پاکستان اور ایتھوپیا کے بڑھتے ہوئے تعلقات: اسلام آباد میں پہلے ’ایتھوپیئن کافی کیفے‘ کا باقاعدہ افتتاح

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پاکستان اور ایتھوپیا کے مابین تجارتی، ثقافتی اور عوامی روابط کے فروغ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ملک کے پہلے اختصاصی ’ایتھوپیئن کافی کیفے‘ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ دونوں برادر ممالک کے بڑھتے ہوئے دوطرفہ سفارتی تعلقات کے تناظر میں اسے ثقافتی پل کی تعمیر کی جانب ایک غیر معمولی اور اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

افتتاحی تقریب کے بعد روایتی ایتھوپیئن کافی کی مخصوص اور خوبصورت رسم بھی منعقد کی گئی، جس میں پاکستان میں مقیم ایتھوپیئن کمیونٹی، سفارتخانے کے اعلیٰ عملے، ممتاز شخصیات اور میڈیا کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے کہا کہ اس کیفے کا افتتاح پاکستان میں ایتھوپیئن کافی اور اس کی عظیم تاریخ کے باقاعدہ تعارف کی علامت ہے، جبکہ جڑواں شہروں (اسلام آباد و راولپنڈی) کی سطح پر یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد ایتھوپیئن کافی ہاؤس ہے۔ انہوں نے اجاگر کیا کہ ایتھوپیا کو انسانیت کی جائے پیدائش اور دنیا کی بہترین ‘عربیکا کافی’ کا اصل وطن ہونے کے باعث بجا طور پر “لینڈ آف اوریجنز” کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

ایتھوپیئن سفیر نے مزید بتایا کہ اس کیفے کا قیام اور اس کی ملکیت ایک ایتھوپیئن-پاکستانی جوڑے کے پاس ہونا اس اقدام کو عوامی سطح پر مزید دوآتشہ اور اہم بناتا ہے، جو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت اور برادری کی روشن عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیفے کا باضابطہ نام “حبیشہ” رکھا گیا ہے، جو کہ ایتھوپیا کا قدیم اور تاریخی نام ہے۔ یہ نام پاکستانی عوام کے لیے بھی خاص روحانی و تاریخی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ مسلمان حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ اور حبشہ کے منصف مزاج بادشاہ نجاشی سے گہری اور تاریخی عقیدت رکھتے ہیں، جنہوں نے ہجرتِ حبشہ کے کٹھن وقت میں ابتدائی مسلمانوں کو اپنے ملک میں پناہ فراہم کی تھی۔ سفیر نے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ثقافتی تبادلوں میں اضافے پر زور دیا۔

کیفے کے مالکان میں شامل نعیم ہاشمی نے تقریب کے موقع پر میڈیا کو بتایا کہ “حبیشہ کیفے” کے قیام کا بنیادی مقصد پاکستان اور ایتھوپیا کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے کے لیے ایک ایسا فعال پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں دونوں ممالک کے لوگ ایک دوسرے کے آرٹ، ثقافت، روایتی موسیقی، رسم و رواج اور سیاحتی مقاصد سے آگاہی حاصل کر سکیں اور ان کا آزادانہ تبادلہ کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیفے محض بہترین کافی پیش کرنے کا مرکز نہیں، بلکہ پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان مضبوط ثقافتی اور عوامی روابط کے فروغ کا ایک اہم زریعہ ثابت ہو گا۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کی قدرتی آفات اور گلوبل وارمنگ کے خطرات پر اہم گفتگو: پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسیوں اور بین الاقوامی معاونت پر زور

کاشف عباسی , August 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان کو لاحق موسمیاتی تبدیلی، شدید موسموں اور قدرتی آفات کے درپیش خطرات کے حوالے سے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اس وقت پاکستان کی پائیدار بقا، زراعت اور قومی معیشت کے لیے ایک سب سے بڑا اور سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو بار بار آنے والے تباہ کن سیلابوں، گلیشیئرز پگھلنے کے واقعات، اور خشکسالی جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ایک جامع، مربوط اور طویل المدتی حکمتِ عملی نافذ کرنا ہوگی۔

ہفتے کے روز دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے اپنے صدارتی خطاب کے دوران وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان کی جغرافیائی نازکی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے عالمی اخراج میں پاکستان کا حصہ انتہائی معمولی اور 1 فیصد سے بھی کم ہے، تاہم اس کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں نمایا ں اور پیش پیش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سنگین اور تباہ کن چیلنج سے نمٹنے کے لیے نہ صرف پاکستان کے اندر تمام متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو قریبی اور باہم مربوط طریقے سے کام کرنا ہوگا، بلکہ اس مقصد کے لیے عالمی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مالی وسائل کی ہنگامی فراہمی بھی بے حد ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے دنیا کے ترقی یافتہ اور باوسائل ممالک پر اپنے اخلاقی و عالمی فرائض کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے ہولناک اثرات کو کم کرنے اور ان سے بچاؤ کے لیے اجتماعی اور عالمی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن عالمی طاقتوں اور خطوں کے پاس اس قدرتی بحران سے نمٹنے کی مالی صلاحیت، جدید انفراسٹرکچر اور وسائل موجود ہیں، انہیں عالمی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان جیسے متاثرہ ممالک کا ساتھ دینا چاہیے اور اس حوالے سے اپنا عملی کردار بلاتاخیر ادا کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان عالمی سفارتی محاذ پر “موسمیاتی انصاف” کے حصول کے لیے اپنا مقدمہ انتہائی بھرپور، مضبوط اور دلائل کے ساتھ پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسماتی آفات کے نتیجے میں کھربوں روپے کے معاشی اور جانی نقصانات اٹھانے والے دنیا کے ترقی پذیر ممالک کو عالمی برادری، اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں کی بھرپور اور بلا مشروط مالی و تکنیکی معاونت درکار ہے تاکہ وہ قدرتی آفات کی شدت اور تباہ کاریوں سے اپنے بنیادی انفراسٹرکچر کا پائیدار تحفظ کر سکیں۔

