وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اہم اجلاس: پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی باقاعدہ منظوری، ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کو وقت کی عاجلانہ ضرورت قرار دے دیا گیا

کاشف عباسی , JULY 28,026

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا ایک انتہائی اعلیٰ سطحی اور اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کے توانائی کے شعبے کو جدید ترجیحات کے مطابق ڈھالنے کے لیے ‘پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023’ میں کی گئی اہم ترامیم کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی۔ وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والے اس خصوصی اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، پروفیسراحسن اقبال کے علاوہ متعلقہ وزارتی وفاقی سیکرٹریز اور توانائی انڈسٹری کے اعلیٰ ترین سرکاری حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کے اندر آئل ریفائنریز کی موجودہ کارکردگی، توانائی کی پیداوری صلاحیت، براؤن فیلڈ ریفائنریز کے بنیادی ڈھانچے اور آئل سیکٹر میں متوقع عالمی سرمایہ کاری سے متعلق امور کا تفصیلی اور باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس بات پر شدید زور دیا کہ پاکستان میں موجود تمام آئل ریفائنریز کی جدید ترین تکنیکی بنیادوں پر اپ گریڈیشن اب کوئی اختیاری معاملہ نہیں بلکہ وقت کی شدید اور عاجلانہ ضرورت بن چکی ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ جدید تقاضوں اور عالمی معیار سے ہم آہنگ ریفائنریز پاکستان کے پائیدار توانائی تحفظ کے جامع نظام کا ایک مرکزی اور اہم ترین ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات پر مبنی یہ اقدام نہ صرف ملک کی مجموعی توانائی کی ضروریات کو زیادہ مؤثر، مستحکم اور بہتر انداز میں پورا کرے گا بلکہ گرانقدر غیر ملکی زرِ مبادلہ کا خرچ کم کر کے درآمدی ایندھن پر پاکستان کا انحصار نمایاں طور پر گھٹانے میں مدددگار ثابت ہوگا۔ مزید برآں، اس سے ملک بھر میں ماحول دوست اور اعلیٰ معیار کا صاف ایندھن فراہم کرنے کا دیرینہ مقصد بھی حاصل کیا جا سکے گا، جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

اجلاس میں شریک اعلیٰ حکام نے وزیراعظم اور کمیٹی کے دیگر اراکین کو پاکستان میں توانائی کی صورتِ حال پر تفصیلی بریفنگ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ ملک کی موجودہ ریفائنریز کی پیداواری گنجائش کو بڑھانے اور فرنس آئل جیسی کم معیار کی ایندھن مصنوعات کو بتدریج ختم کرنے کے لیے ان کی اپ گریڈیشن ناگزیر ہو چکی ہے۔ بریفنگ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ ترامیم کے تحت اب یورو-4 اور بالخصوص اعلیٰ ترین یورو-5 معیار کے پٹرول اور ڈیزل کی مقامی سطح پر پیداوار کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہ اقدام پاکستان کے عالمی ماحولیاتی معاہدوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل کے لیے انتہائی ضروری ہے، جس سے ملک میں جان لیوا اور شدید فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لائی جا سکے گی اور عام عوام کو بین الاقوامی معیار کا ایندھن میسر آئے گا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے توانائی کے نگران ادارے اویل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی مجموعی کارکردگی کو بین الاقوامی سانچے میں ڈھالنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ کی فوری اور حقیقی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اوگرا میں بنیادی نوعیت کی انتظامی و قانونی اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔ اس کا بنیادی مقصد آئل اینڈ گیس کے شعبے میں تجارتی مسابقت، شفافیت اور غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو مکمل طور پر سازگار بنانا ہے۔ وزیراعظم نے واضح اور سخت احکامات جاری کیے کہ نئی آئل ریفائننگ پالیسی کی منظوری کے بعد اس کے ہر شق پر فوری، مؤثر اور طے شدہ وقت کے اندر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس سلسلے میں کسی بھی وزارت، ادارے یا انتظامی افسر کی طرف سے کسی بھی قسم کی غفلت، سستی یا تاخیر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام تمام سٹیک ہولڈرز کو قریبی رابطہ اور باہمی مشاورت کے ذریعے اصلاحاتی عمل تیز کرنے کا پابند کیا۔

مستقبل کی اسٹریٹجک ضروریات اور سرمایہ کاری کے حجم کو وسیع کرنے کے لیے، وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے براؤن فیلڈ ریفائنریز کے حوالے سے اس ترمیمی پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 کی تشہیر اور آگاہی کے لیے قطر، برادر اسلامی ملک سعودی عرب اور دیگر اہم خلیجی ممالک میں خصوصی روڈ شوز منعقد کرنے کے واضح احکامات دیے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر براؤن فیلڈ ریفائنریز میں معاشی و تکنیکی اصلاحات متعارف کروانے پر وفاقی وزیر برائے پٹرولیم اور ان کی پوری ماہر ٹیم کی دن رات کی محنت اور شاندار کارکردگی کو کھلے دل سے سراہا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے وزارتِ پٹرولیم اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ہنگامی صورتِ حال یا عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے ملک کے اندر پٹرولیم مصنوعات کے اسٹریٹجک ذخائر کا حجم جلد از جلد بڑھانے کے لیے جامع عمل درآمدی منصوبہ بندی تشکیل دیں تاکہ ملک کو توانائی کے کسی بھی غیر متوقع بحران سے محفوظ رکھا جا سکے۔

