ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ‘اسکول آف نرسنگ’ کا افتتاح: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی عالمی معیار کی سہولیات کی فراہمی پر انتظامیہ کو مبارکباد

Spread the love

روزینہ اسماعیل, JULY 31,2026

ملتان (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں عالمی معیار کی سہولیات، جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق پر مبنی بہترین تعلیمی ماحول انتہائی قابلِ تحسین ہے، ایسے ہی معیاری ادارے ملک میں مایوسی کے خاتمے اور نوجوان نسل میں امید کی نئی کرن پیدا کرنے کا بنیادی ذریعہ بنتے ہیں۔

یہ بات انہوں نے ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ‘اسکول آف نرسنگ اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز’ کی پروقار افتتاحی تقریب سے بحیثیتِ مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر صحت نے یونیورسٹی انتظامیہ کو جدید شعبے کا کامیاب آغاز کرنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اپنے منصب کی بدولت انہیں ملک بھر سے روزانہ مختلف معلومات موصول ہوتی رہتی ہیں، مگر جب کبھی ملک میں مایوسی کا تاثر ابھرے تو اس یونیورسٹی جیسے اداروں کا رخ کرنا چاہیے جہاں مثبت سوچ، محنت اور روشن مستقبل کا وژن صاف نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کا ایسا شاندار انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کے لیے غیر معمولی جنون اور نیت کی سچائی درکار ہوتی ہے۔

سید مصطفیٰ کمال نے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہیلتھ کیئر کا حقیقی مقصد صرف ہسپتالوں کی عمارتیں بنانا نہیں بلکہ انسانوں کو بیمار ہونے سے بچانا اور پیشگی علاج یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے ملک میں صحت کی تشویشناک صورتحال پر اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 6.7 ملین (67 لاکھ) بچوں کی پیدائش ہوتی ہے، جبکہ زچگی اور دورانِ حمل کی پیچیدگیوں کے باعث سالانہ تقریباً 11 ہزار خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہیں، اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات بھی ہمارے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ ان کا محکمہ ایسی حکمتِ عملی پر کاربند ہے جس سے بیماریوں کی بروقت تشخیص اور بہتر طبی سہولیات عام شہری تک پہنچ سکیں۔

وفاقی وزیر صحت نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ یہاں سے محض کاغذی ڈگری لے کر نہ نکلیں بلکہ اپنے شعبے کے باصلاحیت اور ماہر پروفیشنل بن کر ملک کی خدمت کریں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دیگر متعلقہ حکام اور اعلیٰ شخصیات کو بھی ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے دورے کی ترغیب دیں گے تاکہ ملک بھر کی دیگر جامعات بھی اس ماڈل کو اپناتے ہوئے اپنے تعلیمی اور طبی معیار کو بلند کر سکیں۔