اپنے خطاب کے دوران ڈاکٹر مصدق ملک نے ملک کے اندر ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی موافقت کو یقینی بنانے کے لیے ہمہ گیر مربوط پالیسیوں کی فوری تشکیل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے بعد ہونے والے تباہ کن نقصانات میں کمی لانے کے لیے مقامی دیہی و شہری آبادیوں کی استعداد کار کو بڑھانا ہوگا، جبکہ آفت آنے سے قبل ہی پیشگی اطلاع کے جدید نظام اور باقاعدہ پیشگی تیاری و منصوبہ بندی کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا اور یقینی بنانا ناگزیر ہے تاکہ معصوم انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے اپنے بیان کا اختتام اس عزم اور پیغام کے ساتھ کیا کہ موسمیاتی تبدیلی محض کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ اور انتہائی ہنگامی عالمی چیلنج ہے۔ اس خطرے پر قابو پانے کے لیے جہاں پاکستان کی سطح پر اندرونی طور پر ہنگامی بنیادوں پر اداروں کی اصلاحات اور شجرکاری جیسے اقدامات ضروری ہیں، وہی عالمی سطح پر بین الاقوامی تعاون، مالی وسائل کا تبادلہ اور اقوامِ عالم کی مشترکہ و مخلصانہ کوششوں کو فروغ دینا وقت کی سب سے بڑی اور اہم ضرورت ہے۔

پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کا سانحہ: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ذمہ داری قبول کر لی، پارلیمنٹ میں بڑا اعلان

کاشف عباسی , August 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت، خدمات، ضوابط و رابطہ سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال اسلام آباد میں نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے دلخراش واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمان کے سامنے پوری ذمہ داری قبول کی ہے۔ جمعہ کے روز ایوان بالا (سینیٹ) کے اجلاس میں اس دردناک سانحے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ اس سے زیادہ اندوہناک واقعہ نہیں ہو سکتا، معصوم بچے اپنی جانوں سے چلے گئے اور اس پر کوئی بھی تسلی بخش وضاحت پیش نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے واضح اور سخت الفاظ میں اعلان کیا کہ اس معاملے پر کسی بھی شخص کو بچایا نہیں جائے گا، نہ ہی کوئی رپورٹ چھپائی جائے گی؛ جو بھی ذمہ دار ہوگا، “ایک آدمی بھی سپیئر (معاف) نہیں ہوگا”۔

مصطفیٰ کمال نے ایوان کو بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس کی ابتدائی رپورٹ 24 گھنٹوں میں متوقع ہے۔ انہوں نے کمیٹی کی مدت 40 دن سے آگے تک کھلی رکھنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس تحقیقات کو محض چند دنوں کی رسمی کارروائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ جب تک تمام ادارے اور ماہرین آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے قابلِ عمل لائحہ عمل پر متفق نہ ہوں، کام جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ صحت کے پاس گزشتہ 14 ماہ کا مکمل ریکارڈ اور معلومات موجود ہیں جو تحقیقاتی کمیٹی کو فراہم کی جائیں گی اور تمام متعلقہ افسران و عملے کو کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ تمام حقائق قوم کے سامنے آ سکیں۔

وفاقی وزیر نے پمز کے اس سانحے کو ہیلتھ کیئر سسٹم میں موجود سنگین خامیوں کی نشاندہی کا ایک اہم موقع قرار دیا۔ انہوں نے افسوسناک اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال پانچ سال تک کی عمر کے تقریباً چار لاکھ بچے اور ہزاروں مائیں زچگی کے دوران ایسے اسباب سے جاں بحق ہو جاتی ہیں جن کی جانیں بروقت اور بہتر علاج سے بچائی جا سکتی ہیں۔ سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف پمز کے موجودہ واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کر کے سزا دینا نہیں، بلکہ صحت کے پورے نظام میں بنیادی اور پائیدار اصلاحات لانا ہے تاکہ آئندہ کسی بھی بچے یا ماں کی جان محض انتظامی غفلت یا نظام کی کمزوری کی وجہ سے ضائع نہ ہو۔

پمز ہسپتال میں آتشزدگی سانحہ: انتظامی غفلت، فائر سیفٹی اور ٹریننگ کے فقدان پر سنسنی خیز انکشافات

منصور احمد, August 26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے چلڈرن وارڈ میں پیش آنے والے انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والے آتشزدگی کے واقعے کے بعد انتظامی غفلت، فائر سیفٹی اور ہنگامی حفاظتی انتظامات کے حوالے سے سنسنی خیز اور سنگین انکشافات منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کے سینئر صحافتی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق پمز ہسپتال میں گزشتہ کئی سالوں سے کسی قسم کی ایمرجنسی فائر ڈرل یا موک ایکسرسائز کی مشق ہی نہیں کروائی گئی تھی، جس کے باعث ہسپتال کا طبی و انتظامی عملہ ہنگامی صورتحال میں اپنی اور زیرِ علاج مریضوں کی جان بچانے کی بنیادی عملی تربیت سے مکمل طور پر محروم تھا۔ بین الاقوامی قوانین اور طبی ضوابط کے مطابق کسی بھی ہسپتال میں عملے کے لیے ہر چھ ماہ بعد فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس کی باقاعدہ ٹریننگ کروانا لازمی اور فلو چارٹ کا حصہ ہوتا ہے، جس میں آگ لگنے کی صورت میں فوری ردِعمل، مریضوں کو بحفاظت نکالنے (ایویکویشن) اور آگ پر قابو پانے کی عملی مشقیں شامل ہوتی ہیں، تاہم پمز میں ان قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی تھی۔

صحافتی ذرائع کا مزید سنسنی خیز انکشاف یہ بھی ہے کہ آتشزدگی کے وقت وارڈ میں موجود آکسیجن سلنڈرز اور آکسیجن پائپ لائنز بھی آگ کی شدت میں تیزی سے اضافے کا بنیادی باعث بنے، جنہوں نے نرسری کے پورے ماحول کو منٹوں میں جہنم کا منظر بنا دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دل دہلا دینے والی حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ حادثے کے وقت ہسپتال کے ایمرجنسی ایگزٹ (نہایت ضروری راستے) اور ہنگامی نُکاس کے دروازے بند رکھے گئے تھے، جس کی وجہ سے مریضوں، والدین اور عملے کو نکلنے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جب نرسری میں آگ بھڑکی تو ہسپتال کا خودکار الارم سسٹم بھی بروقت فعال اور سائرن بجانے میں ناکام رہا، جس نے انتظامی غفلت کی حد کر دی ہے۔ اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال میں ہر وقت سینکڑوں کی تعداد میں شدید بیمار مریض زیرِ علاج رہتے ہیں، لیکن ہنگامی انخلا کے لیے کسی مربوط اور مؤثر سیفٹی پلان کا نہ ہونا مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اس سانحے کے بعد ماہرین نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوں کے فائر سیفٹی سسٹمز، ایمرجنسی راستوں اور عملے کی ٹریننگ کا بلا تاخیر ازسرِنو تفصیلی جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی ہولناک سانحے کو دوہرانے سے روکا جا سکے۔