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کا پمز ہسپتال کا دورہ: 200 بیڈز پر مشتمل زیرِ تکمیل جدید ایمرجنسی بلاک کا جائزہ، جلد فعال کرنے کا حکم

روزینہ اسماعیل, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد کا دورہ کر کے وہاں 200 بیڈز پر مشتمل زیرِ تعمیر جدید اور سٹیٹ آف دی آرٹ ایمرجنسی سینٹر کے ترقیاتی کاموں کا تفصیلی معائنہ کیا، جو اس وقت اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ دورے کے دوران پمز ہسپتال کی سینئر انتظامیہ اور انجینئرنگ ٹیموں نے وفاقی وزیر کو منصوبے کی موجودہ پیش رفت، فنی امور، جدید طبی آلات اور دستیاب سہولیات پر مفصل بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر صحت نے ہدایت کی کہ ایمرجنسی بلاک کی عمارت کی فنشنگ، صفائی ستھرائی اور تمام تر درپیش تکنیکی امور کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ اسے عوام الناس کے علاج معالجے کے لیے بلا تاخیر کھولا جا سکے۔ انہوں نے انتظامیہ کو منصوبے کا پی سی-فور کا عمل بھی تیز کرنے کی سخت تاکید کی۔ سید مصطفیٰ کمال نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پمز پر جڑواں شہروں اور گردونواح کے اضلاع سے آنے والے مریضوں کا شدید بوجھ ہے، اس لیے اس جدید ایمرجنسی سینٹر کا فعال ہونا وقت کی سب سے بڑی اور عاجلانہ ضرورت ہے۔

بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ اس جدید ایمرجنسی بلاک میں شدید زخمی اور تشویشناک حالت کے مریضوں کے لیے 30 بیڈز پر مشتمل جدید ترین سرجیکل آئی سی یو10 بیڈز پر مشتمل میڈیکل آئی سی یو، دو بڑے اور جدید آپریشن تھیٹرز جبکہ دو مائنر آپریشن تھیٹرز قائم کیے گئے ہیں جو ہنگامی بنیادوں پر بہترین طبی نگہداشت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اس کے بعد وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے تعاون سے پمز میں قائم کردہ پیڈیاٹرک (بچوں کے) ایمرجنسی سینٹر کا بھی معائنہ کیا اور وہاں زیرِ علاج بچوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات اور دیکھ بھال کے معیار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح اور سخت الفاظ میں ہدایت کی کہ معصوم بچوں کے علاج معالجے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور حکومت ہر ممکن وسائل فراہم کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے اس عزم کو دہرایا کہ وزارتِ صحت تمام سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے تمام ضروری اقدامات مسلسل جاری رکھے گی۔

وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے امریکی کانگریسی وفد کی اعلیٰ سطحی ملاقات: سائبر سیکیورٹی، سٹیم اور تعلیمی تبادلوں کے فروغ کے لیے وسیع تر تعاون کا عزم

کاشف عباسی , JULY 27,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلیمی اور عسکری و ٹیکنالوجی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی سمت ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکہ کی ریاست واشنگٹن کے نمائندے کانگریس مین مائیکل جیمز بامگارٹنر اور ریاست مونٹانا سے منتخب ہونے والے سابق امریکی وزیرِ داخلہ و کانگریس مین ریان کیتھ زنکے سے ایک اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم وجیہہ قمر، چیئرمین نیوٹیک قمرالاسلام راجہ، سیکرٹری تعلیم اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات میں سائبر سیکیورٹی، جدید تکنیکی مہارتوں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے میدان میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی اور نتیجہ خیز تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں درپیش ڈیجیٹل سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستانی طلبہ اور پیشہ ور افراد کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے، جس کے لیے سائبر سیکیورٹی کے خصوصی کورسز اور سرٹیفیکیشن پروگرامز فوری طور پر تیار کیے جائیں گے۔ دونوں فریقوں نے دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کے مابین جدید نصاب کی تیاری، مشترکہ تحقیق، فیکلٹی کے تبادلے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی و فن ٹیک کے شعبوں میں قریبی علمی شراکت داری استوار کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکی کانگریسی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ پارلیمانی اور تعلیمی وفود کی اس طرح کی باقاعدہ آمد سے پاک امریکہ دیرینہ اور متعدد الجہتی تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ حکومتِ پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اور کلیدی ستون ہیں اور دونوں ممالک کے روابط مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اعلیٰ سطحی رابطوں کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات، صحت، زراعت اور تعلیم جیسے باہمی دلچسپی کے اہم شعبوں میں تعاو ن کی نئی راہداریاں کھولی جا سکیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے فل برائٹ پروگرام اور دیگر تعلیمی تبادلے کے پروگراموں کے اثرات کو سراہتے ہوئے بتایا کہ اب تک 44 ہزار سے زائد پاکستانی ان میرٹ پر مبنی پروگراموں سے مستفید ہو چکے ہیں، جو انسانی وسائل کی تعمیر میں ایک عظیم سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے پاکستان کے تمام صوبوں سے ان توانائی، پانی، ماحولیات، صحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے حیاتیاتی موضوعات پر ریسرچ میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کی تاکہ مشترکہ چیلنجز سے احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔

اس اہم ملاقات کے دوران بین الاقوامی امیگریشن، ویزا پالیسیوں اور حساس ٹیکنالوجیز کے تحفظ کے موجودہ تناظر پر بھی تعمیری گفتگو ہوئی، جس پر وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ امریکی جامعات اور انڈسٹریز آج بھی عالمی سطح پر ‘سٹیم’ صلاحیتوں کی معترف ہیں اور پاکستان آئی ٹی، فن ٹیک، اور ایگری ٹیک کے میدان میں واشنگٹن کا ایک انتھائی قابلِ اعتماد، باصلاحیت اور متحرک شراکت دار بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ دونوں فریقین نے قلیل مدتی تحقیقی تبادلوں، ورچوئل لیبارٹریز، دوہری ڈگری پروگرامز اور اساتذہ کی تربیت کے لیے مشترکہ مراکز کے قیام کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے اس بات پر حتمی اتفاق کیا کہ تعلیم، تحقیقی ویزہ سہولیات اور تکنیکی جدت طرازی ہی وہ بنیادی ذرائع ہیں جو دونوں اقوام کے درمیان اعتماد، افہام و تفہیم اور معاشی خوشحالی کو طویل عرصے تک یقینی بنا سکتے ہیں، جبکہ وفاقی وزارتِ تعلیم نے اس اہم شراکت داری کو مزید نئی بلندیوں تک لے جانے کے اپنے اٹل عزم کا اعادہ کیا۔

چینی سپلائی چین کمپنی کا آئی سی سی آئی کا دورہ، فارما اور ہیلتھ کیئر شعبوں میں سرمایہ کاری پر اتفاقِ رائے

منصور احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

چین کی معروف اور پیش رو سپلائی چین کمپنی ‘یوزونگھے (ہوبئی)’ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ونس ما کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی اور کثیر الجہتی چینی تاجر وفد نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کا باضابطہ دورہ کیا، جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر، میڈیکل ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع اور نئے مواقع کا گہرائی سے جائزہ لینا تھا تاکہ دونوں دوست ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی و صنعتی تعاون کو مزید بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔ دورے کے دوران ہونے والے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی وفد کے قائد ونس ما نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی کمپنی اور چینی سرمایہ کار پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی، متحرک اور انتہائی پرکشش مارکیٹ کی نظر سے دیکھتے ہیں اور وہ یہاں محض تجارت ہی نہیں بلکہ براہِ راست سرمایہ کاری، جدید چینی ٹیکنالوجی کی پاکستان منتقل اور مقامی کمپنیوں کے ساتھ مل کر جوائنٹ وینچرز (مشترکہ منصوبے) قائم کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان یہ قریبی اور مضبوط صنعتی تعاون جہاں ایک طرف پاکستان میں صحت کی بنیادی سہولیات کے معیار کو بلند کرنے اور فارماسیوٹیکل سپلائی چین کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، وہی دوسری جانب جدید ترین ٹیکنالوجی، مہارت اور تحقیق کے تبادلے سے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے لیے تجارت اور سرمائے کے نئے افق کھولے گا۔ ونس ما نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ اسلام آباد چیمبر میں ہونے والی بی ٹو بی یعنی تاجر سے تاجر کی سطح پر مذاکراتی ملاقاتیں دونوں ممالک کی تجارتی برادری کے درمیان دیرپا اور پائیدار معاشی تعلقات کی مضبوط بنیاد ثابت ہوں گی۔

چینی وفد کا گرمجوشی سے پرخلوص خیرمقدم کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ اس اعلیٰ سطحی چینی وفد کا دورہ پاکستان اور چین کے درمیان تیزی سے فروغ پاتے ہوئے معاشی اور صنعتی تعلقات کا ایک روشن مظہر ہے، جو خاص طور پر دواسازی، صحتِ عامہ اور سپلائی چین مینجمنٹ کے شعبوں میں ایک نئے سنہری باب کا آغاز ثابت ہوگا۔ انہوں نے وفد کو بتایا کہ اسلام آباد اور اس کے گردونواح کے تمام تر صنعتی خطے کو پاکستان کا سب سے اہم فارماسیوٹیکل، سرجیکل اور ہیلتھ کیئر حب تسلیم کیا جاتا ہے، جہاں چینی کمپنیاں مشترکہ منصوبوں، نجی سرمائے کی فراہمی، پروسیسنگ ٹیکنالوجی اور صنعتی سہولیات کے ذریعے وسیع فائس حاصل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے آئی سی سی آئی کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ چیمبر چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں قابلِ اعتماد اور بااعتماد تجارتی شراکت داروں سے جوڑنے اور تمام تر درکار سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنا فعال اور کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔

تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے دونوں ممالک کے جیو پولیٹیکل اور اقتصادی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ، بائیوٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر میں ہونے والی جدید جدت طرازیوں اور جدید ترین سپلائی چین کے شعبوں میں چین کی عالمی سطح پر مسلمہ مہارت اور دوسری طرف پاکستان کی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت و روز بروز پھیلتی ہوئی صارفین کی مارکیٹ، دونوں اقوام کے لیے باہمی مفاد پر مبنی معاشی تعاون کا ایک مثالی ماحول فراہم کرتی ہیں۔ مزید برآں، آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان تعمری ملاقاتوں سے پاکستان کی دواسازی کی صنعت کو چین کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی اور نئی تجارتی راہداریاں کھلیں گی۔ اس اہم موقع پر چینی وفد کے دیگر ارکان جن میں لیو ہی شامل تھے، کے ساتھ ساتھ اسلام آباد چیمبر کے ایگزیکٹو ممبران ذوالقرنین عباسی، وسیم چوہدری، عمران منہاس، روحیل انور بٹ، سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری، اور آئی سی سی آئی کے دیگر اراکین اسرار مشوانی، عظمیٰ شیراز اور وفاقی دارالحکومت کی جید کاروباری و صنعتی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور دوطرفہ اقتصادی روابط کو جلد از جلد عملی شکل دینے کے عزم کو دہرایا۔

سی پیک یونیورسٹی کنسورشیم: ایچ ای سی نے پاکستانی اور آزاد کشمیر کے ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز کے لیے چین میں 6 ماہ کی ریسرچ فیلوشپ کا اعلان کر دیا

روزینہ اسماعیل, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) یونیورسٹی کنسورشیم کے فریم ورک کے تحت پاکستان اور آزاد کشمیر کی تسلیم شدہ جامعات میں زیرِ تعلیم ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز کے لیے چین کی بہترین جامعات و تحقیقاتی اداروں میں چھ ماہ کی باوقار تحقیقی فیلوشپ کے لیے آن لائن درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ ایچ ای سی کے سرکاری بیان کے مطابق، اس فلیگ شپ پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان اور چین کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان دیرپا تعلیمی و سائنسی تعاون کو استوار کرنا، مشترکہ تحقیق کے دائرہ کار کو وسعت دینا اور قومی ترجیحات سے منسلک جدید ترین موضوعات پر اعلیٰ معیار کی تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس فیلوشپ کے تحت پاکستانی محققین کو چین کے جدید ترین لیبارٹری انفراسٹرکچر، ماہرین کی سرپرستی اور عالمی معیار کے تحقیقاتی ماحول سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیانی تعلیمی اور معاشی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔

کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اہلیت کے معیار کے مطابق، اس فیلوشپ پروگرام کے لیے صرف وہی پاکستانی یا آزاد کشمیر کے شہری اپلائی کر سکتے ہیں جو کسی بھی منظور شدہ پاکستانی جامعہ میں کل وقتی ایم ایس، ایم فل یا پی ایچ ڈی کے طالب علم ہوں اور سلیکشن کے وقت بھی انہی ڈگری پروگرامز میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہوں۔ پی ایچ ڈی کے امیدواروں کے لیے لازمی ہے کہ انہوں نے اپنا کورس ورک مکمل کر لیا ہو، ان کی رجسٹریشن کو کم از کم 18 ماہ ہو چکے ہوں اور ان کا تحقیقی پروپوزل باضابطہ طور پر منظور شدہ ہو۔ اسی طرح ایم ایس اور ایم فل کے طلبا کے لیے کم از کم 18 کریڈٹ آورز کی تکمیل اور تھیسز یا تحقیقی مرحلے میں داخل ہونا بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، امیدواروں کا مجوزہ تحقیقی منصوبہ ایسا ہونا چاہیے جو چین میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت میں مکمل کیا جا سکے اور اس کا براہِ راست تعلق ان کے بنیادی تھیسز سے ہو، جبکہ چین کی جس میزبان جامعہ یا لیب کا قبولیت نامہ پیش کیا جائے، اس کا سی پیک یونیورسٹی کنسورشیم کا باقاعدہ رکن ہونا ضروری ہے۔

یہ فیلوشپ پروگرام وقت کی جدید ضروریات اور پاکستان کے قومی و اقتصادی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ ایچ ای سی کے مطابق اس پروگرام میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ، مشین لرننگ، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس، قابلِ تجدید توانائی، گرین ٹیکنالوجی، زراعت، غذائی تحفظ، بائیوٹیکنالوجی، واٹر مینجمنٹ، ماحولیاتی سائنسز اور موسمیاتی تبدیلی جیسے جدید سائنسی شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹیشن، صحتِ عامہ، بائیو میڈیکل سائنسز، معاشیات، عالمی تجارت اور سی پیک سٹڈیز جیسے اسٹریٹجک موضوعات پر تحقیق کرنے والے سکالرز بھی اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ایچ ای سی نے تمام اہل اور پرعزم سکالرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکمل دستاویزات کے ساتھ اپنے آن لائن فارمز ایچ ای سی کے پورٹل پر جمع کروائیں، جس کے لیے آخری تاریخ 14 اگست 2026ء مقرر کی گئی ہے۔

اسلام آباد پولیس خدمت مراکز کی شاندار کارکردگی؛ جاری سال 21 ہزار سے زائد کریکٹر سرٹیفکیٹس جاری

منصور احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

اسلام آباد کیپٹل پولیس کے خدمت مراکز نے رواں سال (یکم جنوری 2026ء سے 26 جولائی 2026ء تک) کی کارکردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو 21 ہزار سے زائد کریکٹر سرٹیفکیٹس جاری کیے ہیں۔ ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں قائم تمام خدمت مراکز شہریوں کو جدید، شفاف اور آسان ماحول میں معیاری سہولیات فراہم کرنے کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پولیس ترجمان نے شہریوں کو آگاہ کیا کہ وہ بغیر کسی دشواری یا طویل انتظار کے خدمات حاصل کرنے کے لیے اسلام آباد پولیس کی آفیشل ویب سائٹ کے ذریعے “آن لائن اپائنٹمنٹ” کا آپشن استعمال کر سکتے ہیں۔

