

کاشف عباسی , August 05,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیرِ صدارت سی پیک منصوبہ جات جائزہ کمیٹی اور قومی سٹیئرنگ کمیٹی کا 91واں اہم اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی پیک کے تحت بنیادی ڈھانچے، توانائی، پیٹرولیم، آبی وسائل، خوراک و زراعت، مشترکہ ورکنگ گروپس (جے ڈبلیو جیز) اور خصوصی اقتصادی زونز پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ‘سی پیک 2.0’ پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے امکانات کے نئے باب کھول رہا ہے، جس سے پہلے مرحلے میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری کے ثمرات حاصل کیے جائیں گے۔ انہوں نے تمام وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ سی پیک 2.0 کی پانچ مرکزی راہداریوں—ترقی، روزگار، انوویشن، ماحول دوست ترقی اور علاقائی روابط—پر مبنی منصوبوں کو تیز رفتار اور مؤثر انداز میں نافذ کریں۔
اجلاس کے دوران بیجنگ میں پاکستان مشن اور مختلف ورکنگ گروپس کے کنوینرز نے 15ویں جوائنٹ کواپریشن کمیٹی کے آنے والے اجلاس کی تیاریوں سے آگاہ کیا۔
وفاقی وزیر نے کراچی کوسٹل کمپری ہینسو ڈویلپمنٹ زون منصوبے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارتِ بحری امور، حکومتِ سندھ اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کو ہدایت کی کہ چینی کمپنی کے ساتھ مل کر ایک ہفتے کے اندر تمام زیرِ التوا تکنیکی مسائل حل کریں تاکہ معاہدے صرف کاغذی حد تک نہ رہیں۔
چینی یونیورسٹیوں میں ایک ہزار زرعی گریجویٹس کی تربیت کے پروگرام کے حوالے سے وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ حاصل کردہ مہارتوں کو پاکستان کے زرعی شعبے کی جدید کاری، مصنوعی ذہانت پر مبنی زراعت، ڈیجیٹل ایکسٹینشن سروسز اور بائیو ٹیکنالوجی کے لیے استعمال کیا جائے اور اس کے لیے آئندہ 5 برسوں کا جامع روڈ میپ پیش کیا جائے۔
اجلاس میں گوادر پورٹ اور فری زون کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کے منصوبوں پر بھی غور کیا گیا۔ علاوہ ازیں، نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے قراقرم ہائی وے فیز II کے مالیاتی امور پر بریفنگ دی۔ احسن اقبال نے واضح کیا کہ 2028ء کی مقررہ مدت اہم ہے، اگر چین کی طرف سے مالیاتی منظوری میں تاخیر ہوئی تو دیامر بھاشا ڈیم کی جھیل کے باعث سڑک زیرِ آب آنے سے بچانے کے لیے پاکستان اپنے ملکی وسائل سے تعمیراتی کام کا آغاز کر دے گا۔
اجلاس میں وزارتِ خارجہ، داخلہ، مواصلات، پاور ڈویژن، پیٹرولیم ڈویژن، بورڈ آف انویسٹمنٹ، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور سی پیک سیکریٹریٹ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