پمز ہسپتال سانحہ: متاثرہ والدین کے سنگین الزامات، عملہ غائب تھا، 9 بچوں کی میتیں حوالے کر دی گئیں

منصور احمد, August 26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے آتشزدگی کے سانحے کے بعد متاثرہ والدین نے ہسپتال انتظامیہ اور طبی عملے پر مجرمانہ غفلت اور عدم موجودگی کے شدید اور سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔ میڈیا اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آتشزدگی سے متاثرہ ایک خاتون نے رقت انگیز انداز میں بتایا کہ جس وقت نرسری اور وارڈ میں آگ لگی اور دھواں پھیلا، اس وقت ہسپتال کا عملہ بالکل غائب تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ واقعے کے وقت صرف وہ اور چند دیگر بچوں کے والدین ہی وہاں موجود تھے جبکہ موقع پر نہ تو کوئی گائنی ڈاکٹر موجود تھی اور نہ ہی نرسنگ سٹاف کا کوئی اہلکار بچوں کی مدد کے لیے وہاں موجود تھا، جس کی وجہ سے نومولود بچوں کو بروقت باہر نکالنا ممکن نہ ہو سکا۔

دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ کے تازہ ترین بیان کے مطابق، جاں بحق ہونے والے 14 بچوں میں سے نو نومولود بچوں کی لاشیں ابتدائی کارروائی کے بعد ان کے لواحقین اور غمزدہ خاندانوں کے حوالے کر دی گئی ہیں، جبکہ باقی بچوں کی شناخت کو یقینی بنانے کے لیے لاشوں اور والدین کا ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کروایا جا رہا ہے۔ ہسپتال کے باوثوق ذرائع نے واقعے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ نرسری میں اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی اموات کی بنیادی وجہ محض آگ سے جھلسنا نہیں بلکہ شارٹ سرکٹ کے بعد ایئر کنڈیشنر اور آکسیجن پائپ لائن کے باعث وارڈ میں تیزی سے زہریلا دھواں بھر جانا تھا، جس سے نوزائیدہ بچوں کا دم گھٹ گیا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ انتظامیہ کے مطابق واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی والدین کے الزامات کو بھی انکوائری کا حصہ بنا رہی ہے اور غفلت برتنے والے عملے کا تعین کر کے ان کے خلاف قانونی اور محکماتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

نوجوانوں کے عالمی دن پر وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام: باصلاحیت یوتھ قوم کا انمول سرمایہ، بااختیار بنانا ترجیح ہے

منصور احمد, August 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے “نوجوانوں کے عالمی دن” کے بین الاقوامی موقع پر پوری قوم اور خاص طور پر ملک کے کروڑوں باصلاحیت نوجوانوں کے نام ایک نہایت اہم، فکر انگیز اور مفصل پیغام جاری کیا ہے۔ اپنے پیغام میں وزیراعظم نے واضح اور قطعیت کے ساتھ اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کے تمام تر دستیاب قومی وسائل کو نوجوانوں کی بہترین ذہنی، جسمانی، فکری اور علمی نشوونما کے لیے وقف کرنا موجودہ حکومت کی پالیسی کا مرکزی نقطہ اور سب سے اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کی پائیدار ترقی اور تابناک مستقبل کا راز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو درست سمت فراہم کرنے میں پنہاں ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری ہونے والے اس خصوصی اور تفصیل سے بھرپور پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان آج دنیا کے تمام دیگر اقوام کے ساتھ ہم آواز ہو کر اپنے نوجوانوں کو ان کی بے پناہ قدرتی صلاحیتوں، پرجوش توانائی، مثبت جذبے اور ان داتا خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک یا معاشرے کی حقیقی ترقی کا دارومدار وہاں کی یوتھ کی تعلیمی اور اخلاقی تربیت پر ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سال نوجوانوں کا عالمی دن جس عنوان سے منایا جا رہا ہے، یعنی “مختلف حالات، مشترکہ امنگیں”، وہ ایک بہت بڑی سچائی کا مظہر ہے۔ یہ موضوع دنیا بھر کی یہ حقیقت کھول کر سامنے لاتا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے نوجوانوں کے سیاسی، معاشی، جغرافیائی اور سماجی حالات بے شک ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور گوناگوں ہو سکتے ہیں، لیکن ایک محفوظ، پرامن، خوشحال اور تابناک مستقبل کی خواب اور خواہشات سبھی کی یکساں ہیں۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں انتہائی گرمجوشی کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی مجموعی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ہماری قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کا ایک انمول تحفہ اور عظیم ترین سرمایہ ہیں۔ ہمارے یہی نوجوان آئندہ کل کے روشن اور پرامید پاکستان کے حقیقی معمار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیت، نئے خیالات، سچی لگن اور پرعزم محنت ہر شعبہ ہائے زندگی میں امید افزاء اور مثبت تبدیلیوں کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا کھل کر اظہار ہی ایک پائیدار، مضبوط اور خودکفیل پاکستان کی بنیاد قائم کر سکتا ہے۔ پاکستان کی نوجوان نسل نے تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، کھیل، فنون، اور سماجی خدمت جیسے متعدد شعبوں میں نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کا نام اور پرچم بلند کیا ہے، جبکہ مقامي سطح پر بھی ایک ذمہ دار اور فعال شہری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

حکومتی اصلاحات، پالیسیوں اور عملی اقدامات کی مفصل وضاحت کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان نوجوانوں کو جدید دور کے جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے عملی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ نوجوانوں کو معیاری اور اثر انگیز تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ مہارتوں، خود روزگار کے مواقع، کاروباری اور صنعتی ترقی، ڈیجیٹل جدت اور سماجی و قومی فیصلوں میں شمولیت کے ذریعے مضبوط سے مضبوط تر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایسے عملی راستے ہموار کیے ہیں تاکہ ہمارے ہونہار طلباء عالمی منڈیوں کے معیار پر پورا اتر سکیں اور اپنی فنی استعداد کو عالمی سطح پر منوا سکیں۔