کیپٹن محمد سرور شہید (نشانِ حیدر) کے 78ویں یومِ شہادت کے موقع پر ملک بھر میں قرآن خوانی اور خراجِ عقیدت

کاشف عباسی , JULY 27,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

نشانِ حیدر حاصل کرنے والے ارضِ پاک کے پہلے شجاع سپوت، کیپٹن محمد سرور شہید کے 78ویں یومِ شہادت کی مناسبت سے ملک بھر کی مساجد میں قرآن خوانی کی محافل کا انعقاد کیا گیا، جن میں علماء کرام اور جلیل القدر مذہبی رہنماؤں نے شہدائے پاکستان کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ علماء کرام نے مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دفاعِ وطن کی خاطر جان کی قربانی دینے والے شہداء ہمارا حقیقی سرمایہ اور قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کیپٹن محمد سرور شہید جیسے قومی ہیروز کی لازوال خدمات اور جرات و بسالت کو اجاگر کرنا نئی نسل میں حب الوطنی، یکجہتی اور قومی ذمہ داری کے شعور کو بیدار کرنے کا باعث بنتا ہے۔ علماء نے واضح کیا کہ کیپٹن محمد سرور شہید کی تاریخی قربانی آج بھی جرات، وفاداری اور وطن عزیز سے بے لوث محبت کی روشن ترین علامت ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی و معاشی تعاون کا نیا باب؛ 40 رکنی اعلیٰ سطح امریکی وفد پاکستان پہنچ گیا

منصور احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

پاکستان اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے مابین کاروباری و معاشی شراکت داری کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے، جس سلسلے میں معروف امریکی سرمایہ کاروں، کاروباری رہنماؤں اور ٹیکنالوجی ماہرین پر مشتمل 40 رکنی اعلیٰ سطح وفد 26 سے 31 جولائی تک پاکستان کے اہم دورے پر موجود ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل ، وزارتِ تجارت اور واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے باہمی اشتراک سے ترتیب دیے گئے اس دورے کا مقصد بی ٹو بی اجلاس، پالیسی بریفنگز اور سرمایہ کاری کے ٹھوس معاہدوں کو حتمی شکل دینا ہے۔ دورے کے دوران وفد کی وزیرِ اعظم، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ، اور ایس آئی ایف سی کے حکام سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔ امریکی وفد مصنوعی ذہانت ، ٹیلی میڈیسن، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ایرو اسپیس، معدنیات، توانائی اور دفاع جیسے جدید شعبوں میں پاکستان کے ساتھ مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

حج 2027 کے لیے آن لائن رجسٹریشن جاری؛ رجسٹرڈ عازمین کی تعداد 3 لاکھ 65 ہزار سے تجاوز کر گئی

منصور احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے تحت حج 2027 کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے، جس کے دوران رجسٹرڈ عازمینِ حج کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 65 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2 لاکھ 64 ہزار افراد نے سرکاری حج سکیم جب کہ 1 لاکھ 1 ہزار عازمین نے پرائیویٹ حج سکیم کے ذریعے فریضہ حج کی ادائیگی میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب سے سب سے زیادہ 1 لاکھ 68 ہزار افراد نے رجسٹریشن کروائی ہے، جبکہ سندھ سے 1 لاکھ 7 ہزار، خیبرپختونخوا سے 55 ہزار، اسلام آباد سے 17 ہزار، بلوچستان سے 13 ہزار، آزاد کشمیر سے 3 ہزار اور گلگت بلتستان سے 14 سو شہریوں نے آن لائن پورٹل کے ذریعے اندراج مکمل کیا۔ وزارت نے مزید انکشاف کیا ہے کہ مستقبل کی منصوبہ بندی کے تحت حج 2028 کے لیے 6 ہزار جبکہ 2029 اور 2030 کے لیے بھی 4 ہزار عازمین پہلے ہی رجسٹر ہو چکے ہیں۔ وزارتِ مذہبی امور نے واضح کیا ہے کہ رجسٹریشن کا عمل مکمل کیے بغیر کوئی بھی شخص آئندہ سالوں میں حج کی ادائیگی کے لیے اہل نہیں ہوگا۔

بشام خود کش حملہ کیس: 49 ملزمان کی ضمانت منسوخی درخواست کی سماعت 20 اگست تک ملتوی

منصور احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بشام خود کش حملہ کیس میں نامزد 49 ملزمان کی ضمانت منسوخی کے حوالے سے دائر سرکاری اپیل کی سماعت 20 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ نے کی۔ دورانِ سماعت عدالت عالیہ نے ملزمان کے ٹرائل کورٹ میں پیش ہونے اور وکیل کی عدم موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ جب ایک شریک ملزم نے غریبی اور ریڑھی لگانے کا عذر پیش کرتے ہوئے وکیل کی عدم استطاعت کا بتایا تو جسٹس نعیم اختر افغان نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ملزمان پر دہشت گردی اور سہولت کاری جیسے انتہائی سنگین الزامات عائد ہیں، جن میں سے ملزم نذیر کا سم کارڈ براہ راست خودکش حملہ آور کے زیرِ استعمال پایا گیا ہے۔ عدالت نے تمام ملزمان کو اگلی سماعت پر لازمی وکیل کے ساتھ پیش ہونے کا حتمی حکم دیا اور خبردار کیا کہ عدم تعمیل کی صورت میں ان کی ضمانتیں فوری منسوخ کر دی جائیں گی۔ یاد رہے کہ 26 مارچ 2024ء کو بشام میں ہونے والے خودکش حملے میں 5 چینی انجینئرز سمیت 6 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

