منی لانڈرنگ ملکی معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہے، انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 2010ء پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر؛ چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد

Spread the love

محمود احمد, JULY 23,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ ملکی معیشت کے استحکام، شفافیت اور عوامی جوابدہی کے نظام کے لیے ایک سنگین اور بڑا خطرہ ہے۔ اس سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی تعاون اور انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ 2010ء پر سختی سے عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وہ پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی کے زیرِ اہتمام اسلام آباد کی ضلعی عدلیہ کے ججوں کے لیے منی لانڈرنگ کے مقدمات کی تفتیش، قانونی چارہ جوئی اور عالمی فریم ورک کے موضوع پر منعقدہ چوتھی ایک روزہ تعارفی نشست سے بطورِ مہمانِ گرامی خطاب کر رہے تھے۔

چیئرمین نیب نے واضح کیا کہ ان معلوماتی و تعارفی نشستوں کا بنیادی مقصد پاکستان کے انسدادِ منی لانڈرنگ فریم ورک سے متعلق آگاہی میں اضافہ کرنا اور عدلیہ، تفتیشی اداروں، پراسیکیوٹرز اور مالیاتی و ریگولیٹری اداروں کے درمیان باہمی تعاون کے رشتے کو مزید مضبوط و فعال بنانا ہے۔

اختتامی تقریب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج، جسٹس محمد اعظم خان نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے اس اہم اور بروقت تعارفی نشست کے انعقاد پر نیب اور پاکا کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پیچیدہ مالیاتی شواہد اور فارنزک جائزوں کا موثر احاطہ کرنے اور قانون کی حکمرانی کو قائم رکھنے میں عدلیہ کا کردار انتہائی کلیدی نوعیت کا حامل ہے۔

تقریب سے ڈپٹی چیئرمین نیب ناصر سہیل، ڈائریکٹر جنرل نیب محمد طاہر اور نور السحر نے بھی خطاب کیا جبکہ ڈائریکٹر جنرل پاکا غلام صفدر شاہ نے خیرمقدمی کلمات پیش کرتے ہوئے پاکا کو انسدادِ بدعنوانی کے شعبے کا ایک بہترین سینٹر آف ایکسی لینس قرار دیا۔ تقریب کے اختتام پر شریک ججوں میں اسناد تقسیم کی گئیں اور مہمانوں کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