرفس) عائد کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس سے دونوں اتحادی ممالک کے درمیان ایک نئی اور شدید عالمی تجارتی جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
‘رائٹرز’ کی عالمی رپورٹ کے مطابق، امریکی انتظامیہ نے اس سخت ترین اقدام کو جواز بناتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کی حکومت امریکی ساختہ گاڑیوں، الکحل اور دودھ (ڈیری) کی مصنوعات کے ساتھ مسلسل غیر منصفانہ اور امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ شراب، سیمنٹ، سوئمنگ پولز، فرنیچر، کپڑوں، بیجوں سے لے کر آئس ہاکی کے سامان تک پر یہ تعزیری ٹیکس لاگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 1930ء کے تاریخی ٹیرف ایکٹ کے سیکشن 338 کا سہارا لیا ہے۔ یہ قانون امریکی صدر کو یہ خصوصی اختیارات دیتا ہے کہ وہ امریکی تجارتی مفادات اور اشیاء کے خلاف امتیازی سلوک کرنے والے ممالک پر 50 فیصد تک تعزیری محصولات عائد کر سکے۔ واضح رہے کہ امریکی تاریخ میں اس قانون کا استعمال تقریباً ایک صدی بعد پہلی بار کیا گیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق، یہ نئے ٹیرفس اگلے 30 دنوں میں باضابطہ لاگو ہوں گے جس سے کینیڈا سے امریکا آنے والی تقریباً 20 ارب ڈالر کی برآمدات براہِ راست متاثر ہوں گی۔ امریکی مردم شماری بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق یہ کینیڈا سے امریکا درآمد کی جانے والی مجموعی مصنوعات کا تقریباً 5.2 فیصد بنتا ہے۔
دوسری جانب، کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے امریکی اقدام پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک رسمی بیان میں کہا کہ ان کی حکومت نے امریکا کے ساتھ تمام تجارتی تحفظات اور تنازعات کو دور کرنے کے لیے انتہائی جامع اور معقول تجاویز پیش کی تھیں، لیکن اس کے باوجود امریکی صدر کی جانب سے عائد کیے جانے والے یہ یکطرفہ محصولات شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