مینگرووز کی بحالی بلیو اکانومی کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے؛ وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کا اہم بیان

منصور احمد, JULY 26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے عالمی یومِ مینگرووز کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کے مینگرووز جنگلات بحیرہ عرب کے ساحلی تحفظ، ماہی گیری کے فروغ، اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے قدرتی ڈھال کا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے روشنی ڈالی کہ پاکستان اس وقت دنیا میں مینگرووز رقبے کے لحاظ سے 7ویں نمبر پر ہے اور مسلسل شجرکاری کے ذریعے 4th یا 5th پوزیشن حاصل کر سکتا ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان کی مینگرووز کاربن مارکیٹ سے سالانہ 2 کروڑ سے 5 کروڑ ڈالر (حدود 50 ملین ڈالر) تک آمدن حاصل ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ درخت عام خشکی کے پودوں سے چار گنا زیادہ کاربن جذب کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ اور صوبائی ادارے قبضہ مافیا سے ساحلی زمینیں واگزار کرا کر شجرکاری اور صفائی مہمات جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ماحولیاتی فعال پسند الماس کاسمانی کو سفیر مقرر کر کے 1 لاکھ مزید پودے لگانے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔

بلوچستان میں آپریشن العزم کے تحت سیکیورٹی فورسز کی موثر کارروائیاں؛ ‘فتنة الہندوستان’ کے 16 دہشت گرد ہلاک

کاشف عباسی , JULY 26,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 جولائی 2026ء

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ ‘آپریشن العزم’ کے تحت بلوچستان بھر میں دہشت گردی کے خلاف موثر اور ٹارگٹڈ کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے علاقوں کلی کند عمرانی، خڈکوچہ اور مستونگ سمیت مختلف مقامات پر کارروائیوں کے دوران بھارت کے بھیجے گئے ‘فتنة الہندوستان’ سے تعلق رکھنے والے عناصر کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آپریشن العزم کے دوران اب تک فتنہ الہندوستان کے 16 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے جبکہ ان کے متعدد ٹھکانے اور کمین گاہیں مکمل طور پر تباہ کر کے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد قبضہ میں لے لیا گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن و امان کے قیام تک یہ کارروائیاں بلاتعطل جاری رہیں گی۔

گرین پاکستان انیشی ایٹو سے بنجر زمینیں آباد اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ؛ اوورسیز پاکستانی کا بڑا اعتراف

منصور احمد, JULY 26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 جولائی 2026ء

گرین پاکستان انیشی ایٹوکے زیرِ اہتمام ملک بھر میں بنجر زمینوں کی بحالی، جدید زرعی نظام کی ترسیل اور سرمایہ کاری کے نئے و وسیع مواقع تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔ غیر ملکی دورانیہ مکمل کر کے وطن واپس لوٹنے والے اوورسیز پاکستانی سرمایہ کار غلام مصطفیٰ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ گرین پاکستان انیشی ایٹو نے انہیں ‘رکھ غلاماں’ میں زمین فراہم کی جہاں وہ اس وقت 1100 ایکڑ رقبے پر گندم، چنا اور کینولا کی جدید کاشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رکھ غلاماں کی 10 ہزار ایکڑ بنجر زمین میں سے پچھلے دو سال کے مختصر عرصے میں 50 فیصد رقبے کو دوبارہ قابلِ کاشت بنا دیا گیا ہے۔ غلام مصطفیٰ کے مطابق جی پی آئی کے تعاون سے فارم پر سینٹرل پیوٹ ایریگیشن سسٹمز، جدید درآمدی ٹریکٹرز اور جدید زرعی مشینری استعمال کی جا رہی ہے جبکہ پی ایچ ڈی زرعی ماہرین اور ٹیکنو کریٹس مسلسل رہنمائی اور فارم کا معائنہ فراہم کر رہے ہیں، جو اوورسیز پاکستانیوں کو اپنی سرزمین میں محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری کا بہترین ماحول فراہم کر رہا ہے۔

واپڈا کی جانب سے دریاؤں، بیراجوں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کی تفصیلات جاری

کاشف عباسی , JULY 26,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 جولائی 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک بھر کے دریاؤں، بیراجوں اور اہم آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے روزانہ کی بنیاد پر تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 87 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 9 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ بیراجوں کی صورتحال بتاتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ جناح بیراج پر آمد 3 لاکھ 38 ہزار 300 کیوسک، چشمہ بیراج پر آمد 3 لاکھ 52 ہزار 200 کیوسک، اور تونسہ بیراج پر 3 لاکھ 13 ہزار 500 کیوسک آمد ریکارڈ کی گئی، جبکہ گدو بیراج میں آمد 2 لاکھ 17 ہزار کیوسک اور سکھر بیراج پر 1 لاکھ 26 ہزار 400 کیوسک درج کی گئی۔ آبی ذخائر کے اعداد و شمار کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1528.11 فٹ تک پہنچ گئی ہے جہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 4.354 ملین ایکڑ فٹ ہو چکا ہے، جبکہ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1188.35 فٹ کے ساتھ ذخیرہ 3.542 ملین ایکڑ فٹ اور چشمہ بیراج میں 0.132 ملین ایکڑ فٹ قابلِ استعمال پانی موجود ہے۔

