پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کا سانحہ: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ذمہ داری قبول کر لی، پارلیمنٹ میں بڑا اعلان

کاشف عباسی , August 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت، خدمات، ضوابط و رابطہ سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال اسلام آباد میں نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے دلخراش واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمان کے سامنے پوری ذمہ داری قبول کی ہے۔ جمعہ کے روز ایوان بالا (سینیٹ) کے اجلاس میں اس دردناک سانحے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ اس سے زیادہ اندوہناک واقعہ نہیں ہو سکتا، معصوم بچے اپنی جانوں سے چلے گئے اور اس پر کوئی بھی تسلی بخش وضاحت پیش نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے واضح اور سخت الفاظ میں اعلان کیا کہ اس معاملے پر کسی بھی شخص کو بچایا نہیں جائے گا، نہ ہی کوئی رپورٹ چھپائی جائے گی؛ جو بھی ذمہ دار ہوگا، “ایک آدمی بھی سپیئر (معاف) نہیں ہوگا”۔

مصطفیٰ کمال نے ایوان کو بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس کی ابتدائی رپورٹ 24 گھنٹوں میں متوقع ہے۔ انہوں نے کمیٹی کی مدت 40 دن سے آگے تک کھلی رکھنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس تحقیقات کو محض چند دنوں کی رسمی کارروائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ جب تک تمام ادارے اور ماہرین آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے قابلِ عمل لائحہ عمل پر متفق نہ ہوں، کام جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ صحت کے پاس گزشتہ 14 ماہ کا مکمل ریکارڈ اور معلومات موجود ہیں جو تحقیقاتی کمیٹی کو فراہم کی جائیں گی اور تمام متعلقہ افسران و عملے کو کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ تمام حقائق قوم کے سامنے آ سکیں۔

وفاقی وزیر نے پمز کے اس سانحے کو ہیلتھ کیئر سسٹم میں موجود سنگین خامیوں کی نشاندہی کا ایک اہم موقع قرار دیا۔ انہوں نے افسوسناک اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال پانچ سال تک کی عمر کے تقریباً چار لاکھ بچے اور ہزاروں مائیں زچگی کے دوران ایسے اسباب سے جاں بحق ہو جاتی ہیں جن کی جانیں بروقت اور بہتر علاج سے بچائی جا سکتی ہیں۔ سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف پمز کے موجودہ واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کر کے سزا دینا نہیں، بلکہ صحت کے پورے نظام میں بنیادی اور پائیدار اصلاحات لانا ہے تاکہ آئندہ کسی بھی بچے یا ماں کی جان محض انتظامی غفلت یا نظام کی کمزوری کی وجہ سے ضائع نہ ہو۔

طبی آپریشنز سے قبل ایچ آئی وی سکریننگ لازمی قرار: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس

روزینہ اسماعیل, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت وزارتِ صحت میں ایچ آئی وی/ایڈز سے متعلق جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں ایچ آئی وی کی مجموعی صورتحال، انسدادِ ایچ آئی وی پروگرام پر عملدرآمد، ڈیجیٹل ڈیٹا مینجمنٹ اور صوبائی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ہدایت جاری کی کہ ملک بھر میں ہر بڑے یا معمولی آپریشن اور جلد کو چیرنے یا چھیدنے والے تمام طبی طریقہ کار سے قبل ایچ آئی وی سکریننگ کو لازمی طور پر یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ، پنجاب اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں جراحی کے عمل سے قبل ایچ آئی وی سکریننگ پہلے ہی جاری ہے، جبکہ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے متعلقہ حکام کو بھی اس کے نفاذ کے لیے فوری نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔

وزیرِ صحت نے تاکید کی کہ ایچ آئی وی سے متأثرہ بچوں کی دیکھ بھال صرف طبی علاج تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے لیے غذائی، نفسیاتی اور فلاحی معاونت کو بھی یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری وزارتِ صحت میجر جنرل (ر) اظہر محمود کیانی نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی کہ صوبے کے ایچ آئی وی ڈیٹا کو قومی ایچ آئی وی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ساتھ جلد از جلد منسلک کیا جائے تاکہ ملک گیر سطح پر مربوط نگرانی ممکن ہو سکے۔

اجلاس میں ڈبلیو ایچ او ، یونیسف، یو این ڈی پی، یو این ایڈز ، گلوبل فنڈ کے نمائندگان اور تمام صوبوں و علاقوں کے سیکرٹریز صحت نے شرکت کی۔

ملک بھر میں ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ تیز، وزارتِ صحت کے ملازمین اور 12 سال سے زائد عمر کے شہریوں کے لیے ٹیسٹ لازمی قرار

