زاپوریژیا ایٹمی پاور پلانٹ کی ڈیزل سپلائی گاڑیوں پر یوکرینی حملہ، 2 روسی ہلاک: روس ایٹم کا سنسنی خیز الزام

Spread the love

محمود احمد, September 13,2026

ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

روس کے باضابطہ سرکاری جوہری ادارے ‘روس ایٹم’ (Rosatom) کے سربراہ الیکسی لیخاچیوف نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرینی فورسز نے یورپ کے سب سے بڑے زاپوریژیا ایٹمی پاور پلانٹ کو ہنگامی ڈیزل ایندھن فراہم کرنے والے ٹرکوں کو ایک مربوط ڈرون و فائرنگ حملے کا نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں 2 روسی فوجی موقع پر ہلاک اور متعدد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

الیکسی لیخاچیوف نے میڈیا نمائندگان کو بتایا کہ یہ منظم حملہ جمعہ کو زاپوریژیا ایٹمی پاور پلانٹ کی بیرونی حدود کے بالکل قریب اس وقت کیا گیا جب ڈیزل ایندھن سے بھرے ٹرک پلانٹ کی جانب جا رہے تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہلاک ہونے والے روسی سیکیورٹی اہلکار ان ٹرکوں کی بحفاظت ترسیل اور ایندھن کی فراہمی کے کام میں مدد فراہم کر رہے تھے۔

روسی ایٹمی ادارے کے سربراہ کے مطابق، اس حملے کا بنیادی مقصد پاور پلانٹ کی ایٹمی سلامتی اور ایمرجنسی پاور بیک اپ کو تباہ کرنا تھا۔ دوسری جانب، کیف (یوکرین) کی ملٹری یا سیاسی قیادت کی طرف سے اس مخصوص حملے کی تصدیق یا تردید پر مشتمل کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

واضح رہے کہ زاپوریژیا ایٹمی پاور پلانٹ پر فروری 2022ء سے روسی افواج کا کنٹرول ہے۔ 6 ری ایکٹرز پر مشتمل اس عظیم الجثہ پاور پلانٹ کے لیے ڈیزل ایندھن انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ اگر جنگ یا گولہ باری سے بیرونی بجلی کا گرڈ منقطع ہو جائے تو یہی ہنگامی ڈیزل جنریٹرز ایٹمی ریایکٹرز اور تابکار ایندھن کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ضروری بجلی فراہم کرتے ہیں۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی ٹیمیں زاپوریژیا پلانٹ پر مسلسل موجود ہیں اور ادارے نے متعدد بار خبردار کیا ہے کہ پلانٹ کے پاس عسکری کارروائیاں کسی بڑے عالمی ایٹمی حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر روس کے سرکاری ادارے ‘روس ایٹم’ کے سربراہ الیکسی لیخاچیوف کے بیانات پر مبنی ہے۔ زاپوریژیا پلانٹ کے ایندھن ٹرکوں پر حملے اور ہلاکتوں کے ان دعوؤں کی یوکرین کی جانب سے آزادانہ تصدیق یا موقف آنا ابھی باقی ہے۔

ماخذ: روس ایٹم (Rosatom) پریس اعلامیہ، تاس (TASS)، رائٹرز (Reuters)۔