اسلام آباد میں گرجا گھروں کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ؛ ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا کا مختلف چرچز کا دورہ

منصور احمد, JULY 26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 جولائی 2026ء

ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد قاضی علی رضا نے وفاقی دارالحکومت کے مختلف گرجا گھروں (چرچز) کا دورہ کر کے سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ترجمان اسلام آباد پولیس کی طرف سے جاری کردہ معلومات کے مطابق، ایس ایس پی آپریشنز نے اپنے دورے کے دوران ڈیوٹی پر موجود پولیس افسران اور اہلکاروں کی الرٹنس اور تعیناتی کا معائنہ کیا اور انہیں بلا تعطل الرٹ رہتے ہوئے فول پروف سیکیورٹی اور انتہائی ذمہ داری کے ساتھ فرائض انجام دینے کی سخت ہدایات جاری کیں۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا نے کہا کہ اسلام آباد پولیس وفاقی دارالحکومت میں اقلیتی برادری اور تمام گرجا گھروں کی سیکیورٹی کے لیے ہمہ وقت الرٹ ہے اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔

پانی کی نگرانی اور سرحد پار آبی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال ناگزیر؛ فلو مینیپولیشن ایڈوائزری سسٹم قائم کرنے کی تجویز

کاشف عباسی , JULY 25,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

اے آئی جیو نیویگیٹرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عاصم جاوید نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کے بہاؤ پر بھارت کے اقدامات کے خلاف بین الاقوامی سطح پر توجہ برقرار رکھی جائے، کیونکہ معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزیاں سنگین تشویش کا معاملہ ہیں۔

خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر ثالثی کی مستقل عدالت کے فیصلے کے بعد سفارتی حمایت حاصل کرنی چاہیے، اپنی قانونی و تکنیکی پوزیشن کو وسیع پیمانے پر اجاگر کرنا چاہیے، معاہدے کی مبینہ بھارتی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنا چاہیے اور اپنا حق ثابت کرنا چاہیے۔

مصنوعی ذہانت کا ممکنہ کردار

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پاکستان کے آبی تحفظ کو مضبوط بنانے میں دریاؤں کی نگرانی، پانی کی دستیابی کی پیش گوئی اور شواہد پر مبنی پانی کے انتظام کی حمایت کرتے ہوئے سرحد پار پانی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔

عاصم جاوید نے اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے ایک “فلو مینیپولیشن ایڈوائزری سسٹم” تیار کرنے کی تجویز پیش کی، تاکہ خاص طور پر پاکستان میں آبی بہاؤ کو متاثر کرنے والی اپ سٹریم مداخلتوں کے پیشِ نظر اہم مقامات پر پانی کی دستیابی کی نگرانی اور جائزہ لیا جا سکے۔ ان کے مطابق جدید ترین اے آئی پر مبنی نظام متعلقہ حکام کو ریئل ٹائم ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کا تجزیہ کرنے، دریا کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ کا اندازہ لگانے اور پانی کی تقسیم و ذخیرہ کرنے کی منصوبہ بندی بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

سیلابی پانی کے بہتر استعمال کی تجویز

سیلابی پانی کو بہتر طریقے سے بروئے کار لانے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے عاصم جاوید نے کہا کہ پاکستان کو سیلاب کے موسموں میں، بالخصوص دریائے چناب، راوی اور ستلج کے کنارے والے علاقوں میں، پانی ذخیرہ کرنے کے نظام، زیرِ زمین پانی کے ریچارج اور سطح برقرار رکھنے والے تالابوں کی تعمیر کے ذریعے اضافی پانی کو استعمال میں لانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے زیادہ تر میدانی علاقوں پر مشتمل ہیں جہاں بڑے آبی ذخائر کی تعمیر ممکن نہیں، جس سے پانی کے مرکزی انتظام کے حل کو زیادہ عملی اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

عاصم جاوید نے بتایا کہ اے آئی جیو نیویگیٹرز مصنوعی ذہانت، جیو اے آئی، ریموٹ سینسنگ، جیوگرافک انفارمیشن سسٹمز (جی آئی ایس) اور ہائیڈرولوجیکل ماڈلنگ کو مربوط کرتے ہوئے پاکستان کی دریا کے بہاؤ کی نگرانی، اپ سٹریم میں غیرمعمولی تبدیلیوں کا پتہ لگانے، پانی کی قلت یا اچانک اخراج کی پیش گوئی کرنے اور آبی ذخائر کے نظام کو بہتر بنانے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی ٹیکنالوجیز اپنانے سے پاکستان کو زیادہ لچکدار اور ڈیٹا پر مبنی واٹر مینجمنٹ فریم ورک بنانے میں مدد ملے گی، جس سے ملک ابھرتے ہوئے علاقائی آبی چیلنجوں کا مؤثر جواب دینے کے قابل ہو سکے گا