تعلیمی اصلاحات اور یوتھ پروگرام کے عملی منصوبوں کی بابت گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہونہار طلبہ و طالبات کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیکنیکل ایجوکیشن اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید ترین شعبوں میں تربیتی راستے کھولنے کے لیے بلا سود قرضوں، لیپ ٹاپس کی تقسیم، اسکالرشپ پروگرامز، اور بامعاوضہ انٹرن شپ جیسے پروگرامز کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام” کے تحت ملک بھر کی نوجوان افرادی قوت کو جدید ترین اور معتبر ہنر سکھائے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے “نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن” کو ہنگامی بنیادوں پر مزید فعال، بااختیار اور متحرک کیا گیا ہے۔ یہ قومی ادارہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ سندات اور اندرونِ ملک انڈسٹری کی ضروریات کے مطابق نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی جدید ترین پیشہ ورانہ تربیت فراہم کر رہا ہے۔

اپنے پیغام کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے تمام نوجوانوں کو ایک جذباتی اور حوصلہ افزا خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ دیانتداری، سخت محنت، ذمہ داری اور جذبۂ حب الوطنی کے ساتھ اپنے سفر کو آگے بڑھاتے رہیں۔ نوجوانوں کی ترقی ہی میں پاکستان کا پائیدار اور درخشندہ مستقبل محفوظ ہے۔ انہوں نے تمام مکاتبِ فکر، تمام طبقات اور بالخصوص یوتھ پر زور دیا کہ آئیں سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم ایک جٹ ہو کر ملکی ترقی و خوشحالی میں اپنا تعمیری اور مثبت کردار ادا کریں گے تاکہ وطنِ عزیز پاکستان ہر نوجوان کے لیے روشن، محفوظ اور باوقار مستقبل کی حتمی ضمانت بن سکے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں “پودے لگاؤ، ملک سنوارو” مون سون شجرکاری مہم کا آغاز: کیمپس کو سرسبز بنانے اور مصنوعی جنگل کے قیام کے عزم کا اعادہ

روزینہ اسماعیل, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے سنگین چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کیمپس کو ماحول دوست بنانے کے لیے ”پودے لگاؤ، ملک سنوارو“ کے عنوان سے مون سون شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کوالٹی انہانسمنٹ سیل کی عمارت کے سامنے واقع مرکزی پارک میں ”کوریزیا“ کا پودا لگا کر اس مہم کا افتتاح کیا۔ افتتاح کے پروقار موقع پر یونیورسٹی کے تمام ڈینز، رجسٹرار، تمام پرنسپل افسران اور شعبہ ہارٹیکلچر کے حکام بھی موجود تھے۔ وائس چانسلر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ درخت لگانا صرف خوبصورتی کی سرگرمی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بقا اور صحت مند مستقبل کا ضامن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے شجرکاری کو ہر شہری کے لیے قومی فرض کا درجہ دینا ہوگا۔

پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے شعبہ ہارٹیکلچر کو ہدایت جاری کی کہ یونیورسٹی کیمپس کے اندر ایک مصنوعی جنگل کے قیام کے لیے تمام ضروری انتظامات کو فوری طور پر حتمی شکل دی جائے تاکہ کیمپس کو جدید اور پائیدار ماحولیاتی ماڈل میں ڈھالا جا سکے۔

شعبہ زرعی سائنس کے ہارٹیکلچر آفیسر وجیح الحسن نے مہم کی تفصیلات بتاتے ہوئے آگاہ کیا کہ پہلے مرحلے میں کیمپس کے اندر ستر خوبصورت پھول دار پودے لگائے جا رہے ہیں، جبکہ اس پوری مون سون مہم کے لیے کل دو سو پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی دوران پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد ارشد نے بتایا کہ اس مہم میں استعمال ہونے والے ستر فیصد پودے کسی باہر کی نرسری سے خریدنے کی بجائے یونیورسٹی میں پہلے سے موجود پودوں ہی سے تیار کیے گئے ہیں، جو کہ حکومتی و ادارے کے مالی وسائل کے انتہائی موثر اور پائیدار استعمال کا بہترین ثبوت ہے۔

تقریب کے اختتام پر تمام ڈینز اور سینئر افسران نے بھی پودے لگائے اور یونیورسٹی میں سبزہ زاروں کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس مہم کا بنیادی مقصد کیمپس کو خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ اساتذہ، طلبہ اور ملازمین میں ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری کی اہمیت کا شعور بیدار کرنا ہے۔

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا قومی اقلیتی دن کی تقریب سے خطاب: ملکی ترقی میں اقلیتوں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے

منصور احمد, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی اور تعمیر میں اقلیتی برادریوں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے، اور ہر شہری کو حقوق، تحفظ اور مساوی مواقع فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ‘قومی اقلیتی دن’ کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارلیمنٹرینز، اقلیتی کاکس کے ارکان اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے اعلیٰ حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

چیئرمین سینیٹ نے یاد دہانی کرائی کہ انہوں نے 2009ء میں بطور وزیراعظم 11 اگست کو ‘قومی اقلیتی دن’ قرار دیا تھا تاکہ اقلیتوں کے مساوی مقام اور خدمات کا سرکاری سطح پر اعتراف کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی دور میں اقلیتی امور کی وفاقی وزارت کا قیام، ملازمتوں میں 5 فیصد کوٹہ اور سینیٹ میں اقلیتی نمائندگی جیسے تاریخی اقدامات کیے گئے تھے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے تحریکِ پاکستان اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اقلیتی رہنماؤں کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے دیوان بہادر ایس پی سنگھا، جوگندر ناتھ منڈل، جسٹس اے آر کارنیلیس، جسٹس دوراب پٹیل، جسٹس رانا بھگوان داس اور ڈاکٹر رتھ فاؤ کی خدمات کا خصوصی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج، عدلیہ، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اقلیتی شخصیات کا باب قابلِ فخر ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ میثاقِ مدینہ بین المذاہب ہم آہنگی کی روشن مثال ہے، جبکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی ہمیشہ تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ تقریب کے اختتام پر چیئرمین سینیٹ نے سینیٹر دنیش کمار اور پارلیمانی اقلیتی کاکس کی کاوشوں کو سراہا۔

