سی پیک یونیورسٹی کنسورشیم: ایچ ای سی نے پاکستانی اور آزاد کشمیر کے ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز کے لیے چین میں 6 ماہ کی ریسرچ فیلوشپ کا اعلان کر دیا

Spread the love

روزینہ اسماعیل, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) یونیورسٹی کنسورشیم کے فریم ورک کے تحت پاکستان اور آزاد کشمیر کی تسلیم شدہ جامعات میں زیرِ تعلیم ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز کے لیے چین کی بہترین جامعات و تحقیقاتی اداروں میں چھ ماہ کی باوقار تحقیقی فیلوشپ کے لیے آن لائن درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ ایچ ای سی کے سرکاری بیان کے مطابق، اس فلیگ شپ پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان اور چین کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان دیرپا تعلیمی و سائنسی تعاون کو استوار کرنا، مشترکہ تحقیق کے دائرہ کار کو وسعت دینا اور قومی ترجیحات سے منسلک جدید ترین موضوعات پر اعلیٰ معیار کی تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس فیلوشپ کے تحت پاکستانی محققین کو چین کے جدید ترین لیبارٹری انفراسٹرکچر، ماہرین کی سرپرستی اور عالمی معیار کے تحقیقاتی ماحول سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیانی تعلیمی اور معاشی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔

کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اہلیت کے معیار کے مطابق، اس فیلوشپ پروگرام کے لیے صرف وہی پاکستانی یا آزاد کشمیر کے شہری اپلائی کر سکتے ہیں جو کسی بھی منظور شدہ پاکستانی جامعہ میں کل وقتی ایم ایس، ایم فل یا پی ایچ ڈی کے طالب علم ہوں اور سلیکشن کے وقت بھی انہی ڈگری پروگرامز میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہوں۔ پی ایچ ڈی کے امیدواروں کے لیے لازمی ہے کہ انہوں نے اپنا کورس ورک مکمل کر لیا ہو، ان کی رجسٹریشن کو کم از کم 18 ماہ ہو چکے ہوں اور ان کا تحقیقی پروپوزل باضابطہ طور پر منظور شدہ ہو۔ اسی طرح ایم ایس اور ایم فل کے طلبا کے لیے کم از کم 18 کریڈٹ آورز کی تکمیل اور تھیسز یا تحقیقی مرحلے میں داخل ہونا بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، امیدواروں کا مجوزہ تحقیقی منصوبہ ایسا ہونا چاہیے جو چین میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت میں مکمل کیا جا سکے اور اس کا براہِ راست تعلق ان کے بنیادی تھیسز سے ہو، جبکہ چین کی جس میزبان جامعہ یا لیب کا قبولیت نامہ پیش کیا جائے، اس کا سی پیک یونیورسٹی کنسورشیم کا باقاعدہ رکن ہونا ضروری ہے۔

یہ فیلوشپ پروگرام وقت کی جدید ضروریات اور پاکستان کے قومی و اقتصادی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ ایچ ای سی کے مطابق اس پروگرام میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ، مشین لرننگ، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس، قابلِ تجدید توانائی، گرین ٹیکنالوجی، زراعت، غذائی تحفظ، بائیوٹیکنالوجی، واٹر مینجمنٹ، ماحولیاتی سائنسز اور موسمیاتی تبدیلی جیسے جدید سائنسی شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹیشن، صحتِ عامہ، بائیو میڈیکل سائنسز، معاشیات، عالمی تجارت اور سی پیک سٹڈیز جیسے اسٹریٹجک موضوعات پر تحقیق کرنے والے سکالرز بھی اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ایچ ای سی نے تمام اہل اور پرعزم سکالرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکمل دستاویزات کے ساتھ اپنے آن لائن فارمز ایچ ای سی کے پورٹل پر جمع کروائیں، جس کے لیے آخری تاریخ 14 اگست 2026ء مقرر کی گئی ہے۔