روزینہ اسماعیل, August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے میڈیا بریفنگ کے دوران اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں ہیپاٹائٹس سی کی سکریننگ کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے اور 12 سال سے زائد عمر کے تمام افراد اور وزارتِ صحت کے تمام ملازمین کے لیے یہ ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے میڈیا بریفنگ کے دوران خود بھی اپنا ہیپاٹائٹس سی ٹیسٹ کروایا جس کی رپورٹ منفی آئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیسٹ نہ کروانے والے سرکاری ملازمین کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی جبکہ تمام وفاقی وزارتوں کو بھی مراسلے جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ وزراء سمیت تمام ملازمین کی سکریننگ یقینی بنائی جا سکے۔

وفاقی وزیرِ صحت نے بتایا کہ اسلام آباد میں سکریننگ کے لیے 17 پوائنٹس قائم کر دیے گئے ہیں اور نجی ہسپتالوں کو بھی سکریننگ کٹس اور ضروری آلات فراہم کیے جائیں گے۔ پاکستان میں اس وقت تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی سے متاثر ہیں اور بروقت تشخیص نہ ہونے پر یہ بیماری جگر کے کینسر کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کے پروگرام کے تحت ہیپاٹائٹس سی کے علاج کی تمام ادویات مفت فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہو کر آنے والے افراد، گلگت بلتستان کے رہائشیوں اور آئندہ تین ماہ تک تمام پروازوں سے آنے والے مسافروں کو بھی اس سکریننگ کے عمل سے گزارنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کے مطابق سکریننگ کا پورا ڈیٹا تیار کرنے کے لیے نظام کو نادرا اور مردم شماری کے سافٹ ویئر سے منسلک کیا جا رہا ہے، جبکہ شناختی کارڈ کے ریکارڈ سے سکریننگ کو جوڑنے اور بیرونِ ملک سفر سے قبل اسے لازمی قرار دینے کی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں۔ پنجاب سے ڈیٹا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پنجاب سے ابھی مکمل اعداد و شمار موصول نہیں ہوئے اور وہ اس سلسلے میں خود وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کریں گے۔ وفاقی وزیر نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس مفت سکریننگ کی سہولت سے فائدہ اٹھائیں اور اپنا ٹیسٹ لازمی کروائیں۔

ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ‘اسکول آف نرسنگ’ کا افتتاح: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی عالمی معیار کی سہولیات کی فراہمی پر انتظامیہ کو مبارکباد

روزینہ اسماعیل, JULY 31,2026

ملتان (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں عالمی معیار کی سہولیات، جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق پر مبنی بہترین تعلیمی ماحول انتہائی قابلِ تحسین ہے، ایسے ہی معیاری ادارے ملک میں مایوسی کے خاتمے اور نوجوان نسل میں امید کی نئی کرن پیدا کرنے کا بنیادی ذریعہ بنتے ہیں۔

یہ بات انہوں نے ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ‘اسکول آف نرسنگ اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز’ کی پروقار افتتاحی تقریب سے بحیثیتِ مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر صحت نے یونیورسٹی انتظامیہ کو جدید شعبے کا کامیاب آغاز کرنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اپنے منصب کی بدولت انہیں ملک بھر سے روزانہ مختلف معلومات موصول ہوتی رہتی ہیں، مگر جب کبھی ملک میں مایوسی کا تاثر ابھرے تو اس یونیورسٹی جیسے اداروں کا رخ کرنا چاہیے جہاں مثبت سوچ، محنت اور روشن مستقبل کا وژن صاف نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کا ایسا شاندار انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کے لیے غیر معمولی جنون اور نیت کی سچائی درکار ہوتی ہے۔

سید مصطفیٰ کمال نے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہیلتھ کیئر کا حقیقی مقصد صرف ہسپتالوں کی عمارتیں بنانا نہیں بلکہ انسانوں کو بیمار ہونے سے بچانا اور پیشگی علاج یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے ملک میں صحت کی تشویشناک صورتحال پر اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 6.7 ملین (67 لاکھ) بچوں کی پیدائش ہوتی ہے، جبکہ زچگی اور دورانِ حمل کی پیچیدگیوں کے باعث سالانہ تقریباً 11 ہزار خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہیں، اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات بھی ہمارے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ ان کا محکمہ ایسی حکمتِ عملی پر کاربند ہے جس سے بیماریوں کی بروقت تشخیص اور بہتر طبی سہولیات عام شہری تک پہنچ سکیں۔

وفاقی وزیر صحت نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ یہاں سے محض کاغذی ڈگری لے کر نہ نکلیں بلکہ اپنے شعبے کے باصلاحیت اور ماہر پروفیشنل بن کر ملک کی خدمت کریں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دیگر متعلقہ حکام اور اعلیٰ شخصیات کو بھی ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے دورے کی ترغیب دیں گے تاکہ ملک بھر کی دیگر جامعات بھی اس ماڈل کو اپناتے ہوئے اپنے تعلیمی اور طبی معیار کو بلند کر سکیں۔

وزیراعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال کی اہم ملاقات: وزارت صحت کے جاری منصوبوں، وبائی امراض کی روک تھام اور مجموعی سیاسی صورتِ حال پر مفصل تبادلہِ خیال

کاشف عباسی , JULY 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے ایک اعلیٰ سطحی اور اہم ملاقات کی، جس میں وزارتِ قومی صحت کے زیرِ انتظام چلنے والے مختلف ترقیاتی امور، عوامی بہتری کے پالیسی اقدامات اور درپیش چیلنجز پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی گئی۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ باضابطہ اور انتظامی اعلامیے کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران وفاقی وزیر برائے قومی صحت نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو وزارت کے تحت ملک بھر میں جاری صحت کے فلاحی و بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور عام شہریوں کو موثر طبی امداد کی فراہمی سے متعلق آگاہ کیا۔ ملاقات کے ماحول میں جہاں شعبہ صحت کی کارکردگی مرکزی نقطہ رہی، وہیں ملک کی مجموعی اور موجودہ سیاسی صورتِ حال اور حکومتی پالیسیوں پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر سید مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم کو وزارتِ قومی صحت کی جانب سے ملک بھر میں مختلف وبائی و شدید بیماریوں کی روک تھام اور ان کے تدارک کے لیے اٹھائے گئے خصوصی اور ہنگامی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ پیش کی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وفاقی سطح پر صحت کے نظام میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت، ہسپتالوں میں ادویات کی بلا تعطل فراہمی اور بنیادی مراکزی صحت کو بہتر بنانے کے لیے حکمتِ عملی پر کام جاری ہے۔ وزیراعظم نے ہیلتھ سیکٹر کی کارکردگی میں بہتری لانے اور بیماریوں کے کنٹرول کے لیے جاری اقدامات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ عوام الناس کو معیاری، ارزاں اور جدید ترین طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کسر نہ چھوڑی جائے اور تمام جاری منصوبوں کو وقتِ مقررہ پر مکمل کیا جائے۔

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کا پمز ہسپتال کا دورہ: 200 بیڈز پر مشتمل زیرِ تکمیل جدید ایمرجنسی بلاک کا جائزہ، جلد فعال کرنے کا حکم

روزینہ اسماعیل, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد کا دورہ کر کے وہاں 200 بیڈز پر مشتمل زیرِ تعمیر جدید اور سٹیٹ آف دی آرٹ ایمرجنسی سینٹر کے ترقیاتی کاموں کا تفصیلی معائنہ کیا، جو اس وقت اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ دورے کے دوران پمز ہسپتال کی سینئر انتظامیہ اور انجینئرنگ ٹیموں نے وفاقی وزیر کو منصوبے کی موجودہ پیش رفت، فنی امور، جدید طبی آلات اور دستیاب سہولیات پر مفصل بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر صحت نے ہدایت کی کہ ایمرجنسی بلاک کی عمارت کی فنشنگ، صفائی ستھرائی اور تمام تر درپیش تکنیکی امور کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ اسے عوام الناس کے علاج معالجے کے لیے بلا تاخیر کھولا جا سکے۔ انہوں نے انتظامیہ کو منصوبے کا پی سی-فور کا عمل بھی تیز کرنے کی سخت تاکید کی۔ سید مصطفیٰ کمال نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پمز پر جڑواں شہروں اور گردونواح کے اضلاع سے آنے والے مریضوں کا شدید بوجھ ہے، اس لیے اس جدید ایمرجنسی سینٹر کا فعال ہونا وقت کی سب سے بڑی اور عاجلانہ ضرورت ہے۔

بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ اس جدید ایمرجنسی بلاک میں شدید زخمی اور تشویشناک حالت کے مریضوں کے لیے 30 بیڈز پر مشتمل جدید ترین سرجیکل آئی سی یو10 بیڈز پر مشتمل میڈیکل آئی سی یو، دو بڑے اور جدید آپریشن تھیٹرز جبکہ دو مائنر آپریشن تھیٹرز قائم کیے گئے ہیں جو ہنگامی بنیادوں پر بہترین طبی نگہداشت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اس کے بعد وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے تعاون سے پمز میں قائم کردہ پیڈیاٹرک (بچوں کے) ایمرجنسی سینٹر کا بھی معائنہ کیا اور وہاں زیرِ علاج بچوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات اور دیکھ بھال کے معیار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح اور سخت الفاظ میں ہدایت کی کہ معصوم بچوں کے علاج معالجے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور حکومت ہر ممکن وسائل فراہم کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے اس عزم کو دہرایا کہ وزارتِ صحت تمام سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے تمام ضروری اقدامات مسلسل جاری رکھے گی۔