ججز تقرری کی سمری پر صدارتی منظوری کا تنازع: اسلام آباد ہائی کورٹ میں صدرِ مملکت کو منظوری کی ہدایت کے لیے آئینی درخواست دائر

منصور احمد, August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

مختلف ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری کی سمری پر صدرِ مملکت کی جانب سے تاحال منظوری نہ دینے کے معاملے پر قانونی و آئینی تنازع شدید تر ہو گیا ہے، جس کے بعد اس اہم معاملے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے صدر کو سمری فوری منظور کرنے کی ہدایت جاری کرنے کی استدعا کر دی گئی ہے۔

ایڈووکیٹ لقمان ظفر نے ایڈووکیٹ زاہد آصف چوہدری کی وساطت سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتِ عالیہ صدرِ مملکت کو بذریعہ سیکرٹری ہدایت جاری کرے کہ وہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کی جانب سے بھیجی گئی ججز کی تقرری سے متعلق سمری کو بلاتاخیر منظور کریں۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے رواں سال 20 اور 21 جولائی کو منعقدہ اپنے اجلاسوں میں ملک کی مختلف ہائی کورٹس کے لیے 19 ججز کی تقرری کی سفارشات کی منظوری دے کر سمری ایوانِ صدر ارسال کی تھی، تاہم کافی دن گزر جانے کے باوجود صدرِ مملکت کی جانب سے اس کی منظوری نہیں دی گئی۔

درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ ججوں کی تقرری کے آئینی عمل کو مکمل کرنا ریاست کے اہم ستونوں کی کارکردگی اور سائلین کو انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے، لہٰذا عدالت صدرِ مملکت کو آئین اور قانون کی روشنی میں فوری طور پر تقرری کی سمری پر صحافتی اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے احکامات صادر فرمائے۔

یومِ استحصالِ کشمیر, 5 اگست تاریخ کا سیاہ ترین دن، بھارت کشمیریوں کی شناخت کبھی نہیں مٹا سکتا، مشعال حسین ملک

محمود احمد, August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ اور چیئرپرسن پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019ء کے یک طرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی آڑ میں بھارت نے اپنے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی جغرافیائی اور آبادیاتی (ڈیموگرافک) حیثیت کو تبدیل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، مگر کشمیریوں کی منفرد شناخت، تاریخ اور ان کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو کسی طاقت سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے جاری کردہ خصوص پیغام میں مشعال حسین ملک نے کہا کہ 5 اگست کشمیریوں کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تہار اور دیگر بھارتی جیلوں میں محصور حریت قیادت بدترین مظالم برداشت کر رہی ہے، لیکن اس کے باوجود آزادی کی تحریک اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹی اور یہ جدوجہد اپنی منزل کے حصول تک مکمل تندہی سے جاری رہے گی۔

انہوں نے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ وادی کے غیور عوام کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق ان کا بنیادی اور پیدائشی حقِ خودارادیت دلانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ اور عالمی کردار ادا کریں۔

مشعال حسین ملک نے بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے غیر متزلزل عوام کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری تارکینِ وطن ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر ان کی مظلوم آواز بنتے رہیں گے۔ انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں قربانیوں کی بدولت لکھی گئی تحریکِ آزادی کو کوئی جابرانہ طاقت ختم نہیں کر سکتی اور مقبوضہ وادی کے عوام کے ساتھ پاکستان کا رشتہ لازوال ہے۔

یومِ استحصالِ کشمیر کے 7 سال: بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدامات متنازع حیثیت تبدیل کرنے کی سازش تھے، دفتر خارجہ

منصور احمد, August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

پاکستان نے بھارت کے 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے سات برس مکمل ہونے کے موقع پر دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ان تمام سیاہ اقدامات کا بنیادی مقصد بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کرنا اور خطے کی ڈیموگرافی کو مسخ کرنا تھا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے یومِ استحصال کے موقع پر جاری کردہ باضابطہ بیان میں اس عزم کا بھرپور اعادہ کیا گیا ہے کہ پاکستان جموں و کشمیر کے غیور عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جاری ان کی منصفانہ اور تاریخی جدوجہد کی ہر سطح پر بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ بیان میں مقبوضہ وادی کے عوام کی غیر معمولی جرات، استقامت، ثابت قدمی اور طویل ریاستی جبر کے خلاف غیر متزلزل عزم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید واضح کیا کہ پاکستان، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے عین مطابق کشمیری عوام کے پیدائشی حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا، اور جب تک کشمیریوں کو ان کا جائز حق نہیں مل جاتا، پاکستان عالمی فورمز پر ان کا مؤثر اور توانا ترجمان بنا رہے گا۔

5 اگست 2019ء: کشمیری شناخت اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا سیاہ ترین باب، یومِ استحصالِ کشمیر پر خصوصی رپورٹ

کاشف عباسی , August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

پانچ اگست 2019ء کا دن بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی تاریخ میں کشمیری شناخت، حقِ خودارادیت اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کا ایک انتہائی سیاہ باب ہے۔ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019ء کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو یکطرفہ طور پر منسوخ کر کے مقبوضہ علاقے کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کیا گیا، جس کے خلاف ہر سال 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ عالمی برادری کی توجہ کشمیریوں کے قومی تشخص اور ان پر جاری بھارتی مظالم کی جانب مبذول کروائی جا سکے۔

یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر جاری کی گئی ایک خصوصی دستاویزی فلم میں 77 سال سے جاری بھارتی بربریت، ریاستی جبر اور کشمیری عوام کے مصائب کو تفصیل کے ساتھ عکاس کیا گیا ہے۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی جانب سے اب تک اغوا کیے گئے 7,151 افراد میں سے 4,190 کشمیری تاحال لاپتہ ہیں، جبکہ 2025ء کے پہلے آٹھ مہینوں کے دوران بھارتی فوج کی غیر قانونی حراست میں 113 اور عدالتی حراست کے دوران 1,535 کشمیریوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا۔

عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ علاقے کی معیشت اور انسانی صورتحال انتہائی دباؤ کا شکار ہے۔ جموں و کشمیر چیمبر آف کامرس کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ طویل کرفیو اور مواصلاتی بندش کے باعث صرف سیاحت کے شعبے سے وابستہ 44,500 کشمیری بیروزگار ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں، برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی شائع کردہ رپورٹس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2 ہزار سے زائد اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں، جہاں 10 لاکھ سے زائد قابض بھارتی فوج کو خصوصی اور استثنائی اختیارات حاصل ہیں جن کے تحت وہ کسی بھی قانونی جواب دہی سے مبرا ہیں۔

خصوصی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کوئی سادہ علاقائی تنازع نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے حقِ خودارادیت کا تسلیم شدہ مسئلہ ہے۔ شدید ترین بھارتی سیکیورٹی پابندیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے باوجود کشمیری عوام اپنے بنیادی حقوق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ حکومتِ پاکستان اور پاکستانی قوم ہر سال 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر منا کر 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی بھارتی اقدامات کی شدید مذمت کرتی ہے اور کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ اپنے مکمل عزم اور یکجہتی کا اعادہ کرتی ہے۔

5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اقدامات سے کشمیریوں کی شناخت اور حقوق کا مسئلہ مزید نمایاں ہوا؛ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا

منصور احمد, August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019ء کے بھارتی یکطرفہ اقدامات نے نہ صرف خطے کی صورتحال کو ایک نئے اور حساس مرحلے میں داخل کیا بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق، منفرد شناخت اور مستقبل سے متعلق اہم قانونی و انسانی پہلوؤں کو عالمی سطح پر مزید نمایاں کر دیا ہے۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان اور پوری پاکستانی قوم کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے غیور عوام کے ساتھ مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آج کا دن پوری دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کئی دہائیوں سے بے پناہ مشکلات، شدید غیر یقینی صورتحال اور اپنے بنیادی انسانی حقوق سے متعلق سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیریوں کی امن، انصاف اور اپنے جائز حقوق کے حصول کی مسلسل خواہشات عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہیں۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کی حیثیت سے انہوں نے اپنے پختہ یقین کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق آفاقی، ناقابلِ تقسیم اور ہر انسان کا بنیادی حق ہیں، اور دنیا کے ہر فرد کو بلاامتیاز عزت، مساوات، آزادی اور قانون کے مساوی تحفظ کے ساتھ زندگی گزارنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اپنے اس اصولی اور قانونی مؤقف پر قائم ہے کہ جموں و کشمیر کے مسئلے کا دائمی، منصفانہ اور پائیدار حل صرف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔ سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام مناسب بین الاقوامی فورمز پر اپنا مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یومِ استحصالِ کشمیر پر ہم انصاف، انسانی وقار، امن اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنے عزم کی تجدید کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ وہ دن جلد آئے جب جموں و کشمیر کے عوام مکمل امن، آزادی اور وقار کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر سکیں۔

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی انتخابات: وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کی زیرِ صدارت مسلم لیگ (ن) پونچھ ڈویژن کا اہم اجلاس

کاشف عباسی , August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام کی زیرِ صدارت آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں ن لیگ کی انتخابی مہم کے پونچھ ڈویژن کے کوآرڈینیٹرز کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں انتخابی مہم کی مجموعی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ مرحلے کی منظم حکمتِ عملی کو حتمی شکل دی گئی۔

پارٹی کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق اجلاس میں پونچھ ڈویژن کے ریجنل کوآرڈینیٹر و وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، رکن قومی اسمبلی بابر نواز، نورالحسن تنویر، امیدوار ایل اے-14 فیصل آزاد، سہیل خان، نمائندہ امیدوار ایل اے-15 مشتاق منہاس، ایل اے 16 کے امیدوار میر اکبر کے نمائندے سردار طارق محمود، ایل اے 17 حویلی محسن عزیز، بھائی بلال، ایل اے 18 عباس پور راجہ شیر افگن، ایل اے 20 راولاکوٹ حاجی رشید، ایل اے 22 پاچھیوٹ کے امیدوار عبدالخالق سرمد، نمائندہ یعقوب سرور، نمائندہ یحییٰ پور، امیدوار نجیب نقی، نو منتخب رکن آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی انجینئر عمیر نعیم ایڈووکیٹ اور نو منتخب رکن اسمبلی چوہدری عبدالرزاق سمیت دیگر اہم عہدیداران اور نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران انتخابی مہم کی اب تک کی پیش رفت، عوامی رابطہ سرگرمیوں، جلسے جلوسوں، مختلف انتخابی پروگراموں اور آئندہ مرحلے کے لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اس موقع پر انتخابی مہم کو مزید موثر، مربوط اور منظم بنانے کے لیے مختلف پروگراموں، عوامی اجتماعات اور تنظیمی سرگرمیوں کا شیڈول حتمی شکل میں طے کیا گیا۔

وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے میرپور ڈویژن اور مظفرآباد ڈویژن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی شاندار انتخابی کامیابی پر تمام کوآرڈینیٹرز، تنظیمی عہدیداران اور جیالے کارکنان کو زبردست مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی انتھک محنت، نظم و ضبط اور بھرپور عوامی رابطہ مہم کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ میرپور اور مظفرآباد ڈویژنز میں پارٹی کی شاندار کامیابی کارکنوں کے جذبے، مضبوط تنظیمی ڈھانچے، موثر حکمت عملی اور کوآرڈینیٹرز کی مسلسل کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے اس کامل اعتماد کا اظہار کیا کہ میرپور اور مظفرآباد کی طرح پونچھ ڈویژن میں بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم بھرپور انداز میں کامیابی سے آگے بڑھے گی اور عوام کے تعاون سے پارٹی شاندار کامیابی حاصل کرے گی۔ وفاقی وزیر نے کوآرڈینیٹرز کو ہدایت کی کہ باہمی رابطے، تنظیمی ہم آہنگی اور ڈور ٹو ڈور عوامی رابطہ مہم کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ پارٹی کے منشور اور پیغام کو ہر ووٹر تک پہنچایا جا سکے۔ اجلاس کا اختتام تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے انتخابی کامیابی یقینی بنانے کے عزم کے ساتھ ہوا۔

جام کمال خان کا بلوچستان میں ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم پر زور: منصوبہ بندی سیاسی ترجیحات کے بجائے ضرورت اور محرومی کی بنیاد پر ہونی چاہیے

محمود احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کے تمام اضلاع میں ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، اور صوبے میں ترقیاتی منصوبہ بندی سیاسی ترجیحات یا پسند ناپسند کی بجائے حقیقی ضرورت، آبادی، معاشی شراکت اور محرومی کی سطح کی بنیاد پر کی جانی چاہیے۔