مون سون بارشوں سے ملک بھر میں سیلاب کا خطرہ شدید، این ڈی ایم اے کا فلیش فلڈنگ اور اربن فلڈنگ کا بڑا الرٹ جاری

روزینہ اسماعیل, JULY 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے مسلسل مون سون بارشوں کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب اور طغیانی کے شدید خطرات کا انتباہ جاری کیا ہے۔ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سنٹر کے مطابق دریائے چناب کے مختلف مقامات بشمول خانکی، قادر آباد اور چنیوٹ پل پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مرالہ، خانکی اور ترمو بیراج میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی نالوں، خیبر پختونخوا کے موسمی ندی نالوں اور شمالی بلوچستان میں شدید فلیش فلڈنگ (اچانک سیلاب) کا خطرہ ہے، جبکہ گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، منڈی بہاؤالدین، فیصل آباد، سرگودھا، جھنگ، حافظ آباد، ملتان اور لاہور میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ این ڈی ایم اے نے مسافروں اور شہریوں کو سیلابی علاقوں اور پہاڑی راستوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، ندی نالوں کو عبور نہ کرنے اور لینڈ سلائیڈنگ والے حصوں سے دور رہنے کی اپیل کی ہے، جبکہ تمام ضلعی انتظامیہ اور ایمرجنسی ٹیموں کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت دی ہے۔

پاکستان نے چاول کی پیداوار بڑھانے کا 6 سالہ ‘پروڈکٹیویٹی انہانسمنٹ آف رائس’ منصوبہ کامیابی سے مکمل کر لیا

منصور احمد, JULY 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

پاکستان نے پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں چاول کی پیداوار اور کھیتوں کی کارکردگی بڑھانے کے لیے چھ سالہ میگا پی ایس ڈی پی منصوبہ “پروڈکٹیویٹی انہانسمنٹ آف رائس” کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق 2019ء سے 2025ء تک جاری رہنے والے اس مربوط منصوبے کا بنیادی مقصد جدید ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی، اور معیاری زرعی وسائل کے ذریعے چاول کی حقیقی اور متوقع پیداوار کے درمیان فرق کو کم کرنا تھا۔ اس پروگرام کے تحت کسانوں کو لیزر لینڈ لیولرز، مکینیکل رائس ٹرانسپلانٹرز اور کمبائن ہارویسٹرز جیسے جدید آلات 50 فیصد لاگت کی شراکت پر فراہم کیے گئے، جبکہ ڈائریکٹ سیڈڈ رائس پریسیژن فارمنگ اور سمارٹ ایگریکلچر کے طریقوں کو عام کیا گیا۔ پانی کے مؤثر استعمال کے لیے ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن، ڈرپ اریگیشن اور الٹرنیٹ ویٹنگ اینڈ ڈرائنگ جیسی جدید تکنیکیں متعارف کروائی گئیں۔ مزید برآں، انٹرنیشنل رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور چین کے بین الاقوامی تعاون سے بیماریاں برداشت کرنے والی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ چاول کی زیادہ پیداوار دینے والی نئی اقسام تیار کر کے ملکی زراعت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کرغزستان میں ازبک وزیر خارجہ سے اہم ملاقات؛ پاک ازبک سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق

محمود احمد, JULY 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغزستان کے شہر چولپون آتا میں ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے، جس میں مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون اور پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط، توانائی، ثقافت اور عوامی روابط کی وسعت پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں اعلیٰ سطحی روابط اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان قریبی اشتراکِ عمل کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا تاکہ معاشی تعلقات کو حقیقی نتائج میں بدلا جا سکے۔ دونوں وزراء نے رواں سال کے آغاز میں ازبک صدر شوکت مرزایوف کے کامیاب دورہ پاکستان کے دوران طے پانے والی مفاہمتوں پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کا اعادہ کیا، جبکہ ازبک وزیر خارجہ نے خطے میں امن و استحکام اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے انعقاد کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

جگلوٹ سکردو روڈ پر انصار برج ڈائیورژن کلیئر؛ این ایچ اے کی جانب سے اہم شاہراہوں کی بحالی کی تازہ ترین رپورٹ جاری

کاشف عباسی , JULY 25,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے گلگت بلتستان کی اہم شاہراہوں کی کلیئرنس اور ٹریفک کی صورتحال پر تازہ ترین تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ ترجمان این ایچ اے کے مطابق جگلوٹ سکردو روڈ پر آر ڈی 16 انصار برج کے مقام پر ڈائیورژن کو مکمل طور پر کلیئر کر دیا گیا ہے جس کے بعد سکردو کی جانب سے آنے والی ٹریفک کو بحال کر دیا گیا ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ آر ڈی 25 ساسی ہراموش برج پر بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے اور اس برج کی مکمل بحالی تک گلگت سے آنے والی ٹریفک عارضی طور پر بند رہے گی۔ این ایچ اے حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ دوپہر تک جگلوٹ سکردو روڈ پر ٹریفک کی آمد و رفت کو تمام سائیڈز سے مکمل طور پر بحال کر دیا جائے گا، جبکہ خطے میں سفر کرنے والے سیاحوں اور مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور این ایچ اے کی جانب سے جاری کردہ حتمی اپ ڈیٹس کا انتظار کریں۔