منگل کے روز یہاں جاری ہونے والے ایک اہم بیان میں وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت مختص اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے صوبے کے تمام اضلاع میں متوازن انداز میں تقسیم ہونے چاہئیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ صوبے کے بعض علاقوں میں منتخب عوامی نمائندوں کی جانب سے تجویز کردہ عوامی فلاحی سکیموں کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے، جنہیں فوری طور پر ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جانا چاہیے۔

جام کمال خان نے کہا کہ پائیدار اور متوازن ترقی کے حصول کے لیے ایک شفاف اور مناسب منصوبہ بندی انتہائی ناگزیر ہے تاکہ بلوچستان کے ہر چھوٹے بڑے ضلع کو معاشی اور سماجی ترقی کے یکساں مواقع میسر آسکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وسائل کی تقسیم میں پائی جانے والی عدم مساوات ہمیشہ سے صوبے کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کا وزیراعلیٰ پورے صوبے اور اتحادی حکومت کا نمائندہ ہوتا ہے، اس لیے ان کی یہ بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام اضلاع اور علاقوں کے ساتھ مکمل طور پر متوازن اور غیر جانبدارانہ سلوک روا رکھا جائے۔

یومِ استحصالِ کشمیر: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل حمایت کا اعادہ

کاشف عباسی , August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے غیور عوام کے ساتھ پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کے غیر متزلزل، اصولی اور تاریخی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 5 اگست 2019ء کو بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی صریح خلاف ورزی تھے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر جاری کردہ اپنے خصوصی پیغام میں چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر بھارتی تسلط میں محصور کشمیری عوام کی مسلسل قربانیوں، مصائب اور ثابت قدمی کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن عالمی برادری کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑتا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں ڈھائے جانے والے سنگین بھارتی مظالم کا فوری نوٹس لے اور انصاف کے قیام اور خطے میں پائیدار امن کے لیے اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کرے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے نشاندہی کی کہ 5 اگست 2019ء کے بعد سے بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے، اس کی منفرد شناخت کو مسخ کرنے، حقیقی سیاسی قیادت کو دبانے، بنیادی آزادیوں کو سلب کرنے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جبر، ریاستی تشدد اور ظلم کا کوئی بھی ہتھکنڈا کشمیری عوام کی آزادی، وقار اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے حصول کی جائز خواہش کو ہرگز ختم نہیں کر سکتا۔

چیئرمین سینیٹ نے اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا پائیدار اور منصفانہ حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی ممکن ہے تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہی منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں دیرپا امن، سلامتی اور خوشحالی کی اصل ضمانت ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے اقوام متحدہ، عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بااثر عالمی اداروں سے زوردار مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں جاری مظالم کا فوری نوٹس لیں اور بھارت کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کا پابند بنانے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اردن کے دورے پر روانہ، القدس سے متعلق اہم وزارتی اجلاس میں شرکت کریں گے

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اردن کے نائب وزیراعظم اور وزیر برائے امورِ تارکینِ وطن ایمن الصفدی کی خصوصی دعوت پر آج رات اردن کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ 5 اگست کو یروشلم (القدس) سے متعلق منعقد ہونے والے اہم وزارتی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں عرب لیگ کے رکن ممالک اور پاکستان سمیت مختلف اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کر رہے ہیں۔ اس ہنگامی وزارتی اجلاس کا بنیادی مقصد مقبوضہ یروشلم کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال، اسرائیلی مظالم اور درپیش چیلنجز پر امتِ مسلمہ کا ایک مشترکہ، مضبوط اور متفقہ مؤقف مرتب کرنا ہے۔

دورے کے دوران اجلاس میں شریک تمام وزرائے خارجہ اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم بن الحسین سے بھی مشترکہ ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار مختلف برادر اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں فلسطین کی تازہ ترین صورتحال، مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والے بحران اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ یروشلم سے متعلق اس وزارتی اجلاس میں پاکستان کی شرکت مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی تاریخی و اصولی حمایت کا آئنہ دار ہے۔ پاکستان 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے اپنے غیر متزلزل عزم پر قائم ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

سانحہ ساہیوال مقدمہ: سپریم کورٹ نے درخواست گزار کے وکیل کو مزید تیاری اور دستاویزات پیش کرنے کی مہلت دے دی

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ساہیوال میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کی جانب سے ایک ہی خاندان کے افراد کو قتل کیے جانے کے المناک واقعے سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ کو مزید تیاری اور متعلقہ ضروری دستاویزات جمع کرانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں قائم بینچ نے منگل کے روز اس اہم مقدمے کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل ذوالفقار بھٹہ نے موقف اختیار کیا کہ ساہیوال میں سی ٹی ڈی اہلکاروں نے مبینہ طور پر ایک بے گناہ خاندان کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا اور خاندان میں شامل معصوم بچوں کی لاشیں بھی جنگل میں پھینک دی گئی تھیں۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے تمام ملزمان کو بری کیے جانے کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل اس وقت زیرِ سماعت ہے۔

وکیل نے عدالتِ عظمیٰ کو بتایا کہ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں فریق بننے اور استغاثہ کی قانونی معاونت کے لیے باقاعدہ درخواست دائر کی تھی، تاہم ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے اس پر اعتراضات عائد کیے اور بعد ازاں ہائی کورٹ نے بھی ان اعتراضات کو برقرار رکھا۔

سماعت کے دوران بینچ کے رکن جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ کیا اس وقت مقتولین کے ورثا میں سے بھی کوئی فرد عدالت میں موجود ہے؟ اس پر وکیل ذوالفقار بھٹہ نے جواب دیا کہ پنجاب کے موجودہ حالات میں متاثرہ خاندان کے لیے کھلے عام سامنے آنا انتہائی مشکل ہے کیونکہ وہاں لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں بھی پھنسا دیا جاتا ہے۔ اس پر وکیل حسن رضا پاشا نے اعتراض اٹھایا کہ درخواست گزار کے وکیل نے پنجاب کے تمام وکلا کے خلاف بات کی ہے، جس پر ذوالفقار بھٹہ نے فوری وضاحت کی کہ انہوں نے وکلا کے خلاف کوئی بات نہیں کی بلکہ محض صوبہ پنجاب کے مجموعی حالات کا ذکر کیا تھا۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے آئینی پہلو پر سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد کیا سپریم کورٹ کے پاس براہِ راست ایسا اختیار موجود ہے؟ جس پر وکیل ذوالفقار بھٹہ نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ آئین پاکستان کے آرٹیکل 187 کے تحت مکمل انصاف کی فراہمی کے لیے فیصلہ دے سکتی ہے۔

دورانِ کارروائی سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں اس معاملے میں کسی قسم کی معاونت درکار نہیں۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کا موقف ہے کہ اس سنگین معاملے پر ان کے علاوہ آواز اٹھانے والا کوئی دوسرا موجود نہیں۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ کی استدعا منظور کرتے ہوئے انہیں کیس کی مزید مکمل تیاری اور تمام ضروری دستاویزات ریکارڈ پر لانے کی مہلت فراہم کی اور کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

سابق اہلیہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کا کیس: سپریم کورٹ کا شدید برہم کا اظہار، ملزم صفدر عرفان کی ضمانت کی درخواست واپس

کاشف عباسی , August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق اہلیہ کی نجی اور غیر اخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے سنگین الزام میں گرفتار ملزم صفدر عرفان کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایسے انتہائی غیر اخلاقی اور قبیح فعل میں ملوث ملزم کو کسی صورت ضمانت نہیں دی جا سکتی، جس کے بعد عدالت کے سخت رویے کو دیکھتے ہوئے ملزم کے وکیل نے درخواستِ ضمانت باضابطہ طور پر واپس لے لی۔

سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے منگل کے روز اس درخواست کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت مقدمے کی تفصیلات کا جائزہ لیتے ہوئے جسٹس ہاشم کاکڑ نے انتہائی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ “کیا اس ایف آئی آر کے مندرجات کو عام لوگوں میں پڑھنے کی بھی ہمت ہے؟” انہوں نے شدید الفاظ میں کہا کہ ملزم نے اس مذموم حرکت سے متاثرہ خاتون کو ملک میں سر اٹھا کر رہنے کے قابل نہیں چھوڑا، جبکہ ایک خاتون کی شائستگی، حیا اور عزت ہی اس کا اصل پردہ ہوتی ہے۔ فاضل جج نے مزید کہا کہ ملزم نے شادی کے ایک مقدس اور پاکیزہ رشتے کو برے طریقے سے پامال کیا ہے۔

سماعت کے دوران بينچ کے رکن جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ ملزم نے کسی اور کی نہیں بلکہ اپنی ہی سابقہ اہلیہ کی تصاویر کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا۔ بینچ کے تیسرے فاضل جج جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ملزم نے انتہائی غیر اخلاقی کارروائی کی ہے اور طلاق کا بدلہ لینے کی خاطر اپنی سابقہ بیوی کے خلاف یہ تمام مکروہ اقدام کیا۔

دورانِ کارروائی ملزم کے وکیل نے صفائی میں مؤقف اختیار کیا کہ متاثرہ خاتون اس وقت دبئی میں مقیم ہیں جبکہ ان کا موکل (ملزم صفدر عرفان) گزشتہ چھ ماہ سے جیل میں قید ہے۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو تو اس کے کرتوتوں کی بنیاد پر ساری زندگی جیل کے اندر ہی رہنا چاہیے، اس نے آخر کون سا اچھا یا قابلِ رحم کام کیا ہے؟

عدالتِ عظمیٰ نے واضح قرار دیا کہ ملزم کے قبضے سے وہ موبائل فون بھی برآمد ہو چکا ہے جس کے ذریعے یہ غیر اخلاقی مواد شیئر کیا گیا، لہٰذا اس نوعیت کے ملزم کو کسی بھی طور پر ضمانت پر رہا نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کے بینچ کی جانب سے درخواستِ ضمانت قطعی طور پر مسترد کیے جانے کے واضح اور حتمی عندیے پر ملزم کے وکیل نے فوراً درخواست واپس لینے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے کارروائی کو باضابطہ طور پر نمٹا دیا۔

براڈ پیک کا المناک حادثہ: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا معروف کوہ پیما نرمل پورجا اور سہیل ساقی سمیت 10 افراد کے جاں بحق ہونے پر افسوس

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے گلگت بلتستان میں واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ‘براڈ پیک’ کو سر کرنے کی مہم کے دوران برفانی تودہ گرنے کے افسوسناک اور المناک حادثے میں نیپال سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما نرمل پورجا سمیت 10 کوہ پیماؤں کے جانی نقصان پر گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

منگل کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے ایک باضابطہ اور اہم تعزیتی بیان میں نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے تمام سوگوار خاندانوں کے ساتھ ساتھ چین، نیپال، عمان، برطانیہ اور امریکہ کی حکومتوں اور وہاں کے عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

نائب وزیراعظم نے پاکستان کے بہادر کوہ پیما ہنزہ سے تعلق رکھنے والے سہیل ساقی کے انتقال پر بھی گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے بہادر فرزند سہیل ساقی کی رحلت پر سوگوار ہیں، جن کی جرات، غیر متزلزل عزم اور سر فلک پہاڑوں سے لازوال محبت کو پاکستان ہمیشہ فخر کے ساتھ یاد رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس المناک حادثے کا شکار ہونے والے تمام 10 کوہ پیماؤں نے اپنے عزم، ہمت اور اعلیٰ کارکردگی کے حصول کی لگن سے عالمی کوہ پیمائی کے حقیقی جذبے کی عکاسی کی، جو آنے والی نسلوں اور کوہ پیماؤں کے لیے ہمیشہ باعثِ تحسین اور مشعلِ راہ رہے گی۔

سینیٹر اسحاق ڈار نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ میں اپنے ریسکیو عملے کی انتھک اور بے مثال کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جنہوں نے انتہائی دشوار گزار اور خطرناک کٹھن حالات میں اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور غیر معمولی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان متعلقہ تمام ممالک کے سفارت خانوں کے ساتھ مسلسل اور قریبی رابطے میں ہے اور جاری تلاش و ریسکیو کارروائیوں کی کامیابی کے لیے ہر ممکن تعاون کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مرحومین کے تمام پسماندگان اور سوگواروں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے صبرِ جمیل کی دعا کی۔